اشاعتیں

پنجاب کالونی قصور پاکستان لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

QURAN S2-A25 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 25  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :26 یعنی نِرالے اور اجنبی پَھل نہ ہوں گے ، جن سے وہ نامانوس ہوں ۔ شکل میں اُنہی پَھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے ۔ البتہ لذّت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے ۔ دیکھنے میں مثلاً آم اور انار اور سنترے ہی ہوں گے ۔ اہل جنّت ہر پھل کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا ۔ مگر مزے میں دنیا کے آموں اور اناروں اور سنتروں کو ان سے کوئی نسبت نہ ہو گی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :27 عربی متن میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے معنی ہیں ” جوڑے “ ۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ شوہر کے لیے بیوی ” زوج “ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ” زوج “ ۔ مگر وہاں یہ ازواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے ۔ اگر دنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے ، تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دوسری نیک بیوی دے دی جائے گی ۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد ، تو وہاں وہ اس برے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شری...

QURAN S2-A24 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 24  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :25 اس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ وہاں صرف تم ہی دوزخ کا ایندھن نہ بنو گے ، بلکہ تمہارے وہ بُت بھی وہاں تمہارے ساتھ ہی موجود ہوں گے جنہیں تم نے اپنا معبُود و مسجُود بنا رکھا ہے ۔ اس وقت تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ خدائی میں یہ کتنا دخل رکھتے تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A22 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 22  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :23 یعنی جب تم خود بھی اس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں ، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے ، دوسرا کون اس کا حق دار ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ برتا جائے ۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صِرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا وہ ” شرک “ ہے ، جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A20 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 20  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :19 پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے ۔ اور یہ دوسری مثال ان کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعفِ ایمان میں مبتلا تھے ، کچھ حق کے قائل بھی تھے ، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں ۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا ۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مراد مشکلات و مصائب کا وہ ہجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریکِ اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آ رہا تھا ۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تو یہ چل پڑتے ہیں ، اور جب مشکلات کے دَلْ بادَل چھانے لگتے ہیں ، یا ایسے احکام دیے جاتے ہیں جن سے ان کی خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصّباتِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے ، تو ٹھِٹک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :20 یعنی جس طرح پہلی قسم کے منافقین کا نور بصارت اس نے بالکل سَلب کر لیا ، اسی طرح اللہ ان کو ب...

QURAN S2-A19 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 19  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :18 یعنی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر وہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لیے اس غلط فہمی میں تو ڈال سکتے ہیں کہ ہلاکت سے بچ جائیں گے مگر فی الواقع اس طرح وہ بچ نہیں سکتے ، کیونکہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان پر محیط ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A18 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 18  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :17 حق بات سننے کے لیے بہرے ، حق گوئی کے لیے گونگے ، حق بینی کے لیے اندھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A14 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 14  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :15 شیطان عربی زبان میں سرکش ، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں ۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے ۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے ، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے اور سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جِنّ ۔ اس مقام پر شیاطین کا لفظ ان بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A12 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A10 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 10  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :12 بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے ۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں ۔  ISLAM360 

QURAN S2-A9 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 9  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :11 یعنی وہ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر رہے ہیں کہ ان کی یہ منافقانہ روش ان کے لیے مفید ہو گی ، حالانکہ دراصل یہ ان کو دنیا میں بھی نقصان پہنچائے گی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں ایک منافق چند روز کے لیے تو لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ہمیشہ اس کا دھوکا نہیں چل سکتا ۔ آخرکار اس کی منافقت کا راز فاش ہو کر رہتا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں اس کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی ۔ رہی آخرت ، تو وہاں ایمان کا زبانی دعویٰ کوئی قیمت نہیں رکھتا اگر عمل اس کے خلاف ہو ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A8 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A6 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 6  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :9 یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، پوری نہ کیں ، اور ان سب کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A2 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 2  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :2 اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ’’ بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ “ مگر ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دنیا میں جتنی کتابیں امورِ مابعد الطبیعت اور حقائقِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں , وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں ، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے ، خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں ۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے ، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے ، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں ، یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :3 یعنی یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی ، مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں ۔ ان میں سے اوّلین صِفت یہ ہے کہ آدمی ” پرہیزگار “ ہو ۔ بَھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو ۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو ۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو ۔ رہے وہ ...

