اشاعتیں

اسپند طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسپند  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسپند (جسے عام زبان میں حرمل یا ہرمَل بھی کہا جاتا ہے) کو قديم اور روایتی ادویاتی نظاموں میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔ طب یونانی میں استعمال: محرکِ اعصاب: عرق النساء (لنگڑی کا درد)، فالج اور لرزہ جیسے اعصابی امراض میں فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ درد کش و سوزش سوز: جوڑوں کے درد اور ریاحی سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کا جوشانہ یا تیل مستعمل ہے۔ نظامِ ہضم: پیٹ کے کیڑے خارج کرنے اور پیٹ سے بادی گیس دور کرنے میں مددگار ہے۔ ایام کی باقاعدگی: حیض کی تنگی اور رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ طب نبوی ﷺ میں ذکر و مفہوم: بعض روایات اور روایتی طب کی کتابوں (जैसे ابونعیم اور ابن قیم کی تصانیف) میں حرمل کا ذکر ملتا ہے، جہاں اسے دافعِ امراض اور اعصابی تقویت کے لیے مفید بتایا گیا ہے۔ اسے بالعموم گھروں میں برکت، جراثیم کشی اور تعفن دور کرنے کے لیے دھونی (دھواں) دینے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ طب ہندی (آیوروید) میں استعمال: جراثیم کش (Antiseptic): زچگی کے بعد یا ہوا کو پاک کرنے کے لیے اس کی دھونی دی جاتی ہ...

اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو تلخ (Indarjao Talkh / Bitter Holarrhena) اندرجو تلخ کو طبِ قدیم میں ایک اہم مصفیٰ خون، قابض اور جراثیم کش جڑی بوٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ذائقے میں نہایت کڑوی ہونے کی وجہ سے اسے "تلخ" کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال ذیابیطس (شوگر): خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرنے اور لبلبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اندرجو تلخ کے پاؤڈر کو تخمِ جامن اور کریلے کے بیجوں کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا جاتا ہے۔ پیٹ کے کیڑے: اس کا تلخ اثر معدے اور انتڑیوں کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالنے میں معاون ہوتا ہے۔ اسہال اور پیچش (Diarrhea & Dysentery): انتڑیوں کے زخم اور پرانے پیچش کو روکنے کے لیے اس کا سفوف (پاؤڈر) پانی یا چھاچھ (لسی) کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جلد کی بیماریاں: مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے فورنسی، خارش اور داد جیسے امراض میں مفید ہے۔ طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال کُٹج (Kutaja): آیوروید میں اسے "کُٹج" کہا جاتا ہے، جو انتڑیوں اور ہضم کے نظام کی سوجن دور کرنے کی بہترین دوا سمجھی جا...

اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو شیریں ( Wrightia tinctoria ) ایک معروف طبی بوٹی کا بیج ہے جسے "اندرجو میٹھا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی قابض، مصفیٰ خون اور ضدِ ذیابیطس (anti-diabetic) خصوصیات کے باعث طب یونانی اور طب ہندی (آیور وید) میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ مختلف طبی نظاموں میں استعمال طب یونانی: ذیابیطس (شوگر): اندرجو شیریں کو بادام اور بھنے ہوئے چنوں کے ساتھ ہم وزن پیس کر پاؤڈر بنایا جاتا ہے۔ یہ خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت کو دور کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔ نظامِ ہضم اور پیچش: یہ معدہ اور آنتوں کو طاقت دیتا ہے، اسہال (ڈائریا) اور پیچش (Dysentery) کو روکنے کے لیے اس کا سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔ مصفیٰ خون: جگر کی اصلاح اور خون کی صفائی کے لیے یہ فوائد فراہم کرتا ہے جس سے جلدی امراض اور خارش میں افاقہ ہوتا ہے۔ طب ہندی (آیور وید): شوٹج (Kutaja) کے متبادل/معاون کے طور پر: آیور وید میں اسے پیٹ کے کیڑے ختم کرنے اور آنتوں کی سوزش (IBS) کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ...

انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز انجبار (Bistort / Polygonum bistorta) کی جڑ اپنے قابض (stypic) اور خون کو روکنے والے خواص کی وجہ سے مختلف طبی نظاموں میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں انجبار کی جڑ کو سرد خشک (مزاج: درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ روکنا: یہ جڑ خون کو جمانے اور روکنے (محبسِ دم) کے لیے سب سے مشہور ہے۔ بواسیر (پیچش/خونی بواسیر)، حیض کی زیادتی (کثرتِ حیض)، ناک سے خون بہنا (نکسیر) اور معدے یا آنتوں سے خون آنے کی صورت میں اس کا جوشاندہ یا سفوف دیا جاتا ہے۔ اسہال اور پیچش: قابض خصوصیات کی بنا پر پرانے اسہال (دست) اور مروڑ/پیچش کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زخم اور سوجن: منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کی سوجن کے لیے اس کے پانی سے غرارے اور کلیاں کرائی جاتی ہیں۔ معروف مرکب: طبِ یونانی میں شربتِ انجبار اور جوارشِ انجبار خون کے اخراج کو روکنے اور دل و معدہ کو تقویت دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ 2. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال آیوروید میں انجبار (جسے اکثر Amlav...

انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز   انجدان (Ferula foetida / Asafoetida Plant) انجدان ایک مشہور دواScript اور جڑی بوٹی کا پودا ہے، جس کی جڑوں اور تنے کے رس سے "ہینگ" (Asafoetida) حاصل کی جاتی ہے۔ یونانی اور اسلامی طب میں اسے ایک قوی اور موثر دوا کا درجہ حاصل ہے۔ طبِ یونانی میں انجدان کا استعمال طبِ یونانی کے مطابق انجدان کی جڑ اور اس کا گوند (ہینگ) دونوں دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مزاج میں گرم و خشک (تیسرے درجے میں) ہوتی ہے۔  * نظامِ ہضم کی اصلاح: یہ معدے کی برودت (ٹھنڈک)، بادی اور ریاح (گیس) کو تحلیل کرتی ہے۔ پیٹ کے درد، افارے اور قبض میں بے حد مفید ہے۔  * اعصابی و جوڑوں کی بیماریاں: فالج، لقوہ، راشہ اور جوڑوں کے درد میں اس کا لیپ یا جوشاندہ مفصلات کی سوجن اور درد کو دور کرتا ہے۔  * سانس کی بیماریاں: بلغم کو خارج کرنے، دمہ، پرانی کھانسی اور کالی کھانسی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔  * قوتِ باہ اور مادہ منویہ: یہ مقوی باہ ہے اور جسم میں بادی اثرات کو ختم کر کے حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔  * کرمِ شکم: پیٹ کے کیڑوں کو ...

انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز انجدان (Ferula foetida / Asafoetida Plant) انجدان ایک مشہور دواScript اور جڑی بوٹی کا پودا ہے، جس کی جڑوں اور تنے کے رس سے "ہینگ" (Asafoetida) حاصل کی جاتی ہے۔ یونانی اور اسلامی طب میں اسے ایک قوی اور موثر دوا کا درجہ حاصل ہے۔ طبِ یونانی میں انجدان کا استعمال طبِ یونانی کے مطابق انجدان کی جڑ اور اس کا گوند (ہینگ) دونوں دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مزاج میں گرم و خشک (تیسرے درجے میں) ہوتی ہے۔ نظامِ ہضم کی اصلاح: یہ معدے کی برودت (ٹھنڈک)، بادی اور ریاح (گیس) کو تحلیل کرتی ہے۔ پیٹ کے درد، افارے اور قبض میں بے حد مفید ہے۔ اعصابی و جوڑوں کی بیماریاں: فالج، لقوہ، راشہ اور جوڑوں کے درد میں اس کا لیپ یا جوشاندہ مفصلات کی سوجن اور درد کو دور کرتا ہے۔ سانس کی بیماریاں: بلغم کو خارج کرنے، دمہ، پرانی کھانسی اور کالی کھانسی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ قوتِ باہ اور مادہ منویہ: یہ مقوی باہ ہے اور جسم میں بادی اثرات کو ختم کر کے حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔ کرمِ شکم: پیٹ کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالتی ہے۔ طبِ...

انیسون دیسی طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انیسون دیسی طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز انیسون (جسے بادیان رومی یا ولایتی سونف بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف دیسی جڑی بوٹی ہے۔ اس کا سائنسی نام Pimpinella anisum ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی میں انیسون کا مزاج گرم و خشک (درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ کاسرِ ریاح (گیس کا خاتمہ): یہ پیٹ سے دیسی گیس اور اپھارہ دور کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ مقویِ معدہ و جگر: معدے اور جگر کی ضعیفی کو دور کر کے ہاضمہ درست کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔ منفثِ بلغم (بلغم کا اخراج): کھانسی، دمہ اور سینے کے بلغم کو خارج کرنے کے لیے جوشاندے کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ مدرِ بول و حیض: پیشاب اور حیض کی بندش کو کھولتا ہے اور گردے و مثانے کی سوجن میں نافع ہے۔ مفتحِ سدد: جسم کی نالیوں کے سدے (روکاوٹیں) کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں مقام اگرچہ انیسون کا صریح نام حدیث کی عام کتب میں کم ملتا ہے، لیکن اطبائے اسلام اور طبِ نبوی ﷺ کے شارحین (جیسے ابن القیم) نے بادیان/انیسون کو ان جڑی بوٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو معدے کی اصلاح اور ریاحی امراض کے علاج ...

