ارجن (Terminalia arjuna) کی چھال کا پاؤڈر دل، خون کی نالیوں اور جگر کی صحت کے لیے قدیم ادویاتی نظاموں میں ایک نہایت اہم دوا تصور کیا جاتا ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں ارجن کی چھال کو مقویِ قلب (دل کو طاقت دینے والی) اور قابض (قابض و مجفف) دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مزاج: سرد 1° و خشک 2° (بعض اطباء کے نزدیک معتدل مائل بہ سرد)۔ فوائد و استعمالات: ضعفِ قلب (دل کی کمزوری): دل کے پٹھوں کو تقویت دیتا ہے اور گھبراہٹ و خفقان (Heart Palpitations) کو دور کرتا ہے۔ تصفیہ خون: خون کو صاف کرتا ہے اور فاسد مادوں کو جسم سے نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ نزف الدم (خون کا بہنا): اس کی قابض خصوصیت کی وجہ سے یہ اندرونی یا بیرونی خون کے بہاؤ (مثلاً بواسیر یا حیض کی زیادتی) کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ طریقہ استعمال: 3 سے 5 گرام پاؤڈر صبح و شام ہمراہ پانی یا دودھ۔ 2. طب نبوی ﷺ اور تاریخ وضاحت: طب نبوی ﷺ کے بنیادی اور مستند ذخیرہ احادیث (جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ) میں "ارجن" کا صریح اور براہِ راست نام کے ساتھ ذکر موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ درخت برصغیر (ہند و پا...