اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اندرجو شیریں پاؤڈر
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اندرجو شیریں (Wrightia tinctoria) ایک معروف طبی بوٹی کا بیج ہے جسے "اندرجو میٹھا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی قابض، مصفیٰ خون اور ضدِ ذیابیطس (anti-diabetic) خصوصیات کے باعث طب یونانی اور طب ہندی (آیور وید) میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔
مختلف طبی نظاموں میں استعمال
- طب یونانی:
- ذیابیطس (شوگر): اندرجو شیریں کو بادام اور بھنے ہوئے چنوں کے ساتھ ہم وزن پیس کر پاؤڈر بنایا جاتا ہے۔ یہ خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت کو دور کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔
- نظامِ ہضم اور پیچش: یہ معدہ اور آنتوں کو طاقت دیتا ہے، اسہال (ڈائریا) اور پیچش (Dysentery) کو روکنے کے لیے اس کا سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔
- مصفیٰ خون: جگر کی اصلاح اور خون کی صفائی کے لیے یہ فوائد فراہم کرتا ہے جس سے جلدی امراض اور خارش میں افاقہ ہوتا ہے۔
- طب ہندی (آیور وید):
- شوٹج (Kutaja) کے متبادل/معاون کے طور پر: آیور وید میں اسے پیٹ کے کیڑے ختم کرنے اور آنتوں کی سوزش (IBS) کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔
- پائلس (بواسیر): خونی بواسیر کو روکنے اور مقعد کے سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کا پاؤڈر دہی یا چھاچھ (لسی) کے ساتھ تجویز کیا جاتا ہے۔
- طب نبوی ﷺ:
- صحیح اور صریح احادیث میں "اندرجو شیریں" کا بالخصوص نام کے ساتھ ذکر ثابت نہیں ہے۔ تاہم، طب نبوی ﷺ کے عمومی اصولوں کے مطابق ایسی تمام جڑی بوٹیوں اور دواؤں کا استعمال جائز اور مستحسن ہے جو شفا کا باعث بنیں اور جن میں کوئی مضر یا حرام عنصر شامل نہ ہو۔
پریز اور احتیاطی تدابیر
- پرہیز: اندرجو شیریں کا استعمال کرتے وقت زیادہ تیز مرچ مسالحے، تلی ہوئی اشیاء، اور شوگر کے مریضوں کے لیے میٹھی اشیاء سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔
- مزاج اور خوراک: اس کا مزاج سرد و خشک ہوتا ہے۔ اس کی عام طور پر تجویز کردہ مقدار 3 سے 5 گرام روزانہ ہوتی ہے۔
- احتیاط: حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، نیز گردوں کے شدید امراض میں مبتلا افراد طبیب کے مشورے کے بغیر اس کا استعمال نہ کریں۔
Ai



تبصرے