اکلیل الملک (ناخنک)Melilotus officinalis طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
اکلیل الملک (ناخنک)Melilotus officinalis
طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
اکلیل الملک (جسے ناخنک یا زرد یونجہ بھی کہا جاتا ہے، سائنسی نام: Melilotus officinalis) ایک اہم طبی جڑی بوٹی ہے۔ اس کی پھلی ناخن کی طرح مڑی ہوئی ہوتی ہے، اسی لیے اسے مقامی زبان میں "ناخنک" کہا جاتا ہے۔
طبِ یونانی میں استعمال
طبِ یونانی میں اکلیل الملک کا مزاج گرم درجہ دوم اور خشک درجہ دوم تسلیم کیا جاتا ہے:
اورام کی تحلیل (سوجن کم کرنا): یہ اندرونی اور بیرونی سوجنوں (خصوصاً جگر، تلی، رحم اور جوڑوں کی سوجن) کو تحلیل کرنے کے لیے ضماد (لیپ) کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔
درد کا خاتمہ: اعصابی درد، عرق النساء (لنگڑی کا درد) اور جوڑوں کے درد میں اس کا ضماد یا جوشاندہ تسکین دیتا ہے۔
واریس (وریدوں کی سوجن): خون کی نالیوں کی سوجن اور نالیوں کے جملہ امراض (Varicose veins) میں یہ خون کی گردش بہتر بناتی ہے۔
ادرارِ بول و حیض: یہ پیشاب اور حیض کو جاری کرنے میں مدد دیتی ہے۔
تسکینِ اعصاب: اسے نیند کی کمی (انسومنیا) اور اعصابی تناؤ کو دور کرنے کے لیے بھی تدابیر کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
طبِ نبوی ﷺ میں مقام
طبِ نبوی ﷺ کی کتب اور قدیم اسلامی اطباء (مثلاً ابن القیم) کی تحریروں میں مفرد جڑی بوٹیوں کے ذیل میں اکلیل الملک کا ذکر اورام (سوجن) کو تحلیل کرنے اور نرم کرنے والے نسخوں کے سلسلے میں ملتا ہے۔ تاہم، یہ ان مشہور سنن و احادیث کا حصہ نہیں ہے جن میں مخصوص جڑی بوٹیوں (جیسے کلونجی، زیتون، یا شہد) پر صریح نبوی ہدایت آئی ہو۔ اطباء اسے اسلامی طب کی قدیم قرابادین میں ایک بہترین مُحَلِّل (سوجن ختم کرنے والی) اور مُلَیِّن دوائی کے طور پر شمار کرتے ہیں۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر (عوارض)
اکلیل الملک میں طبیعی طور پر کومارین (Coumarin) پایا جاتا ہے جو خون کو پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کا استعمال احتیاط کا متقاضی ہے:
حالت / مرض
پرہیز کی وجہ
خون پتلا کرنے والی ادویات
اگر اپرن، وارفرین (Warfarin) یا دیگر خون پتلا کرنے والی ادویات لے رہے ہوں تو اس کا استعمال ہرگز نہ کریں۔
حمل اور دودھ پلانے کا زمانہ
حاملہ خواتین کے لیے یہ سخت نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس سے اسقاطِ حمل کا خطرہ ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر
بلڈ پریشر کے مریض بغیر معالج کے مشورے کے اندرونی طور پر استعمال نہ کریں۔
سرجری یا آپریشن
کسی بھی سرجری سے دو ہفتے قبل اس کا استعمال روک دینا چاہیے تاکہ خون کے بہاؤ کا خطرہ نہ رہے۔
زیادہ مقدار کا استعمال
اس کی زیادہ مقدار جگر اور گردوں کے لیے مضر ہو سکتی ہے اور سر چکرانے یا متلی کا باعث بن سکتی ہے۔
(کسی بھی جڑی بوٹی کا اندرونی استعمال ہمیشہ مستند طبیب یا معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے)۔
۔۔۔
Ai



تبصرے