انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

 




انجدان کا پودا

طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

 


انجدان (Ferula foetida / Asafoetida Plant)

انجدان ایک مشہور دواScript اور جڑی بوٹی کا پودا ہے، جس کی جڑوں اور تنے کے رس سے "ہینگ" (Asafoetida) حاصل کی جاتی ہے۔ یونانی اور اسلامی طب میں اسے ایک قوی اور موثر دوا کا درجہ حاصل ہے۔

طبِ یونانی میں انجدان کا استعمال

طبِ یونانی کے مطابق انجدان کی جڑ اور اس کا گوند (ہینگ) دونوں دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مزاج میں گرم و خشک (تیسرے درجے میں) ہوتی ہے۔

 * نظامِ ہضم کی اصلاح: یہ معدے کی برودت (ٹھنڈک)، بادی اور ریاح (گیس) کو تحلیل کرتی ہے۔ پیٹ کے درد، افارے اور قبض میں بے حد مفید ہے۔

 * اعصابی و جوڑوں کی بیماریاں: فالج، لقوہ، راشہ اور جوڑوں کے درد میں اس کا لیپ یا جوشاندہ مفصلات کی سوجن اور درد کو دور کرتا ہے۔

 * سانس کی بیماریاں: بلغم کو خارج کرنے، دمہ، پرانی کھانسی اور کالی کھانسی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 * قوتِ باہ اور مادہ منویہ: یہ مقوی باہ ہے اور جسم میں بادی اثرات کو ختم کر کے حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔

 * کرمِ شکم: پیٹ کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالتی ہے۔

طبِ نبوی ﷺ میں ذکر و مفہوم

احادیثِ مبارکہ اور طبِ نبوی ﷺ کی کتب میں "انجدان" کا ذکر ایک نافع جڑی بوٹی کے طور پر ملتا ہے۔

 * ریاح اور بادی کا علاج: نبی کریم ﷺ سے منسوب روایات اور قدیم اطبائے اسلام (مثلًا ابن القیم) کی وضاحت کے مطابق انجدان کو پیٹ کی بادی، گیس اور بلغم کو دور کرنے کے لیے بہترین دوا کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

 * سموم اور زہر کا تریاق: قدیم طبی کتب میں طبِ نبوی کی روشنی میں اسے حشرات (کیڑے مکوڑوں) کے کاٹنے اور زہریلے اثرات کو زائل کرنے کے لیے قوی تریاق گردانا گیا ہے۔

استعمال میں پرہیز اور احتیاطیں

انجدان یا ہینگ شدید گرم و خشک مزاج رکھتی ہے، اس لیے درج ذیل حالات میں اس سے پرہیز ضروری ہے:

 * گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے لوگوں میں یہ سر درد، گرمی کی شدت اور بپھراؤ پیدا کر سکتی ہے۔

 * حاملہ خواتین: حاملہ خواتین کے لیے اس کا استعمال سخت ناپائیدار اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے (اس سے اسقاطِ حمل کا خطرہ ہوتا ہے)۔

 * جگر اور گردے کے امراض: جگر کی سوزش یا گردے کی تیزابیت میں اس کے بے جا استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

 * مقدارِ خوراک: اس کا استعمال ہمیشہ انتہائی کم مقدار (چوٹکی بھر یا معالج کی ہدایت کے مطابق) کرنا چاہیے؛ زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے میں جلن اور الٹی ہو سکتی ہے۔

(کسی بھی طبی علاج کے لیے اپنے مقامی طبیب یا معالج سے مشورہ ضرور کریں تاکہ آپ کے مزاج کے مطابق صحیح مقدارِ خور

اک تجویز کی جا سکے)






۔۔۔

Ai

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک