اشاعتیں

QURAN S2-A51 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 51  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :67 مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے ، جو اب آزاد ہو چکی تھی ، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں ۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل ، کتابِ خروج ، باب 24 تا 31  ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :68 گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا ۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج ، باب 32  میں تفصیل کے ساتھ درج ہے ) ۔ ISLAM360  AI ..؟ 📖 سورۃ البقرہ — آیت 51 کا ترجمہ وَإِذْ وَعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ 📘 اور جب ہم نے موسیٰ...

QURAN S2-A50 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ – آیت 50 کی تفسیر آیت: وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ترجمہ: “اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا، پھر تمہیں نجات دی اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کر دیا۔” --- 🔎 شانِ نزول اور پس منظر یہ آیت بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یاد دلاتی ہے۔ جب وہ مصر میں فرعون کے ظلم و ستم کا شکار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے آیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں راستہ بن گیا اور بنی اسرائیل سلامتی سے گزر گئے، لیکن جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو پانی واپس آ گیا اور وہ سب غرق ہو گئے۔ --- ✨ اہم نکاتِ تفسیر 1️⃣ “فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ” اللہ تعالیٰ نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مفسرین کے مطابق پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ 2️⃣ “فَأَنْجَيْنَاكُمْ” یہ اللہ کی خاص نصرت اور مدد تھی۔ کمز...