اکرقرہا ولایتی Anacyclus pyrethrum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
اکرقرہا ولایتی
عاقرقرحا (Anacyclus pyrethrum) ایک معروف طبی جڑی بوٹی ہے، جسے انگریزی میں Pellitory root کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی اور روایتی ادویات میں اس کی جڑ (Root) کو بنیادی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ شدید گرم و خشک مزاج رکھتی ہے اور اعصابی و مقویِ باہ ادویات کا اہم جزو ہے۔
مزاج اور بنیادی خصائص
- مزاج: گرم درجہ سوم، خشک درجہ سوم۔
- ذائقہ: چرپرا اور زبان پر لگاتے ہی تھوک کا اخراج بڑھاتا ہے اور زبان میں سنسناہٹ پیدا کرتا ہے۔
- مستعمل حصہ: اس پودے کی جڑ۔
طبِ یونانی میں استعمالات
طبِ یونانی کی کلاسیکی کتب (مثلاً القانون فی الطب) میں عاقرقرحا کے متعدد فوائد اور استعمالات بیان کیے گئے ہیں:
- اعصابی امراض اور فالج: یہ محرکِ اعصاب (Nerve stimulant) ہے۔ فالج، لقوہ، راعشہ (ہاتھ پیر کانپنا) اور عرق النساء (Sciatica) کے مریضوں کے لیے معجونات اور طلا (مساج آئل) میں استعمال ہوتا ہے۔
- قوتِ باہ اور ممسک: مقویِ باہ اور ممسک ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب کو تقویت دے کر امساک پیدا کرتا ہے۔
- دانتوں اور مسوڑھوں کا علاج: دانت کے درد اور مسوڑھوں کی کمزوری میں اس کا منجن استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ منہ کی بدبو دور کرتا ہے اور لعابِ دہن (تھوک) کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔
- زبان کی لکنت (توتلا پن): زبان کی سستی یا توتلے پن کو دور کرنے کے لیے عاقرقرحا کو شہد میں ملا کر زبان پر چٹایا جاتا ہے۔
- بلغم کا اخراج: یہ مقطعِ بلغم (Mucolytic) ہے، جو سینے اور دماغ سے سخت بلغم کو صاف کرتا ہے۔
طبِ نبوی ﷺ میں مقام
طبِ نبوی ﷺ کے حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
- صریح احادیثِ مبارکہ میں "عاقرقرحا" کا نام ان الفاظ کے ساتھ الگ سے ذکر نہیں ملتا، جیسا کہ کلونجی، زیتون، شہد یا عودِ ہندی کا صریح ذکر موجود ہے۔
- تاہم، اطبائے طبِ نبوی (مثلاً علامہ ابن قیم الجوزیۃ) نے اسے "عود القرح" یا محرک و گرم ادویات کے زمرے میں شامل کر کے اس کے افعال کا ذکر کیا ہے، خاص طور پر بلغم کے خاتمے، اعصابی طاقت اور دانتوں کے درد کے علاج کے لیے۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر
عاقرقرحا چونکہ انتہائی تیز اور شدید گرم و خشک دوا ہے، اس لیے اس کے استعمال میں درج ذیل احتیاطیں لازمی ہیں:
- ۔۔گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے افراد کے لیے اس کا اندرونی استعمال (کھانا) نقصان دہ ہو سکتا ہے؛ یہ حلق میں جلن، پیاس کی شدت اور گرمی پیدا کر سکتا ہے۔
- حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین: حاملہ خواتین اس کا اندرونی استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ یہ رحم میں تحریک پیدا کر سکتا ہے۔
- مقدارِ خوراک: اس کی خوراک انتہائی کم (تقریباً 250 ملی گرام سے 1 گرام تک) ہوتی ہے۔ زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے اور جگر میں سوزش ہو سکتی ہے۔
- مصلح (حفاظتی تدبیر): اگر گرم مزاج افراد کو یہ دوا دینی ہو تو اس کا مصلح کثیرا، گوند بابل، یا سکنجبین کا استعمال ہے۔



تبصرے