اشاعتیں

اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسارون (Asarabacca / Indian Valerian) ایک معروف جڑی بوٹی کی جڑ ہے جو قدیم ادویاتی نظاموں میں بڑی اہم حامل ہے۔ مزاج: گرم و خشک (تیسرے درجے میں)۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسارون کو ایک قوی مقوی اور محلل دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دماغی و اعصابی امراض: فالج، لقوہ، صرع (مرگی)، نسیان (بُھولنے کی بیماری) اور اعصابی کمزوری میں فائدہ مند ہے۔ جگر اور تلی: جگر کے سدے (انسداد) کھولتی ہے، یرقان میں مفاد پہنچاتی ہے اور جگر و تلی کی سوجن کو دور کرتی ہے۔ مجاریِ بول و حیض: مدرِ بول (پیشاب آور) اور مدرِ حیض ہے؛ گردے اور مثانے کی پتھریوں کو توڑ کر نکالنے اور احتباسِ حیض (قاعدگی کی رکاوٹ) کو دور کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ مفاصل اور درد: عرق النساء (سیاٹیکا)، جوڑوں کے درد اور نقرس میں مفید ہے۔ 2. طبِ نبوی ﷺ اور اسلامک طب طبِ نبوی ﷺ کے روایتی صحائف اور اسلامی طب کی کتابوں میں اس کے استعمالات طبِ یونانی کے بنیادی اصولوں کے تحت بیان کیے گئے ہیں: احتباسِ حیض اور پیشاب کی بندش: پیشاب اور حیض کو جاری کرنے کے لی...

پاکستان اور ہندوستان میں جڑی بوٹیوں کی لسٹ حروف تہجی میں فہرست سے حصہ 1: الف (150–250 نام)

پاکستان اور ہندوستان میں جڑی بوٹیوں کی لسٹ حروف تہجی میں فہرست سے حصہ 1: الف (150–250 نام)  پاکستان اور ہندوستان کے روایتی طریقہ علاج (طبِ یونانی اور آیوروید) میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں، پودوں اور ان کے مختلف حصوں کی حروفِ تہجی کے لحاظ سے ترتیب دی گئی فہرست درج ذیل ہے۔ یہ حصہ 1 ہے، جس میں صرف حرف "الف" (ا / آ) سے شروع ہونے والے 150 سے زائد مستند نام شامل کیے گئے ہیں تاکہ آپ کی ضرورت کے مطابق ایک جامع گائیڈ فراہم کی جا سکے۔ حصہ 1: حرفِ الف (ا — آ) سے جڑی بوٹیوں کی فہرست نمبر شمار جڑی بوٹی / پودے کا نام انگریزی / نباتیاتی نام (مثال) طبی استعمال کا حصہ 1 آک (مدار) Calotropis procera پتے، جڑ، دودھ 2 آکاش بیل (امر بیل) Cuscuta reflexa پوری بوٹی 3 آلو بخارا Prunus domestica پھل 4 آلوچہ Prunus insititia پھل 5 آملہ Phyllanthus emblica پھل (خشک و تازہ) 6 آملہ مقشر Cleaned Emblic Myrobalan گٹھلی کے بغیر پھل 7 آم (انبہ) Mangifera indica چھال، گٹھلی، پتے 8 آمبہ ہلدی Curcuma amada جڑ (گرہ) 9 ابہل (جونیپر بیری) Juniperus communis پھل / بیج 10 ابریشم (پیلو کا کویا) Bom...

ADMISSIONS BEMS

تصویر
 

شوگر جوس ۔ کریلہ دیسی خام بعمہ چھلکہ 50 گرام ادرک خام بعمہ چھلکہ 20 گرام ۔ پودینہ دیسی 1 گھٹلی ۔ لیموں دیسی 1 عدد ۔ کالا نمک 3 گرام طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  شوگر جوس  ۔ کریلہ دیسی خام بعمہ چھلکہ 50 گرام  ادرک خام بعمہ چھلکہ 20 گرام  ۔ پودینہ دیسی  1 گھٹلی  ۔ لیموں دیسی  1 عدد  ۔ کالا نمک 3 گرام  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز یہ شوگر (ذیابیطس) کے لیے ایک بہترین قدرتی اور روایتی نسخہ ہے۔ کریلہ، ادرک، پودینہ اور لیموں کا یہ مرکب نہ صرف خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ نظامِ ہضم اور جگر کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ طریقہ استعمال اور وقت طریقہ تیاری: کریلہ اور ادرک کو چھلکے سمیت دھو کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پودینہ اور تھوڑا سا پانی ملا کر بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اور چھان لیں۔ اس میں لیموں کا رس اور کالا نمک شامل کریں۔ وقت: روزانہ صبح نہار منہ (خالی پیٹ) ایک گلاس تازہ پیئیں۔ مدت: 21 سے 30 دن مسلسل استعمال کریں اور باقاعدگی سے بلڈ شوگر چیک کرتے رہیں۔ مختلف طبی طریقوں کے مطابق افادیت طبی نظام مزاج / اصول افادیت و خصائص طبِ یونانی گرم خشک (بوجہ ادرک و پودینہ) اور سرد خشک (بوجہ کریلہ) لبلبہ (Pancreas) کو فعال کرتا ہے، انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے ا...

