اقاقیا (صمغ کیکر) Acacia arabica extract کے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز




 

اقاقیا (صمغ کیکر)


Acacia arabica extract


کے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز




اقاقیا (صمغ کیکر / کیکر کا گوند) یونانی اور نبوی طب میں ایک انتہائی اہم اور مفید دوا ہے، جو اپنے قبض، جالی (صفائی)، اور مقوی اعضا خصوصاً معدہ و جگر کی خصوصیات کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔

طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں فوائد و استعمال

  • اسہال اور پیچش کا خاتمہ: اس کی قابض خصوصیات کی وجہ سے دست، پیچش اور خون کے دستوں (dysentery) کو روکنے کے لیے اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔
  • قرح معدہ اور منہ کے چھالے: معدے کے زخموں، اندرونی سوزش اور منہ کے چھالوں کے لیے صمغ عربی کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بافتوں (tissues) کو تحفظ دیتا ہے۔
  • قوتِ باہ اور جریان: مقوی باہ ادویات میں اسے شامل کیا جاتا ہے اور یہ جریانِ منی و احتلام کے امراض میں فائدہ دیتا ہے۔
  • زخموں کی اندمال (شفایابی): اس کا سفوف یا اس کا نکالا ہوا رس زخموں پر چھڑکنے سے خون کا بہنا بند ہوتا ہے اور زخم جلد بھرتے ہیں۔
  • مسوڑھوں اور دانتوں کی مضبوطی: دانتوں کے مسوڑھوں سے خون آنے اور ڈھیلے پن کی صورت میں اس کا منجن یا غرارے کرنا مفید مانا گیا ہے۔

پرہیز اور احتیاطی تدابیر

  • قبض کے مریض: چونکہ اقاقیا (کیکر کا گوند) شدید قابض ہوتا ہے، اس لیے دائمی قبض یا سوداوی مزاج کے حامل افراد کو اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے یا ماہر حکیم کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔
  • گردے اور مثانے کی پتھری: زیادہ مقدار میں اس کے استعمال سے بعض اوقات بول (پیشاب) کی رکاوٹ یا پتھری کے مریضوں کے لیے پیچیدگی ہو سکتی ہے۔
  • حمل اور دورانِ شیرخوارگی: حاملہ خواتین کو طبی مشورے کے بغیر اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
  • مقدارِ خوراک: اسے ہمیشہ معتدل مقدار میں استعمال کریں کیونکہ کثرتِ استعمال سے معدے میں بھاری پن اور انتڑیوں میں خشکی پیدا ہو سکتی ہے۔



...
AI

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک