الائچی کلاں (بڑی الائچی یا کالی الائچی) کے بیج طبی خواص، تجارتی قدر اور ادویاتی اثرات کا بنیادی سرچشمہ ہیں۔ ان کا مزاج گرم ۳ درجہ اور خشک ۲ درجہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ۱. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں الائچی کلاں کے بیجوں کو مقوی معدہ ، کاسر ریاح (گیس خارج کرنے والی) اور مقوی قلب تصور کیا جاتا ہے۔ نظام ہضم اور معدہ: ریاح (گیس)، نفخ (پیٹ کا پھولنا)، قے، متلی، اور بدہضمی کو دور کرنے کے لیے سفوف یا جوارشات میں شامل کیے جاتے ہیں۔ قلب و اعصاب: مقوی قلب مفرح ادویات میں شامل کر کے ضعفِ قلب اور خفقان (دل کی دھڑکن تیز ہونا) کو تسکین دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ نظام تنفس: بلغمی کھانسی، دمہ، اور بلغم کو چھانٹنے کے لیے ان کے بیجوں کا جوشاندہ یا سفوف مفید مانا جاتا ہے۔ منہ کی بدبو: ان کے بیج چبانے سے منہ کی تعفن اور بدبو ختم ہوتی ہے اور مسوڑھوں کو تقویت ملتی ہے۔ ۲. طب نبوی ﷺ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی طبِ نبوی ﷺ کے احادیثی اور روایتی ذخیرے میں عمومی طور پر "قاقلہ" (الائچی) کا ذکر ملتا ہے۔ متقدمین اطباء اور شارحینِ طبِ نبوی (مثلاً علامہ ابن القیمؒ اور حافظ ذہبیؒ) نے اس ...