ریحی بادی والے پھلوں سبزیوں اور گوشت طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
ریحی  بادی  والے  پھلوں  سبزیوں  اور گوشت  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز   طب یونانی، طب نبوی ﷺ، اور طب ہندی (آیوروید) میں ریحی یا بادی (جس سے پیٹ میں گیس، ترشی، اپھارہ، اور جوڑوں میں درد پیدا ہوتا ہے) اثرات رکھنے والی غذاؤں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ان تمام طبّی نظاموں میں بادی مزاج والی غذاؤں کا متوازن استعمال اور ضرورت کے وقت ان سے پرہیز صحت کی بحالی کے لیے بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ بادی / ریحی غذاؤں کی تفصیل (پھل، سبزیاں، گوشت) غذائی زمرہ بادی / ریحی اشیاء (جن سے پرہیز یا احتیاط ضروری ہے) بادی اثر کو ختم کرنے والے تدابیر / متبادل پھل کیلا، جامن، آم (کچا یا زیادہ مقدار میں)، آلوچہ، خربوزہ (غیر متوازن کھانا) ادرک، شہد یا ہلکا نمک/کالی مرچ لگا کر استعمال کریں۔ سبزیاں گوبھی، بند گوبھی، آلو، اروی، بھنڈی، مٹر، چنا، لوبیا، دال ماش پکاتے وقت ادرک، لہسن، زیرہ، اجوائن، اور دارچینی کا استعمال کریں۔ گوشت بڑا گوشت (گائے/بھینس)، مچھلی (خصوصاً کھڑے پانی کی)، بطخ کا گوشت دارچینی، لونگ، اور دیسی گھی کے ساتھ خوب پکا کر استعمال کریں۔ ت...

اسپغول مسلم بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسپغول مسلم بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسپغول مسلم سے مراد اسپغول کا پورا اور سالم بیج (Whole Psyllium Seed) ہے، یعنی بغیر چھلکا اتارے یا پیسے ہوئے بیج۔ مختلف ادویاتی نظاموں میں اس کے استعمال کی تفصیل درج ذیل ہے: طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسپغول کا مزاج سرد و تر (درجہ دوم) مانا جاتا ہے۔ آنتوں کی اصلاح اور قبض/اسہال: یہ اپنی لعاب دار (mucilaginous) خصوصیت کے باعث آنتوں کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ قبض کی صورت میں اسے پانی کے ساتھ لیا جاتا ہے اور پیچش یا دست کی حالت میں دہی/چھاش کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ معدے کی تیزابیت اور جلن: پیٹ اور معدے کی حرارت کو سکون دیتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔ جریان و احتلام: منی کو گاڑھا کرنے اور مردانہ مسائل کی اصلاح کے لیے یونانی حکماء اسے دودھ اور مصری کے ساتھ استعمال کرواتے ہیں۔ خارجی استعمال (ضماد/لیپ): بیجوں کو پانی میں بھگو کر بننے والے لعاب کو پیشانی پر لگانے سے گرمی کے دردِ سر اور جسمانی ورم یا سوزش پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں مقام احادیثِ مبارکہ میں اسپغول کا صریح (مستقی...

