ادخر (جسے انگریزی میں Camel Grass / Lemon Grass کی ایک قسم اور سائنسی نام Cymbopogon schoenanthus کہا جاتا ہے) ایک خوشبودار گھاس ہے جس کی جڑ اور ڈنڈی طبی لحاظ سے انتہائی مفید سمجھی جاتی ہے۔ ہندی اور مقامی زبانوں میں اسے کھس یا گندھ بیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
1. طب نبوی ﷺ میں ادخر
احادیثِ مبارکہ میں ادخر کا ذکر خصوصی اہمیت کے ساتھ آیا ہے:
- مکہ مکرمہ کی حرمت اور استثنا: فتحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ نے مکہ کے درخت اور گھاس کاٹنے سے منع فرمایا، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! سوائے ادخر کے، کیونکہ یہ ہمارے لوہاروں کے کام آتی ہے اور گھروں کی چھتوں پر ڈالی جاتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "سوائے ادخر کے۔" (صحیح بخاری)
- افادیت: طب نبوی ﷺ کے اطباء کے نزدیک ادخر جگر اور طحال (تلی) کے سدے کھولنے، سوجن تحلیل کرنے اور پیشاب آور کے طور پر مفید ہے۔
2. طب یونانی میں استعمال
طب یونانی میں ادخر کی جڑ کو محلل (سوجن دور کرنے والی)، مفتح سدد (ناڑیوں کی بندش کھولنے والی) اور مدرِ بول و حیض (پیشاب اور حیض جاری کرنے والی) تسلیم کیا جاتا ہے۔
- مزاج: گرم 2nd درجے میں، خشک 2nd درجے میں۔
- اہم فوائد:
- معدہ و جگر: معدے اور جگر کی ورم کو تحلیل کرتی ہے اور مقویِ معدہ ہے۔
- گردہ و مثانہ: گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑنے اور پیشاب کی بندش دور کرنے میں معاون ہے۔
- نفخ اور ریاح: پیٹ کی گیس، افارہ اور مروڑ کو ختم کرتی ہے۔
- رحم کی صفائی: احتباسِ حیض (حیض کا رک جانا) کی صورت میں اس کا جوشاندہ مفید مانا جاتا ہے۔
3. طب ہندی (آیور وید) میں استعمال
آیور وید میں ادخر کی جڑ کو کتھیرن یا روہش کے قبیل سے شمار کیا جاتا ہے اور اسے پت دوش اور کف دوش کو متوازن کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
- اہم فوائد:
- بخار اور حرارت: جسم کی زائد حرارت اور بخار کی شدت کو کم کرنے کے لیے اس کا عرق یا جوشاندہ دیا جاتا ہے۔
- جلد اور پسینہ: جلد کی سوزش دور کرتی ہے اور نظامِ تنفس کی صفائی میں مدد دیتی ہے۔
- دیگر استعمال: اس کا لیپ جوڑوں کے درد اور سوجن پر باندھا جاتا ہے۔
4. طریقہ استعمال اور مقدارِ خوراک
- جوشاندہ (کاڑھا): 5 سے 7 گرام ادخر کی جڑ کو پانی میں ابال کر چھان کر پیا جاتا ہے۔
- عرق: ادخر کا عرق 30 سے 50 ملی لیٹر تک استعمال کیا جاتا ہے۔
- لیپ (ضماض): جڑ کو پیس کر سوجن یا درد والی جگہ پر لیپ کیا جاتا ہے۔
5. پرہیز اور احتیاطی تدابیر
- حاملہ خواتین: چونکہ یہ مدرِ حیض (حیض جاری کرنے والی) ہے، اس لیے حاملہ خواتین اس کا اندرونی استعمال بالکل نہ کریں۔
- گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال دردِ سر (سر درد) پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اسے سکنجبین یا لیموں کے رس کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
- گردے کی شدید سوزش: اگر گردے میں شدید
- سوزش ہو تو بغیر طبی مشورے کے استعمال نہ کریں۔



تبصرے