اشاعتیں

تصویر
  اجوائن خراسانی (سائنسی نام: Hyoscyamus niger / انگریزی: Henbane) ایک انتہائی قوی، دافعِ درد اور مخدّر (سن کرنے والی) بوٹی ہے۔ اس کا مزاج سرد خشک (تیسرے درجے میں) ہوتا ہے۔ طب میں اس کے پتے اور بیج دونوں استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن اس کی قوی التاثیر اور زہریلی نوعیت کی وجہ سے اس کا استعمال انتہائی احتیاط کا طالب ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں اجوائن خراسانی کے پتوں کو بنیادی طور پر مسکن (درد رفع کرنے)، مخدر (بے حس کرنے) اور دافعِ تشنج (پٹھوں کے کھچاؤ کو دور کرنے) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: شدید درد اور جوڑوں کا ورم: پتوں کا ضماد (لیپ) یا تیل جوڑوں کے درد، نقرس، اور عرق النساء (لنگڑی کا درد) میں تسکین کے لیے مقامی طور پر لگایا جاتا ہے۔ بے خوابی اور جنون/دیوانگی: اس کے مسکن اعصاب اثر کی وجہ سے قدیم یونانی اطباء شدید بے خوابی اور ذہنی اضطراب میں اس کا بیرونی ضماد یا مقید مقدار میں استعمال کراتے تھے۔ دانت کا درد: پتوں یا بیجوں کا دھواں (بخور) دانت کے کیڑے اور شدید درد کو دور کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ دمہ اور بلغمی کھانسی: پھیپھڑوں کی نالیوں کی سوزش اور شدید کھانسی ...

راج ویلفیئر مطب (دوا خانہ) 🌙 حکیم عبدالغفار قصوری مشورہ فی سبیل اللّٰہ مفت ( فری ) یومیہ ایک دن کی دوائی کا خرچہ 300 روپے +923064342541 قصور شہر پنجاب پاکستان رعشہ۔ فالج۔ اٹھراء۔جنسی امراض اور ھیپاٹائٹس کا خصوصی علاج کیاجاتاھے ۔

تصویر
 راج ویلفیئر مطب (دوا خانہ) 🌙 حکیم عبدالغفار قصوری  مشورہ فی سبیل اللّٰہ مفت ( فری ) یومیہ ایک دن کی دوائی کا خرچہ 300 روپے  +923064342541  قصور شہر پنجاب پاکستان   رعشہ۔ فالج۔ اٹھراء۔جنسی امراض اور ھیپاٹائٹس کا خصوصی علاج کیاجاتاھے ۔ خرچہ 300 روپے  #ghaffar1466  #AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

القرآن حصول اولاد

حصول اولاد القرآن  رب لا تذرنی فرداً وآنت خیرالوارثین {الانبیاء 89} 

اجمود کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اجمود کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اجمود (انگریزی: Celery / Apium graveolens) ایک معروف اور مؤثر طبی جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے، بیج اور جڑیں مختلف ادویاتی نظاموں میں کارآمد سمجھی جاتی ہیں۔ 1. طب یونانی میں اجمود کے پتے یونانی طب میں اجمود کو حار و یابس (گرم و خشک) مزاج کی حامل جڑی بوٹی شمار کیا جاتا ہے۔ خواص و فوائد: مفتح سدد: جگر، تلی اور گردوں کی سدد (رکاوٹوں) کو کھولتا ہے۔ مدرِ بول و حیض: پیشاب آور ہے اور خواتین کے احتباسِ حیض (حیض کا رک جانا) میں مفید ہے۔ محللِ ریاح: پیٹ کے افارے، گیس اور ریاحی دردوں کو ختم کرتا ہے۔ مقویِ معدہ و جگر: ہضم کو درست کرتا ہے اور جگر کی ضعف کو دور کرتا ہے۔ طریقہ استعمال: پتوں کا جوشاندہ (کاڑھا) بنا کر پیا جاتا ہے یا تازہ پتوں کا رس 10 تا 15 ملی لیٹر حسبِ ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔ 2. طب نبوی ﷺ اور اطبائے اسلام کی نظر میں طب نبوی ﷺ اور قدیم اسلامی طب کے مآخذ (مثلاً ابن القیمؒ اور ابن سیناؒ کی تحاریر) میں اجمود (جسے عربی میں کرِفس کہا جاتا ہے) کا ذکر مختلف فوائد کے ساتھ ملتا ہے: فوائد و علاج: انسدادِ...

