انیسون دیسی طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
انیسون دیسی
طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز
انیسون (جسے بادیان رومی یا ولایتی سونف بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف دیسی جڑی بوٹی ہے۔ اس کا سائنسی نام Pimpinella anisum ہے۔
طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد
طبِ یونانی میں انیسون کا مزاج گرم و خشک (درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔
- کاسرِ ریاح (گیس کا خاتمہ): یہ پیٹ سے دیسی گیس اور اپھارہ دور کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔
- مقویِ معدہ و جگر: معدے اور جگر کی ضعیفی کو دور کر کے ہاضمہ درست کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔
- منفثِ بلغم (بلغم کا اخراج): کھانسی، دمہ اور سینے کے بلغم کو خارج کرنے کے لیے جوشاندے کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔
- مدرِ بول و حیض: پیشاب اور حیض کی بندش کو کھولتا ہے اور گردے و مثانے کی سوجن میں نافع ہے۔
- مفتحِ سدد: جسم کی نالیوں کے سدے (روکاوٹیں) کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
طبِ نبوی ﷺ میں مقام
اگرچہ انیسون کا صریح نام حدیث کی عام کتب میں کم ملتا ہے، لیکن اطبائے اسلام اور طبِ نبوی ﷺ کے شارحین (جیسے ابن القیم) نے بادیان/انیسون کو ان جڑی بوٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو معدے کی اصلاح اور ریاحی امراض کے علاج کے لیے نبوی طرزِ علاج کی روح کے مطابق مفید ہیں۔
استعمال کرنے کا طریقہ
- جوشاندہ/چائے: نصف چمچ (3 تا 5 گرام) انیسون کو ایک کپ پانی میں ابال کر چھان لیں اور حسبِ ضرورت شہد ملا کر پیئیں۔
- سفوف: اسے سونف اور الائچی کے ساتھ ہم وزن ملا کر پیس لیں اور کھانے کے بعد نصف چمچ استعمال کریں۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر
- گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال دردِ سر (سردرد) کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اسے سکنجبین یا مصطگی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
- حاملہ خواتین: حیض کو جاری کرنے کی خصوصیت کی وجہ سے دورانِ حمل اس کے زیادہ استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
- زیادہ مقدار سے پرہیز: اس کی تیزابی یا زہریلی نوعیت سے بچنے کے لیے تجویز کردہ مقدار (3 سے 5 گرام روزانہ) سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
۔۔
Ai


تبصرے