1 | بابونہ | Chamomile | Matricaria chamomilla طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
1 | بابونہ | Chamomile | Matricaria chamomilla طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز بابونہ ( Matricaria chamomilla ) کو طب میں اپنی محلل، مفتح اور مقوی اعصاب خصوصیات کی وجہ سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ بنیادی خصوصیات و مزاج مزاج: گرم 1° خشک 1° (بعض اطباء کے نزدیک گرم 2° خشک 2°) مصلح: شربتِ بنفشہ، عناب، یا گوند کتیرا (حرارت کم کرنے کے لیے) افعالِ خاصہ: محللِ اورام، مفتحِ سدد، مسکنِ اوجاع (درد رفع کرنے والا)، مقویِ اعصاب و معدہ، اور مدّرِ حیض و بول۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں بابونہ کے پھول، روغن اور جوشاندہ کو کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے: محللِ اورام و ریاح: اندرونی اور بیرونی سوجن اور جسم میں اٹکی ہوئی ہوا (ریاح) کو تحلیل کرتا ہے۔ تسکینِ درد (Analgesic): اعصابی درد، وجع المفاصل (جوڑوں کا درد)، اور عرق النسا (Sciatica) میں اس کے روغن کی مالش یا تکمید (ٹکور) بے حد مفید ہے۔ استرخائے اعصاب و نیند: بابونہ کا جوشاندہ یا چائے (Chamomile Tea) دماغی تناؤ، تشویش اور بے خوابی کو دور کرتی ہے۔ امراضِ معدہ و جگر: معدہ کی برودت، سددِ ج...