اشاعتیں

💓 دل جوس 💓

 💓 دل جوس 💓  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 1.روغن زیتون اجمل دوا خانہ 100 گرام  2. لیموں دیسی کا رس 3. سرکہ سیب ھمدرد دواخانہ ایک شیشی  4. شہد ھمدرد دواخانہ  5. ادرک کا رس 6. لہسن کا رس  » طریقہ استعمال  سب چیزیں ہم وزن لے کر مکس کر لیں ۔ اور آگ پر دو تین ابال دیں ۔ پھر آگ سے اتار لیں ۔ ٹھنڈا کریں ۔  » خوراک ۔ دو بڑے چمچ صبح و شام کھانے سے پہلے دس منٹ  »  ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ  »   راج ویلفیئر مطب(دوا خانہ)🌙  حکیم عبد الغفار قصوری 

💓 دل 💓

 دل 💓  ھوالشافی  خمیرہ ابریشم حکیم ارشد 100 گرام  خمیرہ مروارید جواہر دار 100 گرام  دوالمسک جواہر دار 100 گرام  لبوب کبیر خاص 100 گرام  کشتہ جواہر مہرہ 3 گرام  ۔ ان سب کو اچھے سے مکس کر کے ایک چمچ صبح نہار منہ شہد ملا دودھ کے ساتھ ۔

چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں جواہرات اور معدنیات (خصوصاً چاندی) کو مقوی قلب، مفرح اور اعصاب کے لیے انتہائی مفید مانا گیا ہے۔ چاندی کا پانی (جسے عام طور پر ماہِ سیم یا آبِ نقرہ کہا جاتا ہے) بنانے کا طریقہ اور تینوں طبّی نظاموں میں اس کے استعمال اور پرہیز کی تفصیل ذیل میں درج ہے: ۱۔ چاندی کا پانی (آبِ نقرہ) بنانے کا طریقہ روایتی طبی کتب میں چاندی کا پانی یا کشتہ تیار کرنے کے مختلف طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ عام اور محفوظ طریقہ یہ ہے: خالص چاندی: تقریباً ایک تولہ یا دو تولہ خالص چاندی کا ورق یا ٹکڑا لیں۔ آگ پر تپانا: اسے کٹوری میں ڈال کر یا چمٹے کی مدد سے اچھی طرح سرخ کریں اور فوراً عرقِ گلاب، عرقِ کیوڑہ یا صاف پانی میں بجھکا (تھرمل شاک) دیں۔ عمل کا اعادہ: اس عمل کو کم از کم 7 سے 21 بار دہرائیں۔ ہر بار نیا عرق یا تازہ پانی استعمال کریں۔ نتیجہ: اس عمل سے چاندی کے طبی خواص پانی میں منتقل ہو جاتے ہیں اور یہ پانی قلبی اور دماغی کمزوری کے لیے انتہائی مفید دوا بن جاتا ہے۔ (نوٹ: خالص ...

القرآن طب نبوی

  القرآن  طب نبوی 1. ورس 2. قسط البحر ی برآے تپ دق 3. مرزبخوش 4. میتھی 5. روغن زیتون 6. نیم 7. رس 8. رسونت 9. حنظل 10. کونین۔ سٹرکین۔کلورومائ سین جدید 11. گلوکوز۔شہد۔فرکٹوس 12. سنگترہ 13. ادرک 14. گرما 15. سردا 16. پیپتہ 17. انناس 18. انجیر 19. ماہی شور 20. جوکادلیہ 21. تربوز 22. خربوزہ 23. شربت لیموں 24. شربت پودینہ 25. سرکہ 26. پیاز 27. انار 28. بہی 29. اطریفل اسخودوس 30. معجون نانخواہ 31. جوارِش جالینوس 32. عشبہ 33. فلفل 34. اطریفل زمانی 35. ادرک 36. صندل 37. سونف 38. سوے 39. شاہترہ 40. دم الاخوئن 41. دارچینی 42. زیرہ 43. لونگ 44. زرشک شیریں 45. اجوائن دیسی 46. پودینہ 47. افنستین 48. سارسپریلا 49. کچلہ 50. عشبہ 51. منڈی  52. رسونت 53. رس 54. نیم راج ویلفئیر مطب  حکیم عبدالغفار قصور

اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اود ہندی کا برادہ: تعارف، طبی استعمال اور پرہیز اود ہندی (Agarwood / Aloeswood / Aquilaria agallocha) ایک نہایت قیمتی، معطر اور مشہور دوا ہے جو طب کی مختلف تاریخوں (طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی/آیورووید) میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا برادہ (پاؤڈر یا باریک ریشہ) اپنے اندر بے شمار طبی خصوصیات رکھتا ہے۔ ۱. طب نبوی ﷺ میں اود ہندی کی اہمیت و استعمال احادیث مبارکہ میں اود ہندی (جسے عودِ ہندی یا قسطِ بحری/ہندی سے بھی نسبت دی جاتی ہے) کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے۔ ذات الجنب (پھیپھڑوں کی سوزش اور پسلی کا درد) کا علاج: حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "اس عودِ ہندی (اود ہندی) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات شفایں ہیں، جن میں سے ایک ذات الجنب (پسلی کا درد یا پھیپھڑوں کا انفیکشن) کی دوا ہے۔" (صحیح بخاری) گل و حلق کے امراض میں: حلق کی سوزش، ٹانسلز اور منہ کے امراض کے لیے اس کا دھواں یا اس کا سفوف استعمال کرنے کی روایت ملتی ہے۔ ۲. طب یونانی ...