QURAN 1-6(سورہ الفاتحہ)

تصویر
Surat No. 1 Ayat NO. 6  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :9 یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں ۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظورِ نظر لوگ چلتے رہے ہیں ۔ وہ بے خطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا ۔ ISLAM360   

QURAN1-4 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
  Surat No. 1 Ayat NO. 4   سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :6 عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے : ﴿١﴾ پوجا اور پرستش - ﴿2﴾ اطاعت اور فرمانبرداری - ﴿3﴾ بندگی اور غلامی ۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں ۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں ، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی ۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں ۔ بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے ۔ ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے ۔ سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :7 یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے ، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے ، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں ، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد ہی پر ہمارا اعتماد ہے ۔ اسی بنا پر ہم اپنی یہ درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں ۔ ISLAM360  

QURAN1-3 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
 Surat No. 1 Ayat NO. 3  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :5 یعنی اس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کر کے ان کے کارنامہٴ زندگی کا حساب لیا جائیگا اور ہر انسان کو اس کے عمل کا پورا صِلہ یا بدلہ مل جائے گا ۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزِ جزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ نِرا مہربان ہی نہیں ہے بلکہ منصف بھی ہے ، اور منصف بھی ایسا بااختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اقتدار کا مالک ہو گا ، نہ اس کی سزا میں کوئی مزاحم ہو سکے گا اور نہ جزا میں مانع ۔ لہذا ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بنا پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پر اس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور بُرائی بالکُلّیہ اسی کے اختیار میں ہے ۔ ISLAM360 

Health Tibb Unani کالی مرچ

تصویر
کالی مرچ  کالی مرچ کو "مصالحوں کا بادشاہ" کہا جاتا ہے اور یہ برصغیر کے کچن کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ نہ صرف کھانے کا ذائقہ بڑھاتی ہے بلکہ اپنی طبی خصوصیات کی وجہ سے بے شمار فوائد کی حامل ہے۔ ذیل میں کالی مرچ کے گھریلو اور طبی استعمالات اور اس کے فوائد کی تفصیل دی گئی ہے: 1. کالی مرچ کے گھریلو استعمال کالی مرچ صرف ذائقے کے لیے ہی نہیں بلکہ کچن کے کئی کاموں میں استعمال ہوتی ہے:  * ذائقہ اور خوشبو: اسے سالن، سوپ، انڈوں، اور سلاد میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  * گوشت کی میرینیشن: گوشت کی بساند ختم کرنے اور اسے نرم بنانے کے لیے کالی مرچ کا استعمال بہترین ہے۔  * کھانے کا تحفظ: قدیم زمانے میں اسے گوشت اور دیگر اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔  * چائے میں استعمال: سردیوں میں قہوہ یا چائے میں ایک چٹکی کالی مرچ ڈالنے سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ 2. کالی مرچ کے طبی استعمال (طبِ یونانی اور دیسی ٹوٹکے) طب میں کالی مرچ کو ایک طاقتور دوا کے طور پر دیکھا جاتا ہے:  * نزلہ، زکام اور کھانسی: شہد میں ایک چٹکی پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر چاٹن...

