افیون (پوست) Papaver somniferum طب یونانی اور طب نبوی میں فوائد استعمال اور پرھیز





افیون (پوست) Papaver somniferum

طب یونانی اور طب نبوی میں 

فوائد استعمال اور پرھیز






افیون یا پوست (Papaver somniferum) ایک نہایت معروف اور حساس نباتاتی دوا ہے۔ طب یونانی میں اسے تسکینِ درد اور مخدر (نشہ آور/سن کرنے والی) ادویات میں بنیادی مقام حاصل ہے، جبکہ اسلام (طب نبوی) میں نشہ آور اشیاء کے استعمال اور حرمت سے متعلق واضح اصول موجود ہیں۔

1. طب یونانی میں افیون اور پوست کا مفہوم و مزاج

طب یونانی میں پوست (خشخاش کے ڈوڈے کی چھال) اور افیون (ڈوڈے سے نکلنے والے دودھیا رطوبت کو سکھا کر حاصل کردہ شیرہ) کو درجہ چہارم میں شدید سرد و خشک تسلیم کیا گیا ہے۔

  • خاصیت: شدید مخدر (Narcotic)، مسکنِ درد (Analgesic)، اور قابض (Astringent)۔
  • فوائد:
    • تسکینِ درد: شدید جسمانی درد، سر درد، اور جوڑوں کے درد کو فوری تسکین دیتی ہے۔
    • سعال (کھانسی) و ضیق النفس: پرانی اور خشک کھانسی کو روکنے کے لیے ترکیبات میں ملا کر استعمال کی جاتی ہے۔
    • اسہال و پیچش: شدید دست یا پیچش کو روکنے کے لیے اس کا قابض اثر کام میں لایا جاتا ہے۔
    • منام (نیند لانا): شدید بے خوابی (Insomnia) کے مریضوں کے لیے بیرونی لیپ یا مدبر شکل میں مستعمل ہے۔

2. طب نبوی اور اسلامی نقطہ نظر

طب نبوی میں صحت عامہ اور پاکیزہ غذاؤں پر زور دیا گیا ہے۔ افیون کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کے دور کی روایتی ادویات میں صراحتاً اس نام سے نہیں ملتا، لیکن اسلامی شریعت اور طب نبوی کے عمومی اصولوں کے تحت:

  • حرمتِ مسکر (نشہ آور چیزوں کی ممانعت): رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے" (صحیح مسلم)۔ افیون کیونکہ ایک شدید نشہ آور مادہ ہے، اس لیے اس کا بلا ضرورت یا تفریحی استعمال قطعی طور پر حرام ہے۔
  • ضرورت و علاج کی حد: اطباء اور فقہاء کے نزدیک اگر کوئی ماہر اور قابلِ اعتماد طبیب کسی مہلک بیماری یا شدید تکلیف میں افیون پر مشتمل دوا بطور علاج تجویز کرے (اور اس کا کوئی دوسرا متبادل نہ ہو)، تو صرف بوقتِ ضرورت اور محدود مقدار میں علاج جائز ہے۔

3. استعمال کا طریقہ اور احتیاط (مدبر شکل)

طبی کتب کے مطابق افیون کو کبھی بھی خام (Raw) حالت میں استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے "مدبر" (مصفا و اصلاح شدہ) کر کے دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

  • مصلح (Zest/Corrective): طب یونانی میں افیون کے مضرت رساں اثرات کو کم کرنے کے لیے اس کے ساتھ زعفران، دارچینی، یا جائفل جیسے گرم و مقوی ادویات شامل کی جاتی ہیں۔
  • مقدارِ خوراک: اس کی خوراک انتہائی کم (چند ملی گرام یا رائی کے دانے برابر) مقرر کی جاتی ہے۔

4. عوارض اور پرہیز (پرھیز و خطرات)

افیون ایک زہریلی اور شدید عادت پیدا کرنے والی (Addictive) دوا ہے، اس لیے ذیل کی باتوں کا پرہیز اور خیال رکھنا لازمی ہے:

  • عادت/نشہ (Addiction): چند دن متواتر استعمال سے انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے بعد اس کے بغیر جسمانی و ذہنی توازن قائم رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔
  • نظامِ تنفس کی سستی: زیادہ مقدار میں استعمال سانس کے نظام کو سست کر کے موت کا سبب بن سکتی ہے۔
  • معدہ اور جگر کی ضعف: یہ معدے کی حرکت اور ہاضمے کے نظام کو بالکل سست کر دیتی ہے جس سے شدید قبض پیدا ہوتی ہے۔
  • کن مریضوں کے لیے ممنوع ہے:
    • بچوں اور بزرگوں کے لیے۔
    • گردے اور جگر کے شدید مریضوں کے لیے۔
    • سانس یا دل کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے۔

اہم تنبیہ: افیون اور اس کے مرکبات کا استعمال قانونی طور پر ممنوع اور طبی لحاظ سے انتہائی خطرہ انگیز ہے؛ اسے کسی مستند اور رجسٹرڈ طبیب یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔




۔۔۔ 

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک