انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
انجبار کی جڑ
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
انجبار (Bistort / Polygonum bistorta) کی جڑ اپنے قابض (stypic) اور خون کو روکنے والے خواص کی وجہ سے مختلف طبی نظاموں میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔
1. طبِ یونانی میں استعمال
طبِ یونانی میں انجبار کی جڑ کو سرد خشک (مزاج: درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔
- خون کا بہاؤ روکنا: یہ جڑ خون کو جمانے اور روکنے (محبسِ دم) کے لیے سب سے مشہور ہے۔ بواسیر (پیچش/خونی بواسیر)، حیض کی زیادتی (کثرتِ حیض)، ناک سے خون بہنا (نکسیر) اور معدے یا آنتوں سے خون آنے کی صورت میں اس کا جوشاندہ یا سفوف دیا جاتا ہے۔
- اسہال اور پیچش: قابض خصوصیات کی بنا پر پرانے اسہال (دست) اور مروڑ/پیچش کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
- زخم اور سوجن: منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کی سوجن کے لیے اس کے پانی سے غرارے اور کلیاں کرائی جاتی ہیں۔
- معروف مرکب: طبِ یونانی میں شربتِ انجبار اور جوارشِ انجبار خون کے اخراج کو روکنے اور دل و معدہ کو تقویت دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
2. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال
آیوروید میں انجبار (جسے اکثر Amlavet یا Bistorta کے نام سے جانا جاتا ہے) کو "کَشایَ رس" (تُرش اور قابض ذائقہ) کی حامل جڑی بوٹی مانا جاتا ہے۔
- پتہ اور کَف کا توازن: یہ باڈی میں 'پتہ' (Pitta) اور 'کَف' (Kapha) کی زیادتی کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
- آنتوں کی صحت: آیوروید میں اسے آنتوں کے زخم (Ulcerative Colitis) اور معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی سوزش کے علاج کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
- جلدی امراض اور زخم: اس کی جڑ کا لیپ بیرونی زخموں، جلنے کے نشانات اور جلدی خارش کو دور کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔
3. طبِ نبوی ﷺ میں مقام
طبِ نبوی ﷺ کے بنیادی ماخذات (حدیثِ نبوی اور کتبِ طبِ نبوی جیسے علامہ ابن القیمؒ کی "الطب النبوی") میں خاص "انجبار" کے نام سے کوئی صریح یا براہِ راست ذکر موجود نہیں ہے۔
تاہم، طبِ نبوی ﷺ میں قابض، خون روکنے والی اور معدے کو اصلاح دینے والی قدرتی جڑی بوٹیوں کے استعمال کی جو عمومی رہنمائی اور اصول دیے گئے ہیں، حکمائے اسلام نے انجبار کے خواص کو ان ہی اصولی علاجوں کے تحت شمار کیا ہے۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر
انجبار کی جڑ کے استعمال کے دوران درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
- قبض کے مریض: چونکہ یہ انتہائی قابض (astringent) ہوتی ہے، اس لیے شدید قبض (Constipation) کے شکار افراد کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے یا ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہیں لینا چاہیے۔
- حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین: طبی ماہرین یا حکیم کے مشورے کے بغیر دورانِ حمل اس کا استعمال نہ کریں۔
- زیادہ مقدار سے پرہیز: اس کا زیادہ یا بلا ضرورت استعمال معدے میں بوجھ، خشکی اور ہاضمے کی سستی کا باعث بن سکتا ہے۔
- گردے اور مثانے میں پتھری: انجبار میں آکسالیٹ (Oxalates) کی مقدار ہو سکتی ہے، اس لیے گردے کی پتھری کے مریض احتیاط کریں۔


تبصرے