اشاعتیں

تصویر
  انیسون رومی (Pimpinella anisum)، جسے ولایتی سونف یا بادیان رومی بھی کہا جاتا ہے، قدیم ترین اور اہم ترین طبی جڑی بوٹیوں میں سے ایک ہے۔ ۱. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں انیسون رومی کا شمار اہم ادویات میں ہوتا ہے۔ مزاج: گرم ۲°، خشک ۲° (بعض اطباء کے نزدیک گرم و خشک ۳°)۔ افعال و خواص: مفتح سدد: جگر، تلی اور گردوں کی سدے (روکاوٹیں) کھولتی ہے۔ کاسر ریاح و محلل اورام: پیٹ کی گیس، افارہ اور ریاحی دردوں کو ختم کرتی ہے۔ ملیّن و مقویِ معدہ: معدہ اور انتڑیوں کو تقویت دیتی ہے اور هضم کو درست کرتی ہے۔ مدرِ بول و حیض: پیشاب اور حیض کی بندش کو دور کرتی ہے۔ منفی بلغم و سودا: سینے اور پھیپھڑوں سے بلغم کو خارج کرتی ہے، دمہ اور پرانی کھانسی میں مفید ہے۔ جلا و صفائی: جگر اور گردوں کی صفائی کر کے سوجن کو کم کرتی ہے۔ ۲. طب نبوی ﷺ اور اسلامی طب میں مقام اگرچہ احادیثِ مبارکہ میں لفظ "انیسون" کے صریح نام کے ساتھ روایات کم ملتی ہیں، لیکن اسلامی طب (طبِ اسلامی و طبِ نبوی) کے اطباء (مثلاً ابن القیمؒ، ابن سیناؒ اور الرازیؒ) نے اسے طبِ نبوی کے اصولوں کے مطابق بطورِ شفا بخش بوٹی کث...
تصویر
  عود صلیب (ان انگریزی میں: Common Peony / سائنسی نام: Paeonia officinalis ) طبِ یونانی، طبِ ہندی اور روایتی حکمت میں ایک انتہائی اہم اور معروف دوا ہے۔ اس کی جڑ کے ٹکڑے پر صلیب (کراس) یا چوکور لکیریں نما نشانات ہوتے ہیں، اسی مناسبت سے اسے 'عود صلیب' کہا جاتا ہے۔ حکیم صاحب! ذیل میں طبِ یونانی، طبِ ہندی اور طبِ نبوی ﷺ کے تناظر میں عود صلیب کے مزاج، فوائد، استعمال اور پرہیز کی تفصیلی معلومات پیشِ خدمت ہیں: ۱۔ ماہیت و مزاج مزاج: گرم و خشک (درجہ سوم)۔ پہچان: اس کی جڑ باہر سے بھوری اور اندر سے سخت ہوتی ہے۔ توڑنے پر اس پر صلیب نما لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ ذائقہ چرپرا (تیز) اور قدرے تلخ ہوتا ہے۔ ۲. طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی کے اطباء اسے اعصابی اور دماغی امراض کا اکسیر مانتے ہیں: امراضِ دماغ و اعصاب: عود صلیب کو مفتح (سدد کھولنے والی)، محلل اور مسکن ہونے کی وجہ سے مرگی (Epilepsy)، فالج، لقوہ، رعشہ (Tremors)، اور جنون میں بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ اختناق الرحم اور نسوانی امراض: عورتوں کے عصبانی امراض (جیسے اختناق الرحم) اور دردِ رحم کے لیے یہ مفید دوا ہے۔ ی...

💓 دل جوس 💓

 💓 دل جوس 💓  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 1.روغن زیتون اجمل دوا خانہ 100 گرام  2. لیموں دیسی کا رس 3. سرکہ سیب ھمدرد دواخانہ ایک شیشی  4. شہد ھمدرد دواخانہ  5. ادرک کا رس 6. لہسن کا رس  » طریقہ استعمال  سب چیزیں ہم وزن لے کر مکس کر لیں ۔ اور آگ پر دو تین ابال دیں ۔ پھر آگ سے اتار لیں ۔ ٹھنڈا کریں ۔  » خوراک ۔ دو بڑے چمچ صبح و شام کھانے سے پہلے دس منٹ  »  ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ  »   راج ویلفیئر مطب(دوا خانہ)🌙  حکیم عبد الغفار قصوری 

💓 دل 💓

 دل 💓  ھوالشافی  خمیرہ ابریشم حکیم ارشد 100 گرام  خمیرہ مروارید جواہر دار 100 گرام  دوالمسک جواہر دار 100 گرام  لبوب کبیر خاص 100 گرام  کشتہ جواہر مہرہ 3 گرام  ۔ ان سب کو اچھے سے مکس کر کے ایک چمچ صبح نہار منہ شہد ملا دودھ کے ساتھ ۔

چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں جواہرات اور معدنیات (خصوصاً چاندی) کو مقوی قلب، مفرح اور اعصاب کے لیے انتہائی مفید مانا گیا ہے۔ چاندی کا پانی (جسے عام طور پر ماہِ سیم یا آبِ نقرہ کہا جاتا ہے) بنانے کا طریقہ اور تینوں طبّی نظاموں میں اس کے استعمال اور پرہیز کی تفصیل ذیل میں درج ہے: ۱۔ چاندی کا پانی (آبِ نقرہ) بنانے کا طریقہ روایتی طبی کتب میں چاندی کا پانی یا کشتہ تیار کرنے کے مختلف طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ عام اور محفوظ طریقہ یہ ہے: خالص چاندی: تقریباً ایک تولہ یا دو تولہ خالص چاندی کا ورق یا ٹکڑا لیں۔ آگ پر تپانا: اسے کٹوری میں ڈال کر یا چمٹے کی مدد سے اچھی طرح سرخ کریں اور فوراً عرقِ گلاب، عرقِ کیوڑہ یا صاف پانی میں بجھکا (تھرمل شاک) دیں۔ عمل کا اعادہ: اس عمل کو کم از کم 7 سے 21 بار دہرائیں۔ ہر بار نیا عرق یا تازہ پانی استعمال کریں۔ نتیجہ: اس عمل سے چاندی کے طبی خواص پانی میں منتقل ہو جاتے ہیں اور یہ پانی قلبی اور دماغی کمزوری کے لیے انتہائی مفید دوا بن جاتا ہے۔ (نوٹ: خالص ...

القرآن طب نبوی

  القرآن  طب نبوی 1. ورس 2. قسط البحر ی برآے تپ دق 3. مرزبخوش 4. میتھی 5. روغن زیتون 6. نیم 7. رس 8. رسونت 9. حنظل 10. کونین۔ سٹرکین۔کلورومائ سین جدید 11. گلوکوز۔شہد۔فرکٹوس 12. سنگترہ 13. ادرک 14. گرما 15. سردا 16. پیپتہ 17. انناس 18. انجیر 19. ماہی شور 20. جوکادلیہ 21. تربوز 22. خربوزہ 23. شربت لیموں 24. شربت پودینہ 25. سرکہ 26. پیاز 27. انار 28. بہی 29. اطریفل اسخودوس 30. معجون نانخواہ 31. جوارِش جالینوس 32. عشبہ 33. فلفل 34. اطریفل زمانی 35. ادرک 36. صندل 37. سونف 38. سوے 39. شاہترہ 40. دم الاخوئن 41. دارچینی 42. زیرہ 43. لونگ 44. زرشک شیریں 45. اجوائن دیسی 46. پودینہ 47. افنستین 48. سارسپریلا 49. کچلہ 50. عشبہ 51. منڈی  52. رسونت 53. رس 54. نیم راج ویلفئیر مطب  حکیم عبدالغفار قصور

اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اود ہندی کا برادہ: تعارف، طبی استعمال اور پرہیز اود ہندی (Agarwood / Aloeswood / Aquilaria agallocha) ایک نہایت قیمتی، معطر اور مشہور دوا ہے جو طب کی مختلف تاریخوں (طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی/آیورووید) میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا برادہ (پاؤڈر یا باریک ریشہ) اپنے اندر بے شمار طبی خصوصیات رکھتا ہے۔ ۱. طب نبوی ﷺ میں اود ہندی کی اہمیت و استعمال احادیث مبارکہ میں اود ہندی (جسے عودِ ہندی یا قسطِ بحری/ہندی سے بھی نسبت دی جاتی ہے) کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے۔ ذات الجنب (پھیپھڑوں کی سوزش اور پسلی کا درد) کا علاج: حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "اس عودِ ہندی (اود ہندی) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات شفایں ہیں، جن میں سے ایک ذات الجنب (پسلی کا درد یا پھیپھڑوں کا انفیکشن) کی دوا ہے۔" (صحیح بخاری) گل و حلق کے امراض میں: حلق کی سوزش، ٹانسلز اور منہ کے امراض کے لیے اس کا دھواں یا اس کا سفوف استعمال کرنے کی روایت ملتی ہے۔ ۲. طب یونانی ...

HkP Picture

تصویر
  HkP   Picture 

آم کی گٹھلی کا مغز طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
آم کی گٹھلی کا مغز طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز آم کی گٹھلی کا مغز (Mango Seed Kernel / Aam ki Guthli ka Maghaz) ایک انتہائی قیمتی اور کارآمد جڑی بوٹی ہے، جسے روایتی طبی نظاموں میں صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی کے مطابق آم کی گٹھلی کا مغز مزاج کے اعتبار سے سرد اور خشک (عموماً درجہ دوم یا سوم) ہوتا ہے۔ یہ طاقتور قابض (Astringent)، ممسک اور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہے۔ اسہال (Diarrhea) اور پیچش (Dysentery): اس کا سفوف شدید موچن، اسہال اور خون کی پیچش کو بند کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سیلان الرحم (Leucorrhea) اور حیض کی زیادتی: خواتین میں سفید پانی کے اخراج اور ماہواری کے دوران ضرورت سے زیادہ خون آنے کو اعتدال پر لانے کے لیے اس کا سفوف کھلایا جاتا ہے۔ منہ کے چھالے اور مسوڑھے: اس کے جوشاندے سے غرارے کرنے یا مغز کو باریک پیس کر مسوڑھوں پر لگانے سے منہ کے چھالے، مسوڑھوں سے خون آنا اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔ پیٹ کے کیڑے: بچوں اور بڑوں میں پیٹ کے کیڑوں کے اخراج کے لیے اس کا استعمال کروایا ج...

ٹنڈ گنجہ پن

تصویر
ٹنڈ گنجہ پن  13.10.2026 start... #ghaffar1466  #AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466  a RahmatULLAH