الائچی کلاں کے بیچ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
الائچی کلاں کے بیچ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز الائچی کلاں (بڑی الائچی یا کالی الائچی) کے بیج طبی خواص، تجارتی قدر اور ادویاتی اثرات کا بنیادی سرچشمہ ہیں۔ ان کا مزاج گرم ۳ درجہ اور خشک ۲ درجہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں الائچی کلاں کے بیجوں کو مقوی معدہ ، کاسر ریاح (گیس خارج کرنے والی) اور مقوی قلب تصور کیا جاتا ہے۔ نظام ہضم اور معدہ: ریاح (گیس)، نفخ (پیٹ کا پھولنا)، قے، متلی، اور بدہضمی کو دور کرنے کے لیے سفوف یا جوارشات میں شامل کیے جاتے ہیں۔ قلب و اعصاب: مقوی قلب مفرح ادویات میں شامل کر کے ضعفِ قلب اور خفقان (دل کی دھڑکن تیز ہونا) کو تسکین دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ نظام تنفس: بلغمی کھانسی، دمہ، اور بلغم کو چھانٹنے کے لیے ان کے بیجوں کا جوشاندہ یا سفوف مفید مانا جاتا ہے۔ منہ کی بدبو: ان کے بیج چبانے سے منہ کی تعفن اور بدبو ختم ہوتی ہے اور مسوڑھوں کو تقویت ملتی ہے۔ ۲. طب نبوی ﷺ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی طبِ نبوی ﷺ کے احادیثی اور روایتی ذخیرے میں عمومی طور پر "قاقلہ" (الائچی) کا ذکر ملتا ہے۔ متقد...