افسنتین ہندی Artemisia vulgaris طبی فوائد استعمال اور پرھیز
افسنتین ہندی Artemisia vulgaris
طبی فوائد استعمال اور پرھیز
افسنتین ہندی (Artemisia vulgaris)
افسنتین ہندی طبِ یونانی اور روایتی ادویات میں ایک معروف بوٹی ہے۔ اسے مزاجاً گرم خشک تصور کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر نظامِ ہضم اور جگر کی اصلاح کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
طبی فوائد:
- معدہ اور ہضم: بھوک کی کمی کو دور کرتی ہے، معدے کو تقویت دیتی ہے اور ریاح (گیس) کو خارج کرتی ہے۔
- جگر اور تلی: جگر کے سدے (انسداد) کھولتی ہے اور جگر و تلی کی سوجن میں مفید ہے۔
- پیٹ کے کیڑے: پیٹ کے کیڑوں (خاص طور پر چمچے والے کیڑے) کو مار کر باہر نکالنے میں معاون ہے۔
- حیض کی باقاعدگی: خواتین میں حیض کی بندش یا باقاعدگی کو دور کرنے اور رحم کو صاف کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
- بخار: پرانے اور باری کے بخار (ملیریا وغیرہ) کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ہے۔
ترکیبِ استعمال:
- جوشاندہ (کاہڑہ): 3 سے 5 گرام افسنتین ہندی کو پانی میں ابال کر چھان لیں اور حسبِ ضرورت شہد یا ناگرموٹھا/سونف ملا کر نوش کریں۔
- سفوف: اسے باریک پیس کر دیگر ہضم آور بوٹیوں کے ساتھ سفوف کی شکل میں 1 سے 2 گرام کی مقدار میں لیا جا سکتا ہے۔
- طریقت: یہ بوٹی ذائقے میں نہایت کڑوی ہوتی ہے، اس لیے اسے اکثر مناسب مٹھاس یا دیگر اصلاحی بوٹیوں (مثلاً سونف یا گلاب کے پھول) کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔
احتیاط اور پرہیز:
- حاملہ خواتین: حاملہ خواتین اس کا بالکل استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ اسقاطِ حمل (miscarriage) کا سبب بن سکتی ہے۔
- دودھ پلانے والی مائیں: دودھ پلانے والی خواتین کو اس کے استعمال سے گریزیزی کرنی چاہیے۔
- زیادہ مقدار سے پرہیز: اس کی تیز اور گرم تاثر کی وجہ سے تجویز کردہ مقدار سے زیادہ یا طویل عرصے تک مسلسل استعمال نہ کریں، ورنہ یہ اعصاب اور گردوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
- گردے و مثانے کے مریض: گرم مزاج یا گردے کی سوزش والے افراد اسے کسی مصلح (مثلاً گوند کتیرا یا شربتِ بنفشہ) کے بغیر استعمال نہ کریں۔
AI HEALTH TABB E UNANI



تبصرے