اسپند طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسپند  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسپند (جسے عام زبان میں حرمل یا ہرمَل بھی کہا جاتا ہے) کو قديم اور روایتی ادویاتی نظاموں میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔ طب یونانی میں استعمال: محرکِ اعصاب: عرق النساء (لنگڑی کا درد)، فالج اور لرزہ جیسے اعصابی امراض میں فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ درد کش و سوزش سوز: جوڑوں کے درد اور ریاحی سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کا جوشانہ یا تیل مستعمل ہے۔ نظامِ ہضم: پیٹ کے کیڑے خارج کرنے اور پیٹ سے بادی گیس دور کرنے میں مددگار ہے۔ ایام کی باقاعدگی: حیض کی تنگی اور رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ طب نبوی ﷺ میں ذکر و مفہوم: بعض روایات اور روایتی طب کی کتابوں (जैसे ابونعیم اور ابن قیم کی تصانیف) میں حرمل کا ذکر ملتا ہے، جہاں اسے دافعِ امراض اور اعصابی تقویت کے لیے مفید بتایا گیا ہے۔ اسے بالعموم گھروں میں برکت، جراثیم کشی اور تعفن دور کرنے کے لیے دھونی (دھواں) دینے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ طب ہندی (آیوروید) میں استعمال: جراثیم کش (Antiseptic): زچگی کے بعد یا ہوا کو پاک کرنے کے لیے اس کی دھونی دی جاتی ہ...

اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو تلخ (Indarjao Talkh / Bitter Holarrhena) اندرجو تلخ کو طبِ قدیم میں ایک اہم مصفیٰ خون، قابض اور جراثیم کش جڑی بوٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ذائقے میں نہایت کڑوی ہونے کی وجہ سے اسے "تلخ" کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال ذیابیطس (شوگر): خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرنے اور لبلبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اندرجو تلخ کے پاؤڈر کو تخمِ جامن اور کریلے کے بیجوں کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا جاتا ہے۔ پیٹ کے کیڑے: اس کا تلخ اثر معدے اور انتڑیوں کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالنے میں معاون ہوتا ہے۔ اسہال اور پیچش (Diarrhea & Dysentery): انتڑیوں کے زخم اور پرانے پیچش کو روکنے کے لیے اس کا سفوف (پاؤڈر) پانی یا چھاچھ (لسی) کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جلد کی بیماریاں: مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے فورنسی، خارش اور داد جیسے امراض میں مفید ہے۔ طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال کُٹج (Kutaja): آیوروید میں اسے "کُٹج" کہا جاتا ہے، جو انتڑیوں اور ہضم کے نظام کی سوجن دور کرنے کی بہترین دوا سمجھی جا...

اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو شیریں ( Wrightia tinctoria ) ایک معروف طبی بوٹی کا بیج ہے جسے "اندرجو میٹھا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی قابض، مصفیٰ خون اور ضدِ ذیابیطس (anti-diabetic) خصوصیات کے باعث طب یونانی اور طب ہندی (آیور وید) میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ مختلف طبی نظاموں میں استعمال طب یونانی: ذیابیطس (شوگر): اندرجو شیریں کو بادام اور بھنے ہوئے چنوں کے ساتھ ہم وزن پیس کر پاؤڈر بنایا جاتا ہے۔ یہ خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت کو دور کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔ نظامِ ہضم اور پیچش: یہ معدہ اور آنتوں کو طاقت دیتا ہے، اسہال (ڈائریا) اور پیچش (Dysentery) کو روکنے کے لیے اس کا سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔ مصفیٰ خون: جگر کی اصلاح اور خون کی صفائی کے لیے یہ فوائد فراہم کرتا ہے جس سے جلدی امراض اور خارش میں افاقہ ہوتا ہے۔ طب ہندی (آیور وید): شوٹج (Kutaja) کے متبادل/معاون کے طور پر: آیور وید میں اسے پیٹ کے کیڑے ختم کرنے اور آنتوں کی سوزش (IBS) کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ...

انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز انجبار (Bistort / Polygonum bistorta) کی جڑ اپنے قابض (stypic) اور خون کو روکنے والے خواص کی وجہ سے مختلف طبی نظاموں میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں انجبار کی جڑ کو سرد خشک (مزاج: درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ روکنا: یہ جڑ خون کو جمانے اور روکنے (محبسِ دم) کے لیے سب سے مشہور ہے۔ بواسیر (پیچش/خونی بواسیر)، حیض کی زیادتی (کثرتِ حیض)، ناک سے خون بہنا (نکسیر) اور معدے یا آنتوں سے خون آنے کی صورت میں اس کا جوشاندہ یا سفوف دیا جاتا ہے۔ اسہال اور پیچش: قابض خصوصیات کی بنا پر پرانے اسہال (دست) اور مروڑ/پیچش کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زخم اور سوجن: منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کی سوجن کے لیے اس کے پانی سے غرارے اور کلیاں کرائی جاتی ہیں۔ معروف مرکب: طبِ یونانی میں شربتِ انجبار اور جوارشِ انجبار خون کے اخراج کو روکنے اور دل و معدہ کو تقویت دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ 2. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال آیوروید میں انجبار (جسے اکثر Amlav...