انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز انجبار (Bistort / Polygonum bistorta) کی جڑ اپنے قابض (stypic) اور خون کو روکنے والے خواص کی وجہ سے مختلف طبی نظاموں میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں انجبار کی جڑ کو سرد خشک (مزاج: درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ روکنا: یہ جڑ خون کو جمانے اور روکنے (محبسِ دم) کے لیے سب سے مشہور ہے۔ بواسیر (پیچش/خونی بواسیر)، حیض کی زیادتی (کثرتِ حیض)، ناک سے خون بہنا (نکسیر) اور معدے یا آنتوں سے خون آنے کی صورت میں اس کا جوشاندہ یا سفوف دیا جاتا ہے۔ اسہال اور پیچش: قابض خصوصیات کی بنا پر پرانے اسہال (دست) اور مروڑ/پیچش کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زخم اور سوجن: منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کی سوجن کے لیے اس کے پانی سے غرارے اور کلیاں کرائی جاتی ہیں۔ معروف مرکب: طبِ یونانی میں شربتِ انجبار اور جوارشِ انجبار خون کے اخراج کو روکنے اور دل و معدہ کو تقویت دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ 2. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال آیوروید میں انجبار (جسے اکثر Amlav...