چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
چاندی کا پانی بنانے کا طریقہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں جواہرات اور معدنیات (خصوصاً چاندی) کو مقوی قلب، مفرح اور اعصاب کے لیے انتہائی مفید مانا گیا ہے۔ چاندی کا پانی (جسے عام طور پر ماہِ سیم یا آبِ نقرہ کہا جاتا ہے) بنانے کا طریقہ اور تینوں طبّی نظاموں میں اس کے استعمال اور پرہیز کی تفصیل ذیل میں درج ہے: ۱۔ چاندی کا پانی (آبِ نقرہ) بنانے کا طریقہ روایتی طبی کتب میں چاندی کا پانی یا کشتہ تیار کرنے کے مختلف طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ عام اور محفوظ طریقہ یہ ہے: خالص چاندی: تقریباً ایک تولہ یا دو تولہ خالص چاندی کا ورق یا ٹکڑا لیں۔ آگ پر تپانا: اسے کٹوری میں ڈال کر یا چمٹے کی مدد سے اچھی طرح سرخ کریں اور فوراً عرقِ گلاب، عرقِ کیوڑہ یا صاف پانی میں بجھکا (تھرمل شاک) دیں۔ عمل کا اعادہ: اس عمل کو کم از کم 7 سے 21 بار دہرائیں۔ ہر بار نیا عرق یا تازہ پانی استعمال کریں۔ نتیجہ: اس عمل سے چاندی کے طبی خواص پانی میں منتقل ہو جاتے ہیں اور یہ پانی قلبی اور دماغی کمزوری کے لیے انتہائی مفید دوا بن جاتا ہے۔ (نوٹ: خالص ...