ارنڈ کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز ارنڈ (کیسٹر / Castor) کو طب میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ اس کا سائنسی نام Ricinus communis ہے۔ اگرچہ اس کے بیجوں سے نکلنے والا تیل (کیسٹر آئل) بہت مشہور ہے، لیکن اس کی جڑ (ارنڈ مول) بھی طبی لحاظ سے بہت طاقتور ادویاتی خواص رکھتی ہے۔ 1. طب یونانی میں ارنڈ کی جڑ کے استعمال طب یونانی میں ارنڈ کی جڑ کا مزاج گرم و خشک تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ بلغم اور سودا کو خارج کرنے اور اعصابی و عضلاتی دردو ورم کو تحلیل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جوڑوں اور عرق النساء (لنگڑی کا درد) کا علاج: جوڑوں کے درد، گٹھیا (Arthritis) اور عرق النساء (Sciatica) میں اس کی جڑ کا جوشاندہ (قہوہ) استعمال کرایا جاتا ہے۔ ورم اور سوزش کی تحلیل: جسم میں کسی بھی جگہ بلغمی یا عضلاتی سوزش اور ورم ہو تو اس کی جڑ کا لیپ یا جوشاندہ اندرونی و بیرونی طور پر مفید ہے۔ اعصابی امراض: فالج، لقوہ، رعشہ اور پٹھوں کے کھنچاؤ میں اس کی جڑ سے تیار کردہ جوشاندہ اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔ سفوف یا جوشاندہ: عام طور پر 3 سے 5 گرام جڑ کا جوشاندہ بنا کر پلایا جاتا ہے۔ 2. ط...