HkP Picture

تصویر
  HkP   Picture 

آم کی گٹھلی کا مغز طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
آم کی گٹھلی کا مغز طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز آم کی گٹھلی کا مغز (Mango Seed Kernel / Aam ki Guthli ka Maghaz) ایک انتہائی قیمتی اور کارآمد جڑی بوٹی ہے، جسے روایتی طبی نظاموں میں صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی کے مطابق آم کی گٹھلی کا مغز مزاج کے اعتبار سے سرد اور خشک (عموماً درجہ دوم یا سوم) ہوتا ہے۔ یہ طاقتور قابض (Astringent)، ممسک اور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہے۔ اسہال (Diarrhea) اور پیچش (Dysentery): اس کا سفوف شدید موچن، اسہال اور خون کی پیچش کو بند کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سیلان الرحم (Leucorrhea) اور حیض کی زیادتی: خواتین میں سفید پانی کے اخراج اور ماہواری کے دوران ضرورت سے زیادہ خون آنے کو اعتدال پر لانے کے لیے اس کا سفوف کھلایا جاتا ہے۔ منہ کے چھالے اور مسوڑھے: اس کے جوشاندے سے غرارے کرنے یا مغز کو باریک پیس کر مسوڑھوں پر لگانے سے منہ کے چھالے، مسوڑھوں سے خون آنا اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔ پیٹ کے کیڑے: بچوں اور بڑوں میں پیٹ کے کیڑوں کے اخراج کے لیے اس کا استعمال کروایا ج...

ٹنڈ گنجہ پن

تصویر
ٹنڈ گنجہ پن  13.10.2026 start... #ghaffar1466  #AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466  a RahmatULLAH 

آم کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
آم کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز آم کے پتے (Mango Leaves) طبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ طبی کتب کے مطابق، آم کے پتوں میں وٹامنز (A, C, B)، اینٹی آکسیڈنٹس اور فینولک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں ان کے استعمال، فوائد اور پرہیز کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں آم کے پتوں اور ان کی راکھ کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: ذیابیطس (شوگر): آم کے پتوں کا جوشاندہ یا پتوں کا سفوف بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ یہ انسولین کی پیداوار کو متحرک کرتے ہیں۔ پتھری کا اخراج: پتوں کو سکھا کر بنایا گیا سفوف گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑنے اور خارج کرنے کے لیے مستعمل ہے۔ سانس کی بیماریاں: دمہ، کھانسی اور گلے کی سوزش میں پتوں کو پانی میں ابال کر غرارے کیے جاتے ہیں یا کاڑھا پیا جاتا ہے۔ جلنے کے نشانات یا زخم: تازے پتوں کی راکھ کو جلی ہوئی جلد یا زخموں پر لگانے سے فوری آرام ملتا ہے اور جلن کم ہوتی ہے۔ 2. طب نبوی ﷺ اور اسلامی روایات مستند طبی ذکر: طب نبوی ﷺ ...

ابہل پہاڑی طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
ابہل پہاڑی طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز ابہل (جسے انگریزی میں Juniper Berry اور دیسی طب میں حب العرعر، ہو بیر یا بعض مقامات پر پہاڑی جھاڑی/پودے کے نام سے جانا جاتا ہے) ایک انتہائی اہم اور مفید دوا ہے۔ طبِ یونانی، طبِ ہندی (آیوروید) اور روایتی نظام ہائے صحت میں اس کے استعمالات، فوائد اور پرہیز کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں: 1. طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی کے نامور اطباء (جیسے بوعلی سینا وغیرہ) نے ابہل کے مزاج کو گرم اور خشک قرار دیا ہے۔ جالی اور محلل خصوصیات: طب یونانی کی اصطلاح میں ابہل کو دواؤں کے زمرے میں "جالی" (جلد کی سطح کو صاف کرنے والی) اور "محلل" (سوجن اور غلیظ مادوں کو تحلیل کرنے والی) مانا گیا ہے۔ نظامِ بول اور گردے: یہ طاقتور مدرِ بول (Diuretic) ہے، جو گردوں کے افعال کو درست کرتی ہے، پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے اور مثانے کی صفائی کرتی ہے۔ امراضِ نسواں: ابہل کو شہد میں ملا کر استعمال کرنا بندشِ حیض (Amenorrhea) میں بہت مفید مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ خونِ حیض اور نفاس کو جاری کرتی ہے۔ جلدی امراض اور ز...