اشاعتیں

QURAN S2-A44 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI ۔۔۔ آیت: اَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ --- تفسیر (تشریح): یہ آیت خاص طور پر بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کر کے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تنبیہ فرما رہے ہیں جو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ 1️⃣ نیکی کی دعوت اور خود عمل نہ کرنا دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دینا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن اگر انسان خود اس پر عمل نہ کرے تو یہ سخت مذمت کا باعث بنتا ہے۔ یہ رویہ منافقت کے قریب ہے۔ 2️⃣ علم کی ذمہ داری آیت میں "تم کتاب پڑھتے ہو" کہہ کر بتایا گیا کہ علم رکھنے والوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ عالم، خطیب اور داعی اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو ان کا جرم عام آدمی سے زیادہ ہے۔ 3️⃣ عقل سے کام لینا "اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ" میں جھنجھوڑنے والا انداز ہے — یعنی کیا تم سوچتے نہیں کہ قول و فعل کا تضاد کتنا بڑا ...

QURAN S2-A43 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 43  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :59 نماز اور زکوۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں ۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی ۔ مگر یہودی ان سے غافل ہو چکے تھے ۔ نماز باجماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہو چکا تھا ۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہو چکی تھی ، اور زکوۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سود کھانے لگے تھے ۔ ISLAM360