اشاعتیں

QURAN S2-A38 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 38  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :53 اس فقرے کا دوبارہ اعادہ معنی خیز ہے ۔ اوپر کے فقرے میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدم نے توبہ کی اور اللہ نے قبول کر لی ۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدم اپنی نافرمانی پر عذاب کے مستحق نہ رہے ۔ گناہ گاری کا جو داغ ان کے دامن پر لگ گیا تھا وہ دھو ڈالا گیا ۔ نہ یہ داغ ان کے دامن پر رہا ، نہ ان کی نسل کے دامن پر اور نہ اس کی ضرورت پیش آئی کہ معاذ اللہ ! خدا کو اپنا اکلوتا بھیج کر نوعِ انسانی کا کفّارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھوانا پڑتا ۔ برعکس اس کے اللہ نے آدم علیہ السّلام کی توبہ ہی قبول کرنے پر اکتفا نہ فرمایا ، بلکہ اس کے بعد انہیں نبوّت سے بھی سرفراز کیا ، تاکہ وہ اپنی نسل کو سیدھا راستہ بتا کر جائِں ۔ اب جو جنت سے نکلنے کا حکم پھر دہرایا گیا ، تو اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قبولِ توبہ کا یہ مقتضی نہ تھا کہ آدم کو جنت ہی میں رہنے دیا جاتا اور زمین پر نہ اتارا جاتا ۔ زمین ان کے لیے دارالعذاب نہ تھی ، وہ یہاں سزا کے طور پر نہیں اتارے گئے ، بلکہ انہیں زمین کی خلافت ہی کے لیے پیدا کیا گیا تھا ۔ جنت ان کی اصلی جائے قیام نہ تھی ۔ وہاں س...

QURAN S2-A37 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 37  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :51 یعنی آدم کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا اور انہوں نے نافرمانی سے پھر فرماں برداری کی طرف رجوع کرنا چاہا ، اور ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اپنے رب سے اپنی خطا معاف کرائیں ، تو انہیں وہ الفاظ نہ ملتے تھے جن کے ساتھ وہ خطا بخشی کے لیے دعا کر سکتے ۔ اللہ نے ان کے حال پر رہم فرما کر وہ الفاظ بتا دیے ۔ توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں ۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا ، طریقِ بندگی کی طرف پلٹ آیا ۔ اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجّہ ہو گیا ، پھر سے نظرِ عنایت اس کی طرف مائل ہو گئی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :52 قرآن اس نظریّے کی تردید کرتا ہے کہ گناہ کے نتائج لازمی ہیں ، اور وہ بہرحال انسان کو بھگتنے ہی ہوں گے ۔ یہ انسان کے اپنے خود ساختہ گمراہ کن نظریّات میں سے ایک بڑا گمراہ کن نظریہ ہے ، کیونکہ جو شخص ایک مرتبہ گناہ گارانہ زندگی میں مبتلا ہو گیا ، اس کو یہ نظریّہ ہمیشہ کے لیے مایوس کر دیتا ہے ، اور اگر اپنی غلطی پر متنبّہ ہونے...