اروی کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اروی کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اروی (Taro Root) ایک غذائیت سے بھرپور جڑ ہے جس کے طبی استعمالات اور پرہیز مختلف طبی نظاموں کے مطابق مندرجہ ذیل ہیں: ۱. طب یونانی (Unani Medicine) مزاج: سرد اور تر (درجہ دوم) [کچھ اطباء کے نزدیک معتدل مائل بہ رطوبت]۔ فوائد و استعمال: مقوی و مغلظ: منی کو گاڑھا کرتی ہے اور قوت باہ میں اضافہ کرتی ہے۔ مدرِ بول (پشاب آور): گردوں کے افعال کو بہتر بناتی ہے اور پیشاب آور ہے۔ خشکی کا خاتمہ: جسم اور جلد کی خشکی، آنتوں کی خراش اور قبض کو دور کرتی ہے۔ سینہ اور گلا: خشک کھانسی اور سینے کی کھردراہٹ کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔ پرہیز و تدابیر (طب یونانی کے مطابق): دیر ہضم اور بادی (گیس پیدا کرنے والی) ہے، اس لیے بلغم، سوداوی مزاج، دائمی قبض، اور معدے کی کمزوری والے افراد اس کا زیادہ استعمال نہ کریں۔ اصلاح: اس کی بادی پیش کرنے اور ہضم میں مدد کے لیے اسے اجوائن، ادرک، گرم مصالحہ، یا لیموں کا رس ملا کر پکانا چاہیے۔ ۲. طب نبوی ﷺ (Tibb-e-Nabawi) شرعی و طبی حیثیت: اروی (یا Taro Root) کا ذکر صریح حدیثِ مبارکہ میں ...