اشاعتیں

QURAN S2-A60 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A58 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 58  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے ، وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے ۔ لہذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا ۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو ، جو یَریْحُو کے بالمقابل دریائے ارْدن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں ، جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کر دیے ۔ ( گنتی - باب 25 ، آیت 8-1 ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :75 یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھسنا ، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا ، جیسے حضرت محمد ﷺ فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے ۔ اور حِطَّۃٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہوئے جانا ، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی...

QURAN S2-A57 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 57  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :72 یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی ، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا ۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر ، سر چھپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے ۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا ، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :73 مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں ، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں ۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی ، جو اوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی ۔ اور سَلْویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے ۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پوری کی پوری قوم محض انہی غذاؤں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اٹھانی پڑی ، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں ، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ ( مَنّ اور سَلْو...

QURAN S2-A56 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 56  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :71 یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تھے ، تو آپ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور فرقان عطا کی ، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا ۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی ۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ : ” انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا سا تھا ، جو آسمان کی مانند شفاف تھا ۔ اور اس نے بنی اسرائیل کے شرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا ۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا ۔“ ( خرُوج ، باب 24 ، آیت 11-10 ) لطْف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے ، تو اس نے فرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکت...

QURAN S2-A55 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  📖 قرآن مجید — سورۃ البقرة (آیت 55) وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ ✨ “اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم اللہٰ کو آشکار طور پر نہ دیکھ لیں، تو تمہیں کڑک (صاعقہ) نے آ لیا جبکہ تم خود اسے دیکھ رہے تھے۔”  📌 مختصر مفہوم یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک واقعے کی یاد دہانی کرتی ہے، جب اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ایمان لانے کے لیے اللہٰ پر ایمان لاؤ، لیکن وہ ایمان نہ لائے اور شرط رکھی کہ جب تک اللہٰ کو کھل کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کی اس حالت میں صاعقہ (بجلی/کڑک) کے ذریعے انہیں پکڑا، جبکہ وہ خود اسے دیکھ رہے تھے۔  یہ آیت انسان کو ایمان کے حقیقی معنی یعنی غیب پر ایمان لانے اور اللہٰ کی قدرت و روحانیت کو تسلیم کرنے کا درس دیتی ہے — نہ کہ صرف ظاہری شکل و صورت دیکھنے تک ایمان محدود رکھنا۔ ۔۔۔؟

QURAN S2-A54 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 54  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :70 یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی ۔ AI --- 📖 قرآن - سورۃ البقرہ – آیت 54 عربی متن: وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُمْ بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُو۟ا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ‎ (ترجمہ نیچے)  ترجمہ (سہح یا معتبر اردو/انگلش): “اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بے شک تم نے خود پر ظلم کیا ہے باڑا (گوسالہ) پوجنے کے ذریعے، پس اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو، یہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے، پھر تمہاری توبہ قبول ہو گئی؛ بیشک وہ (اللہ) بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”  --- 📘 آیت کا سیاق و معنیٰ (context and meaning) 🔹 اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی کراتا ہے؛ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا ک...

QURAN S2-A53 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 53  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :69 فُرقَان: وہ چیز جس کے ذریعہ سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہو ۔ اردو میں اس کے مفہوم سے قریب تر لفظ ” کَسوَٹی “ ہے ۔ یہاں فرقان سے مراد دین کا وہ علم اور فہم ہے ، جس سے آدمی حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے ۔ ISLAM360  Ai۔۔؟ 📖 آیت (عربی + ترجمہ) وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور الفرقان (وہ جس سے حق و باطل میں فرق ہوتا ہے) دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ۔  📘 معنی و مفہوم 📌 الفرقان: قرآنِ مجید اور اس کے الفاظ میں فرقان کے معنی ہیں وہ چیز جو حق و باطل میں تمیز کرے — یعنی وہ علمی ہدایت جو انسان کو سچائی اور غلطی میں فرق سکھائے۔  📌 ہدایت کا مقصد: اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب (تورات) اور فرقان لوگوں کو دی تاکہ ان کے اعمال میں ہدایت آئے، یعنی وہ سچے راستے پر چلیں اور فلاح پائیں۔  📌 تفسیر میں حوالہ: تفسیریں بیان کرتی ہیں کہ اللہ نے بنی‌اسرائیل کو تورات عطا کی تاکہ وہ آگہی حاصل کر کے راہِ ہدایت پر آئیں۔  ۔۔؟

QURAN S2-A52 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI... 📖 سورہ البقرہ – آیت 52 (2:52) عربی: ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُو۟نَ ۚ  اردو ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔  English Translation (Meaning): “Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful.”  📌 وضاحت (مختصر مفہوم): یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے، جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں گوسالے کی پوجا شروع کر دی تھی، پھر جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ نے اپنے فضل و رحم سے انہیں بخش دیا، تاکہ وہ اس احسان پر شکر گزار بنیں۔  ۔۔؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿 📖 تفسیر سورۃ البقرہ – آیت 52 آیت: ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ --- 🔎 پس منظر (شانِ نزول) یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ضمن میں نازل ہوئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں...

QURAN S2-A51 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 51  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :67 مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے ، جو اب آزاد ہو چکی تھی ، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں ۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل ، کتابِ خروج ، باب 24 تا 31  ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :68 گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا ۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج ، باب 32  میں تفصیل کے ساتھ درج ہے ) ۔ ISLAM360  AI ..؟ 📖 سورۃ البقرہ — آیت 51 کا ترجمہ وَإِذْ وَعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ 📘 اور جب ہم نے موسیٰ...