اشاعتیں

QURAN S2-A59 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI۔۔؟ --- سورۃ البقرہ آیت 59 کی تفسیر، ترجمہ اور سبق سورۃ البقرہ آیت 59 عربی متن: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ اردو ترجمہ پھر جو لوگ ظالم تھے انہوں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ --- آیت کا پس منظر یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے ایک واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ جب وہ شہر میں داخل ہوں تو عاجزی کے ساتھ داخل ہوں اور "حِطَّةٌ" (یعنی اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما) کہیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا اور مذاق کے انداز میں دوسرے الفاظ کہنے لگے۔ اس نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے عذاب نازل فرمایا۔ --- تفسیر (مختصر وضاحت) مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ لیکن انہوں نے حکم کو بدل کر نافرما...

QURAN S2-A58 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 58  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے ، وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے ۔ لہذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا ۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو ، جو یَریْحُو کے بالمقابل دریائے ارْدن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں ، جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کر دیے ۔ ( گنتی - باب 25 ، آیت 8-1 ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :75 یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھسنا ، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا ، جیسے حضرت محمد ﷺ فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے ۔ اور حِطَّۃٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہوئے جانا ، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی...