اترج (Citron) جسے بڑی لیموں یا ترنج بھی کہا جاتا ہے، طبِ یونانی، طبِ نبوی ﷺ اور طبِ ہندی (آیوروید) میں ایک نہایت معتبر اور کثیر الفوائد دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے بیج (تخمِ اترج) خاص طور پر تریاقی، مقوی اور دافعِ سموم (زہر کو دور کرنے والی) خصوصیات کی بنا پر الگ مقام رکھتے ہیں۔

۱. مزاج اور افعال (مزاجی کیفیت)

  • مزاج: گرم و خشک (درجہ دوم)۔
  • افعال: تریاق (زہروں کا توڑ)، دافعِ کرمِ شکم (پیٹ کے کیڑے مارنے والا)، مقویِ معدہ، اور محللِ ریاح (گیس تحلیل کرنے والا)۔

۲. طبِ نبوی ﷺ میں اترج کی اہمیت

نبی کریم ﷺ نے اترج کے پھل کی تعریف فرمائی اور مومن کی مثال اترج سے دی جس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور ذائقہ بھی۔ طبِ نبوی کے اطباء (مثلاً علامہ ابن القیمؒ) نے اس کے بیجوں کی طبی افادیت کے بارے میں بیان کیا ہے:

  • تریاقی اثر: اس کے بیجوں کا چھلکا اتار کر مغز استعمال کرنا بچھو اور زہریلے کیڑوں کے ڈنگ کے لیے تریاق کا کام دیتا ہے۔
  • معدہ اور ہضم: بیجوں کا سفوف معدے کے فاسد رطوبات کو خشک کرتا ہے اور قے کو روکتا ہے۔

۳. طبِ یونانی میں بیجوں کے فوائد و استعمالات

اطبائے یونانی نے تخمِ اترج کو متعدد امراض میں استعمال کرایا ہے:

  • زہر اور ڈنگ کا علاج: بیجوں کا مغز پیس کر نیم گرم پانی یا شراب/سرکے کے ساتھ دینا سانپ یا بچھو کے زہر کے خلاف دفاعی اثر رکھتا ہے۔
  • پیٹ کے کیڑے: بیجوں کا چھلکا سمیٹ (یا چھیل کر) سفوف بنا کر نیم گرم پانی کے ساتھ دینے سے پیٹ کے کیڑے (کرمِ شکم) خارج ہو جاتے ہیں۔
  • بواصیر اور مقعد کے امراض: اس کے بیجوں کو پیس کر لیپ بنانے یا سفوف کھانے سے بواسیری مسوں اور جلن میں افاقہ ہوتا ہے۔
  • تبخیرِ معدہ و گیس: معدے کی برودت (ٹھنڈک) اور گیس کو دور کرنے کے لیے ان کے بیجوں کا استعمال مفید ہے۔

۴. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال

آیوروید میں اترج کو "بیج پوراک" (Beejapura) یا "مہا فرلا" کہا جاتا ہے:

  • کف اور وال ناشک: یہ جسم میں بلغم (کف) اور بادی (وات) کی زیادتی کو متوازن کرتا ہے۔
  • دیپنا اور پاچنا (اشتہا انگیز و ہاضم): بیجوں کا جوشاندہ یا سفوف بھوک بڑھانے اور بدہضمی دور کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔
  • کرمشنا (کرم کش): بچوں اور بڑوں میں آؤں اور کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے اس کے بیجوں کے ساتھ تھوڑی سی ہینگ ملا کر دی جاتی ہے۔

۵. پرہیز اور احتیاطی تدابیر

  • گرم مزاج افراد: چونکہ بیج گرم و خشک ہوتے ہیں، اس لیے صقراوی (گرم) مزاج والے افراد کو ان کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے؛ یہ گرمی یا حلق میں خشکی پیدا کر سکتے ہیں۔
  • حاملہ خواتین: حاملہ خواتین کو اس کے بیجوں کے معجون یا سفوف کے تند استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے (تاوقتیکہ طبیب کی ہدایت نہ ہو)۔
  • مقدارِ خوراک: اس کے بیجوں کا سفوف یا مغز عام طور پر 3 ماشہ سے 5 ماشہ (تقریباً 3 تا 5 گرام) تک استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ مقدار میں لینے سے معدے میں گرانی ہو سکتی ہے۔
  • مصلح (نقصان دور کرنے والی چیز): گرم مزاج والے افراد کے لیے اس کا مصلح شہد، سکنجبین یا شربتِ نیلوفر ہے۔



  #ghaffar1466 
#AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک