افتیمون ولایتی | Cuscuta epithymum طبی فوائد استعمال اور پرھیز
افتیمون ولایتی | Cuscuta epithymum
طبی فوائد استعمال اور
پرھیز
افتیمون ولایتی (سائنسی نام: Cuscuta epithymum) طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کی ایک انتہائی اہم، مصفیٰ خون اور مقوی دماغ دوا ہے۔ یہ ایک نیم باریک، بے برگ پرجیوی پودا ہے جو بالعموم بیج یا تھائم (Thyme) اور دیگر جڑی بوٹیوں پر لپٹا ہوا پایا جاتا ہے۔
اہم طبی فوائد
- صفرا اور سودا کا اخراج: افتیمون کو خلطِ سودا اور صفرا کا بہترین مسہل (Purgative) مانا جاتا ہے۔ یہ جسم سے فاسد مادوں اور سوداوی غلبے کو خارج کرتا ہے۔
- امراضِ دماغ و اعصاب: سوداوی اور مالیخولیا کے امراض، پرانی سردرد، شقیقہ (مائیگرین)، اور جنون و وسواس میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔
- جلدی امراض: خون کی خرابی اور فسادِ خون سے پیدا ہونے والے امراض جیسے چنبل (Psoriasis)، داد، خارش، پھوڑے پھنسی اور کوڑھ کے ابتدائی اثرات میں یہ مصفیٰ خون کا کام کرتا ہے۔
- معدہ اور جگر کی تقویت: معدے اور طحال (تلی) کے سدوں (Blockages) کو کھولتا ہے اور تلی کی خرابی (سوزشِ طحال) میں مفید ہے۔
- جوڑوں کا درد (عصبیت): عرق النسا (Sciatica) اور جوڑوں کے سوداوی دردوں میں تسکین دیتا ہے۔
طریقہ استعمال و خوراک
- سفوف (پاؤڈر): عام طور پر 3 سے 5 گرام تک عرقِ گازبان، عرقِ بادیان یا تازہ پانی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
- جوشاندہ (ڈیکوشن): افتیمون 5 سے 7 گرام کو پانی میں جوش دے کر، چھان کر، اور شہد یا شکرِ سرخ ملا کر پلانا سوداوی امراض میں بہت نافع ہے۔
- مدبر کرنے کا اصول: افتیمون کا مزاج سرد اور خشک ہے اور اس کی طبیعت میں کچھ خشکی و قبض ہوتی ہے، اس لیے طبی اصول کے مطابق اسے اکثر مدبر کر کے یا مناسب مصلح کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
پرہیز و احتیاطی تدابیر
- حاملہ خواتین: حاملہ خواتین کے لیے اس کا استعمال سخت مضر ہے کیونکہ یہ رحم میں تحریک پیدا کر سکتا ہے۔
- معدے کی کمزوری یا حد سے زیادہ خشکی: جن لوگوں کا مزاج انتہائی خشک ہو یا جنہیں شدید ققب کا مسئلہ ہو، وہ اسے بغیر مصلح کے استعمال نہ کریں۔
- مصلح: افتیمون کا بہترین مصلح شہد، بادشاہی گوند یا روغنِ بادام ہے جو اس کی خشکی کو زائل کرتے ہیں۔
- مقدارِ خوراک: اس کی زیادتی دل اور معدے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، لہٰذا بتائی گئی مقدار سے تجاوز نہ کریں۔
نوٹ: یہ معلومات طبی تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ راج ویلفیئر مطب کے تحت مریض کے مزاج اور مرض کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی نسقِ دوا (Prescription) طے کیا جائے۔
Ai


تبصرے