اشاعتیں

اکتوبر 15, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اود ہندی کا برادہ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اود ہندی کا برادہ: تعارف، طبی استعمال اور پرہیز اود ہندی (Agarwood / Aloeswood / Aquilaria agallocha) ایک نہایت قیمتی، معطر اور مشہور دوا ہے جو طب کی مختلف تاریخوں (طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی/آیورووید) میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا برادہ (پاؤڈر یا باریک ریشہ) اپنے اندر بے شمار طبی خصوصیات رکھتا ہے۔ ۱. طب نبوی ﷺ میں اود ہندی کی اہمیت و استعمال احادیث مبارکہ میں اود ہندی (جسے عودِ ہندی یا قسطِ بحری/ہندی سے بھی نسبت دی جاتی ہے) کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے۔ ذات الجنب (پھیپھڑوں کی سوزش اور پسلی کا درد) کا علاج: حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "اس عودِ ہندی (اود ہندی) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات شفایں ہیں، جن میں سے ایک ذات الجنب (پسلی کا درد یا پھیپھڑوں کا انفیکشن) کی دوا ہے۔" (صحیح بخاری) گل و حلق کے امراض میں: حلق کی سوزش، ٹانسلز اور منہ کے امراض کے لیے اس کا دھواں یا اس کا سفوف استعمال کرنے کی روایت ملتی ہے۔ ۲. طب یونانی ...