Health Tibb Unani چار چیزوں کا قہوہ

تصویر
 چار چیزوں کا قہوہ (الائچی خورد، سونف، پودینہ، ادرک) بنانے کا طریقہ اور فوائد: اجزاء: · الائچی خورد (چھوٹی الائچی): ½ چائے کا چمچ · سونف: ½ چائے کا چمچ · پودینہ خشک یا تازہ: ½ چائے کا چمچ · ادرک تازہ: ایک چھوٹا ٹکڑا (کُٹا ہوا) بنانے کا طریقہ: 1. ایک پیالی پانی میں تمام اجزاء ڈال کر 5-7 منٹ تک اُبالیں۔ 2. چولہے سے اتار کر 2 منٹ ڈھک کر رکھیں۔ 3. چھان کر شہد یا گُڑ حسب ذائقہ ملا کر پی لیں۔ فوائد: · ہاضمے کے لیے بہترین (اپھارہ، گیس، بدہضمی میں مفید) · جسم کی گرمائش بڑھاتا ہے (سردیوں میں خصوصی) · نظام انہضام کو بہتر کرتا ہے · متلی اور قے میں آرام دیتا ہے · مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے · سانس کی نالی کی صفائی میں مددگار استعمال کی ہدایت: دن میں 1-2 بار پی سکتے ہیں،خصوصاً کھانے کے بعد۔ سردیوں میں اس کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے۔ احتیاط: زیادہ ادرک ہائی بلڈ پریشر والوں کے لیے مناسب نہیں۔ ai

Health Tibb Unani پودینہ

تصویر
پودینہ کا پودا   ai پودینہ   پودینے کا قہوہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور اسے بنانا بھی بہت آسان ہے۔ 🍵 پودینے کا قہوہ بنانے کا طریقہ یہ کلاسک ترکیب تازہ پودینے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے: · اجزاء: تازہ پودینے کے 10-12 پتے، 1 کپ پانی، ذائقے کے مطابق شہد اور لیموں (اختیاری). · ترکیب:   1. پانی کو ابال لیں اور اس میں پودینے کے پتے ڈال دیں۔   2. 5 سے 7 منٹ تک دھیمی آنچ پر پکنے دیں۔   3. مشروب کو چھان کر کپ میں ڈالیں۔   4. حسبِ ذائقہ شہد یا لیموں کا رس شامل کرکے گرم صورت میں پی لیں. اگر آپ کے پاس تازہ پودینہ نہیں ہے، تو خشک پودینہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے پیس کر پاؤڈر بنا لیں اور کھانے پر چھڑکنے یا پانی میں ابال کر استعمال کیا جا سکتا ہے. 🌿 پودینے کے قہوے کے صحت کے فوائد پودینے کا قہوہ صحت کے کئی پہلوؤں پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے: ہاضمے کی بہتری · بدہضمی، گیس اور پیٹ کے درد میں آرام پہنچاتا ہے. · معدے کی جلن اور تیزابیت کو کم کرتا ہے. · ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتا ہے. سانس اور منہ کی صحت · سانس کی تازگی لاتا ہے اور منہ کی بدبو کو ختم کرتا ہے. · ا...

Health Tibb Unani Clove لونگ

  لونگ   لونگ (Clove) ایک مشہور اور انتہائی خوشبودار مصالحہ ہے، جو کہ ایک سدا بہار درخت (Syzygium aromaticum) کی خشک شدہ کلی ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں، اور خاص طور پر برصغیر پاک و ہند کے کھانوں اور روایتی ادویات میں صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی تاثیر گرم اور خشک ہوتی ہے اور ذائقہ قدرے تیکھا اور تیز ہوتا ہے۔ یہاں لونگ کے بارے میں تفصیلی معلومات، اس کے استعمال اور فوائد درج ذیل ہیں: 1. کھانوں میں استعمال (Culinary Uses) لونگ کا استعمال کھانوں میں خوشبو اور ذائقہ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے:  * مصالحہ جات کا اہم جزو: یہ گرم مصالحہ پاؤڈر کا ایک لازمی حصہ ہے۔  * چاولوں کے پکوان: بریانی، پلاؤ اور دیگر چاولوں کے پکوانوں میں ثابت لونگ کا استعمال اس کی منفرد خوشبو کے لیے کیا جاتا ہے۔  * سالن اور قورمہ: گوشت اور سبزیوں کے سالن میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔  * مشروبات: لونگ کا استعمال چائے (خاص طور پر مصالحہ چائے) اور قہوہ میں کیا جاتا ہے، جو سردیوں میں بہت مفید رہتا ہے۔  * میٹھے پکوان: بعض اوقات کھیر، زردہ یا دیگر روایتی میٹھوں میں بھی اس کا استعمال...