ارنڈ کی جڑ
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
ارنڈ (کیسٹر / Castor) کو طب میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ اس کا سائنسی نام Ricinus communis ہے۔ اگرچہ اس کے بیجوں سے نکلنے والا تیل (کیسٹر آئل) بہت مشہور ہے، لیکن اس کی جڑ (ارنڈ مول) بھی طبی لحاظ سے بہت طاقتور ادویاتی خواص رکھتی ہے۔
1. طب یونانی میں ارنڈ کی جڑ کے استعمال
طب یونانی میں ارنڈ کی جڑ کا مزاج گرم و خشک تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ بلغم اور سودا کو خارج کرنے اور اعصابی و عضلاتی دردو ورم کو تحلیل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
- جوڑوں اور عرق النساء (لنگڑی کا درد) کا علاج: جوڑوں کے درد، گٹھیا (Arthritis) اور عرق النساء (Sciatica) میں اس کی جڑ کا جوشاندہ (قہوہ) استعمال کرایا جاتا ہے۔
- ورم اور سوزش کی تحلیل: جسم میں کسی بھی جگہ بلغمی یا عضلاتی سوزش اور ورم ہو تو اس کی جڑ کا لیپ یا جوشاندہ اندرونی و بیرونی طور پر مفید ہے۔
- اعصابی امراض: فالج، لقوہ، رعشہ اور پٹھوں کے کھنچاؤ میں اس کی جڑ سے تیار کردہ جوشاندہ اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔
- سفوف یا جوشاندہ: عام طور پر 3 سے 5 گرام جڑ کا جوشاندہ بنا کر پلایا جاتا ہے۔
2. طب ہندی (آیور وید) میں ارنڈ کی جڑ (ارنڈ مول)
آیور وید میں ارنڈ کی جڑ کو "ارنڈ مول" (Erand Mool) کہا جاتا ہے اور اسے وات دوش (Vata Dosha) کو متوازن کرنے کی بہترین دوا مانا جاتا ہے۔
- راشناسادی کواٹھ (Rasnasadi Kwath): جوڑوں اور پٹھوں کی بیماریوں کے لیے مشہور آیورویدک جوشاندہ، جس کا بنیادی جزو ارنڈ کی جڑ ہے۔
- مزمن قبض (Chronic Constipation): آیور وید میں پیٹ کی سختی اور پرانی قبض دور کرنے کے لیے ارنڈ مول کا قہوہ گرم پانی یا دودھ کے ساتھ دیا جاتا ہے۔
- گردے اور پتہ کی پتھری: سوجن کم کرنے اور مسالکِ بول (Urinary Tract) کو صاف کرنے کے لیے بھی اس کی جڑ کی دوائیں استعمال ہوتی ہیں۔
3. طب نبوی ﷺ اور ارنڈ
طب نبوی ﷺ کی مستند کتب (جیسے ابن القیم کی الطب النبوی) میں صریح طور پر ارنڈ کا ذکر ان مخصوص اصطلاحات کے ساتھ کم ملتا ہے، تاہم عربی طبِ قدیم میں اسے "خروع" (Khirwa) کہا جاتا ہے۔
- اسلامی طب میں اس کا استعمال بطور ملین (قبض کشا)، دافعِ سوزش اور جلد و بالوں کی دیکھ بھال کے علاج کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
- نبوی اصولِ علاج (سنا مکی اور ملین ادویات سے پیٹ کی صفائی) کے تحت اطباء نے خروع (ارنڈ) کے ملین اثرات کو پیٹ کی فاسد رطوبات نکالنے کے لیے نافع قرار دیا ہے۔
4. احتیاط اور پرہیز (پرھیز و مضرات)
ارنڈ کی جڑ ایک طاقتور اور مسہل (پیٹ صاف کرنے والی) دوا ہے، اس لیے اس کے استعمال میں سخت احتیاط لازمی ہے:
- حاملہ خواتین: حاملہ خواتین کے لیے ارنڈ کی جڑ کا اندرونی استعمال سخت منع (ممنوع) ہے، کیونکہ یہ رحم میں سکڑاؤ پیدا کر کے اسقاطِ حمل (Miscarriage) کا سبب بن سکتی ہے۔
- پیٹ کی شدید بیماریاں: اپینڈکس (Appendicitis)، آنتوں کی سوزش یا آنتوں کی بندش (Bowel Obstruction) میں اس کا استعمال نہ کریں۔
- اسہال (ڈائریا): جن لوگوں کو پہلے سے دست یا پیچش کی شکایت ہو، وہ اس کا استعمال نہ کریں۔
- گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے افراد کو اس کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی گرمی سے متلی يا پیٹ میں مروڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
- مقدارِ خوراک کا پرہیز: ارنڈ کے بیجوں میں ریکن (Ricin) نامی انتہائی مہلک زہر ہوتا ہے۔ اگرچہ جڑ میں اس کی مقدار مختلف ہوتی ہے، پھر بھی جڑ کا سفوف یا جوشاندہ بغیر کسی ماہر و مستند طبیب (حکیم یا آیورویدک ڈاکٹر) کے مشورے کے خود سے ہرگز استعمال نہ کریں۔


تبصرے