اسپغول مسلم بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اسپغول مسلم بیج
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اسپغول مسلم سے مراد اسپغول کا پورا اور سالم بیج (Whole Psyllium Seed) ہے، یعنی بغیر چھلکا اتارے یا پیسے ہوئے بیج۔ مختلف ادویاتی نظاموں میں اس کے استعمال کی تفصیل درج ذیل ہے:
طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسپغول کا مزاج سرد و تر (درجہ دوم) مانا جاتا ہے۔
- آنتوں کی اصلاح اور قبض/اسہال: یہ اپنی لعاب دار (mucilaginous) خصوصیت کے باعث آنتوں کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ قبض کی صورت میں اسے پانی کے ساتھ لیا جاتا ہے اور پیچش یا دست کی حالت میں دہی/چھاش کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
- معدے کی تیزابیت اور جلن: پیٹ اور معدے کی حرارت کو سکون دیتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔
- جریان و احتلام: منی کو گاڑھا کرنے اور مردانہ مسائل کی اصلاح کے لیے یونانی حکماء اسے دودھ اور مصری کے ساتھ استعمال کرواتے ہیں۔
- خارجی استعمال (ضماد/لیپ): بیجوں کو پانی میں بھگو کر بننے والے لعاب کو پیشانی پر لگانے سے گرمی کے دردِ سر اور جسمانی ورم یا سوزش پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔
طبِ نبوی ﷺ میں مقام احادیثِ مبارکہ میں اسپغول کا صریح (مستقیم) نام کے ساتھ ذکر قائم نہیں ہے، تاہم اسلامی طب اور قرونِ وسطیٰ کے نامور اطباء (جیسے ابن القیم) کے ہاں نباتی ادویات اور مسکن/مبرد (ٹھنڈک پہنچانے والی) جڑی بوٹیوں کی جو حکمت بیان کی گئی ہے، اس میں اسپغول کا شمار معدے کی حرارت بجھانے اور آنتوں کی نرمی کے لیے ہوتا ہے۔
طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال آیوروید میں اسے اسابگول یا پترا منجری کہا جاتا ہے۔
- پت اور واٹ کا توازن: یہ جسم میں "پت" (گرم مزاج/حرارت) اور "واٹ" (خشکی) کے بگاڑ کو متوازن کرتا ہے۔
- آنتوں کی صفائی (شدھی): آیوروید میں اسے نظامِ ہضم کے زہریلے مادوں (آم) کو خارج کرنے کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
- بواسیر اور فشر: مقعد کی نالی کی سوزش کو کم کرنے اور پاخانہ نرم کرنے کے لیے بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔
طریقہ استعمال
- مقدارِ خوراک: 5 سے 10 گرام (تقریباً 1 سے 2 چمچ)۔
- طریقہ: بیجوں کو پیس کر استعمال کرنے کے بجائے ہمیشہ سالم (مسلم) استعمال کریں۔ انہیں کچھ دیر پانی یا دودھ میں بھگو دیں تاکہ لعاب نکل آئے، پھر پی لیں۔
احتیاط اور پرہیز
- پیس کر نہ کھائیں: اسپغول کے بیجوں کو پیس کر کھانا نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے اندرونی حصے میں موجود تیل آنتوں کے لیے سخت ہو سکتا ہے، اس لیے اسے سالم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
- پانی کی کثرت: اسپغول استعمال کرتے وقت دن بھر میں پانی کا وافر استعمال لازمی ہے، ورنہ یہ آنتوں میں خشک ہو کر رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
- سرد مزاج افراد: جن لوگوں کا مزاج پہلے سے انتہائی سرد ہو یا جنہیں بلغمی کھانسی اور اعصابی کمزوری ہو، وہ اس کا بلاضرورت استعمال نہ کریں یا گرم اشیاء (جیسے شہد یا دارچینی) کے ساتھ ملا کر لیں۔
- آنتوں کی بندش (Intestinal Obstruction): اگر آنتوں میں شدید رکاوٹ کا مسئلہ ہو تو اس کے استعمال سے پرہیز کریں۔


تبصرے