اونٹ کٹارا کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

  اونٹ کٹارا کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز اونٹ کٹارا (Echinops echinatus / Blepharis edulis) جسے طبِ یونانی میں ایک اہم اور معروف جڑی بوٹی مانا جاتا ہے، کے پتے اور جڑیں اپنے خاص دواؤں والے خواص کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اونٹ کٹارا کے پتوں کا مزاج عام طور پر گرم و خشک تسلیم کیا جاتا ہے۔ گردہ و مثانہ کی پتھری: پتوں کا جوشاندہ یا عرق گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑ کر باہر نکالنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ مدرِ بول (Diuretic): یہ پیشاب آور ہے، جس سے پیشاب کی جلن، رکاوٹ اور مجاریِ بول کی سوجن کم ہوتی ہے۔ ورم اور سوزش کا خاتمہ: پتوں کو پیس کر گرم کرکے جسم کے متورم (سوجے ہوئے) حصوں یا جوڑوں کے درد پر لیپ کرنے سے سوزش اور درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ بلغم اور کھانسی: اس کے پتے بلغم کو خارج کرنے اور پرانی کھانسی و دمہ کے علاج میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جلدی امراض: پتوں کا رس یا پیسٹ خارش، پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کو صاف کرنے کے لیے بیرونی طور پر لگایا جاتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں ذکر اور استعمال ا...

ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز ایرسا (سوسن کی جڑ / Iris Root) طبِ یونانی اور طبِ نبوی ﷺ میں ایرسا (جسے سوسن یا زنبق کی جڑ بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف اور اہم دوا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی مزاجاً کیفیت عام طور پر گرم اور خشک (دوسرے درجے میں) تسلیم کی جاتی ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں ایرسا کی جڑ کو متعدد امراض کے علاج اور صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: نظامِ تنفس کی اصلاح: یہ بلغم کو خارج کرنے (مخرج بلغم) اور سداد (سدے) کھولنے کی بہترین دوا ہے۔ کھانسی، دمہ، اور سینے کی جکڑن میں اس کا قشاندا یا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔ ورم اور درد میں افاقہ: تحلیلِ ورم (سوجن ختم کرنے) کی خصوصیت کی وجہ سے جوڑوں کے درد، عرق النساء (لنگڑی کا درد) اور احشاء (اندرونی اعضاء) کے ورم میں اسے ضماداً (لیپ) یا مشروب کے طور پر دیا جاتا ہے۔ مقوی و منقی دماغ: سر درد، فالج اور لقوہ جیسی اعصابی بیماریوں میں دماغی سدے کھولنے کے لیے اس کا استعمال کرایا جاتا ہے۔ زخم اور جلد کی صفائی: اس کا پاؤڈر زخموں کو بھرنے، جلد کے داغ دھبے دور کرنے اور چرند پرند یا حشرات کے کاٹنے کے...

السیLinum usitatissimum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  السیLinum usitatissimum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز السی ( Linum usitatissimum ) جسے انگریزی میں Flaxseed یا Linseed کہا جاتا ہے، قدیم ترین طبی جڑی بوٹیوں اور اناج میں سے ایک ہے۔ مزاج اور طبی حیثیت مزاج: گرم درجہ دوم، تر درجہ اول (کچھ اطباء کے نزدیک گرم و خشک)۔ افعال: محلل (سوجن دور کرنے والی)، منضج (پکانے والی)، جالی (جلد صاف کرنے والی)، اور ملین (قبض کشا)۔ طب یونانی میں استعمال سینہ اور سانس کے امراض: السی کا جوشاندہ یا لعاب کھانسی، دمے، بلغم کی زیادتی اور حلق کی سوزش میں انتہائی مفید ہے۔ یہ بلغم کو نرم کر کے باہر نکالتی ہے۔ نظامِ ہضم اور قبض: السی کے بیجوں کو ہلکا بھون کر پیس کر استعمال کرنے سے پرانی قبض، معدے کی سوزش اور آنتوں کی خشکی دور ہوتی ہے۔ ورم اور سوجن (ضِماد/لیپ): السی کے سفوف کو گرم پانی یا دودھ میں ملا کر لیپ (Poultice) بنانے سے اندرونی و بیرونی ورم، پھوڑے اور سوجن تحلیل ہو جاتی ہے۔ جوڑوں کا درد: السی کے تیل (Flaxseed Oil) کی مالش سے جوڑوں کا درد، عرق النساء (Sciatica) اور عضلاتی جکڑن میں افاقہ ہوتا ہے۔ جلد اور بالوں کی دیکھ بھال: ا...