اجوائن خراسانی (سائنسی نام: Hyoscyamus niger / انگریزی: Henbane) ایک انتہائی قوی، دافعِ درد اور مخدّر (سن کرنے والی) بوٹی ہے۔ اس کا مزاج سرد خشک (تیسرے درجے میں) ہوتا ہے۔ طب میں اس کے پتے اور بیج دونوں استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن اس کی قوی التاثیر اور زہریلی نوعیت کی وجہ سے اس کا استعمال انتہائی احتیاط کا طالب ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں اجوائن خراسانی کے پتوں کو بنیادی طور پر مسکن (درد رفع کرنے)، مخدر (بے حس کرنے) اور دافعِ تشنج (پٹھوں کے کھچاؤ کو دور کرنے) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: شدید درد اور جوڑوں کا ورم: پتوں کا ضماد (لیپ) یا تیل جوڑوں کے درد، نقرس، اور عرق النساء (لنگڑی کا درد) میں تسکین کے لیے مقامی طور پر لگایا جاتا ہے۔ بے خوابی اور جنون/دیوانگی: اس کے مسکن اعصاب اثر کی وجہ سے قدیم یونانی اطباء شدید بے خوابی اور ذہنی اضطراب میں اس کا بیرونی ضماد یا مقید مقدار میں استعمال کراتے تھے۔ دانت کا درد: پتوں یا بیجوں کا دھواں (بخور) دانت کے کیڑے اور شدید درد کو دور کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ دمہ اور بلغمی کھانسی: پھیپھڑوں کی نالیوں کی سوزش اور شدید کھانسی ...