اشاعتیں

QURAN S2-A45 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 45  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :60 یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے ، ان دو چیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہو جائے گی ۔ صَبْر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی ، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ اِنضباط ہے ، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے ۔ ارشاد الہٰی کا مدّعا یہ ہے کہ اس اخلاقی صفت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو ۔ ISLAM360  ... AI 🌿 📖 سورۃ البقرہ – آیت 45 کی اردو تفسیر سورۃ البقرہ آیت: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ترجمہ: “اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، اور بے شک یہ (کام) بہت بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو خشوع رکھنے والے ہیں۔” 🔎 آیت کا پس منظر یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے نازل ہوئیں، لیکن اس میں...

QURAN S2-A44 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI ۔۔۔ آیت: اَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ --- تفسیر (تشریح): یہ آیت خاص طور پر بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کر کے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تنبیہ فرما رہے ہیں جو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ 1️⃣ نیکی کی دعوت اور خود عمل نہ کرنا دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دینا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن اگر انسان خود اس پر عمل نہ کرے تو یہ سخت مذمت کا باعث بنتا ہے۔ یہ رویہ منافقت کے قریب ہے۔ 2️⃣ علم کی ذمہ داری آیت میں "تم کتاب پڑھتے ہو" کہہ کر بتایا گیا کہ علم رکھنے والوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ عالم، خطیب اور داعی اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو ان کا جرم عام آدمی سے زیادہ ہے۔ 3️⃣ عقل سے کام لینا "اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ" میں جھنجھوڑنے والا انداز ہے — یعنی کیا تم سوچتے نہیں کہ قول و فعل کا تضاد کتنا بڑا ...