اشاعتیں

QURAN S2-A40 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 40  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :56 اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یا بندہء خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے ، جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے ۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیشِ نظر رکھنا چاہیے : اوّلاً ، اس کا منشا یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی اُمت میں جو تھوڑے بہت لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جن میں خیر و صلاح کا عنصر موجود ہے ، انہیں اس صداقت پر ایمان لانے اور اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے جس کے ساتھ محمد ﷺ اٹھائے گئے تھے ۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اور یہ نبی وہی ...

QURAN S2-A39 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 39  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :54 آیات جمع ہے آیت کی ۔ آیت کے اصل معنی اس نشانی یا علامت کے ہیں جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے ۔ قرآن میں یہ لفظ چار مختلف معنوں میں آیا ہے ۔ کہیں اس سے مراد محض علامت یا نشانی ہی ہے ۔ کہیں آثارِ کائنات کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ مظاہرِ قدرت میں سے ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس ظاہری پردے کے پیچھے مستور ہے ۔ کہیں ان معجزات کو آیات کہا گیا ہے جو انبیاء علیہم السّلام لے کر آتے تھے ، کیونکہ یہ معجزے دراصل اس بات کی علامت ہوتے تھے کہ یہ لوگ فرمانروائے کائنات کے نمائندے ہیں ۔ کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے ، اس کے محض مضامین ہی میں نہیں ، اس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبادت تک میں اس کے جلیل القدر مصنّف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر جگہ عبارت کے سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں ’’ آیت “ کا لفظ کس معنی میں آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر ...