آم کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز آم کے پتے (Mango Leaves) طبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ طبی کتب کے مطابق، آم کے پتوں میں وٹامنز (A, C, B)، اینٹی آکسیڈنٹس اور فینولک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں ان کے استعمال، فوائد اور پرہیز کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں آم کے پتوں اور ان کی راکھ کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: ذیابیطس (شوگر): آم کے پتوں کا جوشاندہ یا پتوں کا سفوف بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ یہ انسولین کی پیداوار کو متحرک کرتے ہیں۔ پتھری کا اخراج: پتوں کو سکھا کر بنایا گیا سفوف گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑنے اور خارج کرنے کے لیے مستعمل ہے۔ سانس کی بیماریاں: دمہ، کھانسی اور گلے کی سوزش میں پتوں کو پانی میں ابال کر غرارے کیے جاتے ہیں یا کاڑھا پیا جاتا ہے۔ جلنے کے نشانات یا زخم: تازے پتوں کی راکھ کو جلی ہوئی جلد یا زخموں پر لگانے سے فوری آرام ملتا ہے اور جلن کم ہوتی ہے۔ 2. طب نبوی ﷺ اور اسلامی روایات مستند طبی ذکر: طب نبوی ﷺ ...