اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اسارون خشک
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اسارون (Asarabacca / Indian Valerian) ایک معروف جڑی بوٹی کی جڑ ہے جو قدیم ادویاتی نظاموں میں بڑی اہم حامل ہے۔
مزاج: گرم و خشک (تیسرے درجے میں)۔
1. طبِ یونانی میں استعمال
طبِ یونانی میں اسارون کو ایک قوی مقوی اور محلل دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔
- دماغی و اعصابی امراض: فالج، لقوہ، صرع (مرگی)، نسیان (بُھولنے کی بیماری) اور اعصابی کمزوری میں فائدہ مند ہے۔
- جگر اور تلی: جگر کے سدے (انسداد) کھولتی ہے، یرقان میں مفاد پہنچاتی ہے اور جگر و تلی کی سوجن کو دور کرتی ہے۔
- مجاریِ بول و حیض: مدرِ بول (پیشاب آور) اور مدرِ حیض ہے؛ گردے اور مثانے کی پتھریوں کو توڑ کر نکالنے اور احتباسِ حیض (قاعدگی کی رکاوٹ) کو دور کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
- مفاصل اور درد: عرق النساء (سیاٹیکا)، جوڑوں کے درد اور نقرس میں مفید ہے۔
2. طبِ نبوی ﷺ اور اسلامک طب
طبِ نبوی ﷺ کے روایتی صحائف اور اسلامی طب کی کتابوں میں اس کے استعمالات طبِ یونانی کے بنیادی اصولوں کے تحت بیان کیے گئے ہیں:
- احتباسِ حیض اور پیشاب کی بندش: پیشاب اور حیض کو جاری کرنے کے لیے بطورِ مفرد یا مرکب دوا تجویز کی جاتی ہے۔
- زہر کے اثرات: بچھو یا زہریلے کیڑوں کے کاٹنے پر اس کا لیپ کیڑا نکالنے اور زہر کا اثر کم کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
- بلغم کا اخراج: معدہ اور دماغ سے فاسد بلغمی مواد کو خارج کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔
3. طبِ ہندی (آیوروید / Indian Valerian)
آیورویدک طب میں اسارون (تگر / Tagara کی ایک قسم) کا استعمال درج ذیل امراض میں کیا جاتا ہے:
- اعصابی سکون: ذہنی تناؤ، بے خوابی (Insomnia) اور اضطراب کو دور کرنے اور نیند لانے کے لیے انتہائی مفید تسلیم کی جاتی ہے۔
- ہضم اور پیٹ کے امراض: پیٹ کے مروڑ، گیس، اور ہاضمے کی خرابی کو ٹھیک کرتی ہے۔
- مقویِ باہ: مردانہ ضعف اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے میں اس کا کم مقدار میں استعمال مفید مانا جاتا ہے۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر (Cautions & Contraindications)
- حاملہ خواتین: حاملہ خواتین اسارون کا استعمال ہرگز نہ کریں، کیونکہ اس کی شدید گرمی اور مدرِ حیض اثرات سے اسقاطِ حمل (Miscarriage) کا خطرہ ہوتا ہے۔
- گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال دردِ سر اور گرمی پیدا کر سکتا ہے۔ (اس کا مصلح مویز، سکنجبین یا بھیڑ کا دودھ ہے)۔
- ارسٹولوچک ایسڈ (Aristolochic Acid): جدید سائنسی تحقیق کے مطابق اسارون کی بعض اقسام میں ارسٹولوچک ایسڈ ہوتا ہے، اس لیے اس کی زیادہ مقدار گردوں اور جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- مقدارِ خوراک: اس کی خوراک ہمیشہ بہت کم (عموماً 1 سے 3 گرام) اور طبیب کے مشورے سے لینی چاہیے۔
(نوٹ: کسی بھی جڑی بوٹی کے باقاعدہ استعمال سے قبل کسی مستند طبیب یا معالج سے اپنے مزاج کے مطابق مشورہ ضرور کریں)۔
...
Ai
AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466
ghaffar1466


تبصرے