ارنی کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
ارنی کے پتے
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
ارنی (جسے سنسکرت میں اگنی منتھ اور انگریزی میں Premna integrifolia یا Clerodendron phlomoides کہا جاتا ہے) روایتی ادویات میں ایک معروف بوٹی ہے۔
1. طب یونانی میں استعمال
طب یونانی میں ارنی کا مزاج گرم و خشک (غدی عضلاتی) مانا جاتا ہے۔ یہ محلل (سوجن تحلیل کرنے والی) اور ہاضم (غذا ہضم کرنے والی) ادویات میں شمار ہوتی ہے۔
- درد اور سوزش (جوڑوں کا درد/گٹھیا): اس کے پتوں کا جوشاندہ یا پتوں کو پیس کر لیپ بنانے سے جوڑوں کے درد، سوجن اور عرق النساء (لنگڑی کے درد) میں افاقہ ہوتا ہے۔
- بواسیر: پتوں کا جوشاندہ بنا کر سیک (ٹکور) کرنے سے بواسیر کے درد اور سوجن میں آرام ملتا ہے۔
- نظامِ ہضم: معدے کے بوجھل پن، گیس اور بدہضمی کو دور کرنے اور بھوک بڑھانے کے لیے مفید ہے۔
- اعصابی و خونی روانی: خون کو صاف کرنے اور جسمانی سستی و اعصابی تنوع کو کم کرنے کے لیے اس کے صفوف یا جوشاندے کا استعمال کیا جاتا ہے۔
2. طب ہندی (آیوروید) میں استعمال
آیوروید میں ارنی یا اگنی منتھ کو مشہور و معروف نسخے "دشمول" (دس جڑوں کا مرکب) کا ایک اہم جزو مانا جاتا ہے۔
- وات اور کف کا توازن: یہ پودا جسم میں "وات" (گیس/درد) اور "کف" (بلغم) کے نقائص کو متوازن کرتا ہے۔
- سوجن اور موٹاپا: جسم کی اندرونی و بیرونی سوجن (شوتھ) کو کم کرنے اور میٹابولزم کو تیز کر کے چربی گھلانے میں اس کے پتوں کا رس یا جوشاندہ استعمال ہوتا ہے۔
- بخار و بخار کی لہر: پتوں کو کالی مرچ کے ساتھ جوشاندہ بنا کر پینے سے موسمی یا سردی لگ کر آنے والے بخار میں فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
3. طبِ نبوی ﷺ میں ذکر
ارنی کے پتوں یا اس کے پودے کا صریح (براہ راست) نام احادیثِ مبارکہ یا طبِ نبوی ﷺ کی بنیادی کتب میں الگ سے مذکور نہیں ہے۔ تاہم، طبِ نبوی ﷺ میں جڑی بوٹیوں اور قدرتی اشیاء سے علاج کے عمومی اصول، صفائی، اور مزاج کے مطابق پرہیز کی جو ہدایت دی گئی ہے، اسی روشنی میں اطباء اس کے استعمال کی توثیق کرتے ہیں۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر
- گرم مزاج افراد: چونکہ ارنی کی تاثیر گرم اور خشک ہوتی ہے، اس لیے گرم مزاج والے افراد یا گرمیوں کے موسم میں اس کا زیادہ استعمال نہ کریں۔
- حاملہ خواتین: حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اس کا اندرونی استعمال (پینا/کھانا) طبیب کے مشورے کے بغیر بالکل نہ کریں۔
- خوراک کی مقدار: اس کی پتوں کی زیادہ مقدار یا خود ساختہ مسلسل استعمال سے پیٹ میں جلن يا خشکی ہو سکتی ہے، لہٰذا 3 سے 5 گرام سے زیادہ جوشاندہ یا سفوف استعمال نہ کریں۔
- پرہیز: علاج کے دوران بادی، شدید ترش، تلی ہوئی اشیاء اور دہی/چاول (خصوصاً جوڑوں کے درد کی صورت میں) سے پرہیز کریں۔


تبصرے