اشاعتیں

اکتوبر 9, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
  اترج (Citron) جسے بڑی لیموں یا ترنج بھی کہا جاتا ہے، طبِ یونانی، طبِ نبوی ﷺ اور طبِ ہندی (آیوروید) میں ایک نہایت معتبر اور کثیر الفوائد دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے بیج (تخمِ اترج) خاص طور پر تریاقی، مقوی اور دافعِ سموم (زہر کو دور کرنے والی) خصوصیات کی بنا پر الگ مقام رکھتے ہیں۔ ۱. مزاج اور افعال (مزاجی کیفیت) مزاج: گرم و خشک (درجہ دوم)۔ افعال: تریاق (زہروں کا توڑ)، دافعِ کرمِ شکم (پیٹ کے کیڑے مارنے والا)، مقویِ معدہ، اور محللِ ریاح (گیس تحلیل کرنے والا)۔ ۲. طبِ نبوی ﷺ میں اترج کی اہمیت نبی کریم ﷺ نے اترج کے پھل کی تعریف فرمائی اور مومن کی مثال اترج سے دی جس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور ذائقہ بھی۔ طبِ نبوی کے اطباء (مثلاً علامہ ابن القیمؒ) نے اس کے بیجوں کی طبی افادیت کے بارے میں بیان کیا ہے: تریاقی اثر: اس کے بیجوں کا چھلکا اتار کر مغز استعمال کرنا بچھو اور زہریلے کیڑوں کے ڈنگ کے لیے تریاق کا کام دیتا ہے۔ معدہ اور ہضم: بیجوں کا سفوف معدے کے فاسد رطوبات کو خشک کرتا ہے اور قے کو روکتا ہے۔ ۳. طبِ یونانی میں بیجوں کے فوائد و استعمالات اطبائے یونانی نے تخمِ اترج کو م...