ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز ایرسا (سوسن کی جڑ / Iris Root) طبِ یونانی اور طبِ نبوی ﷺ میں ایرسا (جسے سوسن یا زنبق کی جڑ بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف اور اہم دوا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی مزاجاً کیفیت عام طور پر گرم اور خشک (دوسرے درجے میں) تسلیم کی جاتی ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں ایرسا کی جڑ کو متعدد امراض کے علاج اور صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: نظامِ تنفس کی اصلاح: یہ بلغم کو خارج کرنے (مخرج بلغم) اور سداد (سدے) کھولنے کی بہترین دوا ہے۔ کھانسی، دمہ، اور سینے کی جکڑن میں اس کا قشاندا یا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔ ورم اور درد میں افاقہ: تحلیلِ ورم (سوجن ختم کرنے) کی خصوصیت کی وجہ سے جوڑوں کے درد، عرق النساء (لنگڑی کا درد) اور احشاء (اندرونی اعضاء) کے ورم میں اسے ضماداً (لیپ) یا مشروب کے طور پر دیا جاتا ہے۔ مقوی و منقی دماغ: سر درد، فالج اور لقوہ جیسی اعصابی بیماریوں میں دماغی سدے کھولنے کے لیے اس کا استعمال کرایا جاتا ہے۔ زخم اور جلد کی صفائی: اس کا پاؤڈر زخموں کو بھرنے، جلد کے داغ دھبے دور کرنے اور چرند پرند یا حشرات کے کاٹنے کے...