دھماں ۔۔ دھماسہ

تصویر
 دھماں ۔۔ دھماسہ
تصویر
  ادخر (جسے انگریزی میں Camel Grass / Lemon Grass کی ایک قسم اور سائنسی نام Cymbopogon schoenanthus کہا جاتا ہے) ایک خوشبودار گھاس ہے جس کی جڑ اور ڈنڈی طبی لحاظ سے انتہائی مفید سمجھی جاتی ہے۔ ہندی اور مقامی زبانوں میں اسے کھس یا گندھ بیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1. طب نبوی ﷺ میں ادخر احادیثِ مبارکہ میں ادخر کا ذکر خصوصی اہمیت کے ساتھ آیا ہے: مکہ مکرمہ کی حرمت اور استثنا: فتحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ نے مکہ کے درخت اور گھاس کاٹنے سے منع فرمایا، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! سوائے ادخر کے، کیونکہ یہ ہمارے لوہاروں کے کام آتی ہے اور گھروں کی چھتوں پر ڈالی جاتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "سوائے ادخر کے۔" (صحیح بخاری) افادیت: طب نبوی ﷺ کے اطباء کے نزدیک ادخر جگر اور طحال (تلی) کے سدے کھولنے، سوجن تحلیل کرنے اور پیشاب آور کے طور پر مفید ہے۔ 2. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں ادخر کی جڑ کو محلل (سوجن دور کرنے والی)، مفتح سدد (ناڑیوں کی بندش کھولنے والی) اور مدرِ بول و حیض (پیشاب اور حیض جاری کرنے والی) تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزاج: گرم 2nd ...

YOGA یوگا ورزش

تصویر
 حمل کے لئے ورزش  3 نمبر  5 نمبر   12 نمبر   13 نمبر   15 نمبر زیادہ تر بہتر ہے ۔  YOGA   یوگا    ورزش  #ghaffar1466  AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

ڈاکٹر شرافت Dr Sharaft

تصویر
  ڈاکٹر شرافت  #ghaffar1466  AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

آملہ Phyllanthus emblica کے مربہ بنانے کا طبی طریقہ فوائد استعمال اور پرھیز

 آملہ Phyllanthus emblica کے مربہ بنانے کا طبی طریقہ  فوائد استعمال اور پرھیز آملہ (**Phyllanthus emblica**) قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ طب یونانی اور آیرویدک میں اسے **"اکسیرِ صحت"** اور **"مقویِ عام"** (پورے جسم کو طاقت دینے والا) مانا جاتا ہے۔ آملہ وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کا مربہ نہ صرف ذائقے دار ہوتا ہے بلکہ دل، دماغ، معدے اور نظر کو بے پناہ طاقت فراہم کرتا ہے۔ ## ۱. آملہ کا مربہ بنانے کا طبی و تحافی طریقہ طبی اور گھریلو انداز میں مربہ بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے تاکہ اس کی غذائیت اور طبی فوائد برقرار رہیں:  1. آملہ کی تیاری اور تلخی دور کرنا    پہلا مرحلہ    1 کلو تازہ اور بڑے سائز کے آملے لیں۔    آملوں کو اچھی طرح دھو کر ایک رات کے لیے چُونے کے پانی (یا صاف پانی میں تھوڑی سی پھٹکری ملا کر) میں بھگو دیں۔ اس سے ان کی کسایلاہٹ (تلخی) ختم ہو جاتی ہے۔    اگلے دن نکال کر صاف پانی سے 2 سے 3 بار اچھی طرح دھو لیں۔  2. گودنا (Pricking)    دوسرا مرحلہ    لکڑی کی سیخ یا کانٹے (Fork)...

سردیوں میں ڈرائی فروٹ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  سردیوں میں ڈرائی فروٹ  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز سردیوں کے موسم میں خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹس) کا استعمال جسم کو حرارت، توانائی اور قوتِ مدافعت فراہم کرتا ہے۔ قدیم و روایتی طبّی نظاموں میں ان کی افادیت، مزاج، طریقہ استعمال اور پرہیز کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ 1. طبِ نبوی ﷺ کے مطابق استعمال و پرہیز طبِ نبوی ﷺ میں غذائیت سے بھرپور اور زود ہضم ڈرائی فروٹس پر زور دیا گیا ہے: کھجور اور عجوہ: استعمال: سردیوں میں جسمانی توانائی کے لیے بہترین ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کھجور کو مکھن یا باجرے کے ساتھ ملا کر بھی تناول فرمایا۔ فائدہ: دل کو طاقت دیتی ہے اور سردی سے پیدا ہونے والے امراض (مثلاً فالج اور جوڑوں کا درد) میں مفید ہے۔ انجیر: استعمال: سردیوں میں نقرس (گٹھیا) اور جوڑوں کے درد میں نافع ہے۔ فائدہ: گردہ و مثانہ کی پتھری کو نکھارتی ہے اور بلغم کو صاف کرتی ہے۔ بادام و مویز (منقہ/کشمش): استعمال: حافظہ تیز کرنے اور سردی کا اثر کم کرنے کے لیے رات کو بھگو کر صبح کھانا سنت و حکمت کے مطابق ہے۔ پرہیز: کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال منع ہے۔ پیٹ بھر...