انار کا پھول، جسے طبی دنیا میں گلنار (یا گل انار / گلنار فارسی) کہا جاتا ہے، اپنے قوی حابس (دم کو روکنے والے) اور قابض خواص کی وجہ سے قدیم طبی نظاموں میں انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔

۱. مزاج اور عمومی خواص (Moaj & Properties)

  • مزاج: سرد ۲° اور خشک ۲° (بعض اطباء کے نزدیک سرد ۱° اور خشک ۲°)۔
  • افعال: قابض (Astringent)، حابس الدم (Hemostatic - خون روکنے والا)، مغلظ (گاڑھا کرنے والا)، اور رادع (سوجن و مادوں کو روکنے والا)۔

۲. طب یونانی میں استعمال (Unani Medicine)

طب یونانی میں گلنار کا بنیادی استعمال خون کے غیر طبیعی بہاؤ اور رطوبات کے اخراج کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے:

  • نکسیر اور خون کا بہاؤ: گلنار کو باریک پیس کر نسوار کے طور پر سونگھنے یا ناس لینے سے نکسیر (ناک سے خون بہنا) فوراً بند ہو جاتی ہے۔
  • امراضِ ریکٹم و اسہال: پرانے پیچش، اسہال (Diarrhea) اور سنگرہنی میں اس کا جوشاندہ یا سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔
  • امراضِ رحم و نسوانی عوارض: سیلان الرحم (لیکوریا) اور کثرتِ حیض (Menorrhagia - ماہواری کا زیادہ آنا) میں اس کا جوشاندہ اندرونی طور پر پلایا جاتا ہے اور بیرونی طور پر ابزن (Sitz bath) کے لیے مستعمل ہے۔
  • دانت اور مسوڑھے: مسوڑھوں کے ورم، خون آنے اور دانتوں کی ہلش کو دور کرنے کے لیے گلنار پر مشتمل منجن (یا جوشاندے سے کلیاں/غرارے) بے حد مفید ہیں۔
  • زخم اور التہاب: تازہ یا پرانے زخموں پر اس کا سفوف چھڑکنے سے خون بند ہوتا ہے اور زخم جلدی بھرتا ہے۔

۳. طب نبوی ﷺ کی روشنی میں (Prophetic Medicine)

طب نبوی ﷺ میں انار کے پھل، چھلکے اور پھولوں کے استعمال کو باہم مربوط اور صحت بخش قرار دیا گیا ہے:

  • احادیث کی روشنی: نبی اکرم ﷺ نے انار کو اس کے اندرونی پردوں/چھلکوں سمیت کھانے کی ترغیب دی کیونکہ یہ معدے کی دباعت (دباغت/صفائی) کرتا ہے۔
  • اطبائے اسلام کا نقطہ نظر: ابن القیمؒ اور دیگر اطبا نے انار کے پھولوں (گلنار) کو قوی قابض دوا کے طور پر تسلیم کیا ہے جو معدے کی اصلاح، قے کو روکنے اور آلاتِ تنفس یا معدے سے آنے والے خون کو فوراً روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

۴. طب ہندی / آیوروید میں استعمال (Ayurveda / Indian Medicine)

آیوروید میں انار کے پھول کو دتا پُشپ (Dadima Pushpa) کہا جاتا ہے اور یہ پِتّ (Pitt) اور کَف (Kapha) کو متوازن کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے:

  • ذیابیطس (Diabetes): آیورویدک مرکبات میں گلنار کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے اور بار بار پیشاب آنے کے عارضے کو قابو کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
  • جلن اور سوجن (Anti-inflammatory): جسمانی حرارت اور اندرونی سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کا شربت یا جوشاندہ دیا جاتا ہے۔
  • جلدی امراض: چہرے کی چھائیوں، دانوں اور رنگت نکھارنے کے لیے گلنار کو گلاب کے عرق یا صندل کے ساتھ ملا کر لیپ (Face pack) بنایا جاتا ہے۔

۵. احتیاط اور پرہیز (Contraindications & Precautions)

گلنار اپنے شدید قابض (Astringent) اور سرد مزاج کی وجہ سے درج ذیل حالتوں میں پرہیز طلب ہے:

  1. شدید قبض (Constipation): ایسے افراد جو دائمی یا شدید قبض کا شکار ہوں، وہ گلنار کا اندرونی استعمال نہ کریں کیونکہ یہ قبض میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
  2. سرد مزاج افراد: بلغم یا سرد مزاج والے افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال مناسب نہیں؛ اسے شہد یا مستگی کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔
  3. معدے کی برودت (سردی): ضعیف اور سرد معدے والوں میں یہ ہضم کو سست کر سکتا ہے۔
  4. حمل (Pregnancy): حاملہ خواتین کو قوی قابض ادویات اور گلنار کے خود ساختہ اندرونی استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مصلح (Corrective): گلنار کا مصلح (نقصان کو دور کرنے والی شے) کتیرا، شہد، اور شربتِ نیلوفر ہے۔





#ghaffar1466 

#AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک