اشاعتیں

اکتوبر 20, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
  عود صلیب (ان انگریزی میں: Common Peony / سائنسی نام: Paeonia officinalis ) طبِ یونانی، طبِ ہندی اور روایتی حکمت میں ایک انتہائی اہم اور معروف دوا ہے۔ اس کی جڑ کے ٹکڑے پر صلیب (کراس) یا چوکور لکیریں نما نشانات ہوتے ہیں، اسی مناسبت سے اسے 'عود صلیب' کہا جاتا ہے۔ حکیم صاحب! ذیل میں طبِ یونانی، طبِ ہندی اور طبِ نبوی ﷺ کے تناظر میں عود صلیب کے مزاج، فوائد، استعمال اور پرہیز کی تفصیلی معلومات پیشِ خدمت ہیں: ۱۔ ماہیت و مزاج مزاج: گرم و خشک (درجہ سوم)۔ پہچان: اس کی جڑ باہر سے بھوری اور اندر سے سخت ہوتی ہے۔ توڑنے پر اس پر صلیب نما لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ ذائقہ چرپرا (تیز) اور قدرے تلخ ہوتا ہے۔ ۲. طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی کے اطباء اسے اعصابی اور دماغی امراض کا اکسیر مانتے ہیں: امراضِ دماغ و اعصاب: عود صلیب کو مفتح (سدد کھولنے والی)، محلل اور مسکن ہونے کی وجہ سے مرگی (Epilepsy)، فالج، لقوہ، رعشہ (Tremors)، اور جنون میں بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ اختناق الرحم اور نسوانی امراض: عورتوں کے عصبانی امراض (جیسے اختناق الرحم) اور دردِ رحم کے لیے یہ مفید دوا ہے۔ ی...