اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسارون (Asarabacca / Indian Valerian) ایک معروف جڑی بوٹی کی جڑ ہے جو قدیم ادویاتی نظاموں میں بڑی اہم حامل ہے۔ مزاج: گرم و خشک (تیسرے درجے میں)۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسارون کو ایک قوی مقوی اور محلل دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دماغی و اعصابی امراض: فالج، لقوہ، صرع (مرگی)، نسیان (بُھولنے کی بیماری) اور اعصابی کمزوری میں فائدہ مند ہے۔ جگر اور تلی: جگر کے سدے (انسداد) کھولتی ہے، یرقان میں مفاد پہنچاتی ہے اور جگر و تلی کی سوجن کو دور کرتی ہے۔ مجاریِ بول و حیض: مدرِ بول (پیشاب آور) اور مدرِ حیض ہے؛ گردے اور مثانے کی پتھریوں کو توڑ کر نکالنے اور احتباسِ حیض (قاعدگی کی رکاوٹ) کو دور کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ مفاصل اور درد: عرق النساء (سیاٹیکا)، جوڑوں کے درد اور نقرس میں مفید ہے۔ 2. طبِ نبوی ﷺ اور اسلامک طب طبِ نبوی ﷺ کے روایتی صحائف اور اسلامی طب کی کتابوں میں اس کے استعمالات طبِ یونانی کے بنیادی اصولوں کے تحت بیان کیے گئے ہیں: احتباسِ حیض اور پیشاب کی بندش: پیشاب اور حیض کو جاری کرنے کے لی...