اشاعتیں

اکتوبر 22, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

انجدان کا تیل طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجدان کا تیل طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز انجدان (ہینگ کے پودے کی جڑ/گوند یا روپند) کا تیل سنّتی اور دیسی طب میں ایک انتہائی اہم، گرم و خشک مزاج کا تیل مانا جاتا ہے۔ قدیم اطباء اور حکماء نے اس کے فوائد اور استعمال کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ ذیل میں طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی (آیوروید) کی روشنی میں انجدان کے تیل کے استعمالات، فوائد اور احتیاطی تدابیر (پرہیز) درج کی جاتی ہیں: ۱. طب یونانی میں استعمال (Tib-e-Unani) طب یونانی میں انجدان (خصوصاً انجدان سفید اور اس سے حاصل شدہ روغن) کو تیسرے سے چوتھے درجے میں گرم و خشک تسلیم کیا گیا ہے۔ اعصابی و جوڑوں کے درد: فالج، لقوہ، عرق النساء (لنگڑی کا درد/Sciatica)، اور جوڑوں کے پرانے دردوں میں اس تیل کی مالش (ضماد) انتہائی مفيد ہے۔ یہ عضلات کو طاقت دیتا ہے اور بلغم کو تحلیل کرتا ہے۔ پیٹ کی ہوا اور ریاح کا خاتمہ: پیٹ کے مروڑ، گیس، اور نفخ (آفارہ) دور کرنے کے لیے ناف کے ارد گرد اس کا ہلکا مساج کیا جاتا ہے۔ کان کے امراض: اگر کان میں درد ہو، سنسناہٹ ہو یا بلغم/سردی کی وجہ سے ثقلِ سماعت (اونچا سننا) ہو تو نیم گ...