اجمود کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اجمود کے پتے
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
اجمود (انگریزی: Celery / Apium graveolens) ایک معروف اور مؤثر طبی جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے، بیج اور جڑیں مختلف ادویاتی نظاموں میں کارآمد سمجھی جاتی ہیں۔
1. طب یونانی میں اجمود کے پتے
یونانی طب میں اجمود کو حار و یابس (گرم و خشک) مزاج کی حامل جڑی بوٹی شمار کیا جاتا ہے۔
- خواص و فوائد:
- مفتح سدد: جگر، تلی اور گردوں کی سدد (رکاوٹوں) کو کھولتا ہے۔
- مدرِ بول و حیض: پیشاب آور ہے اور خواتین کے احتباسِ حیض (حیض کا رک جانا) میں مفید ہے۔
- محللِ ریاح: پیٹ کے افارے، گیس اور ریاحی دردوں کو ختم کرتا ہے۔
- مقویِ معدہ و جگر: ہضم کو درست کرتا ہے اور جگر کی ضعف کو دور کرتا ہے۔
- طریقہ استعمال: پتوں کا جوشاندہ (کاڑھا) بنا کر پیا جاتا ہے یا تازہ پتوں کا رس 10 تا 15 ملی لیٹر حسبِ ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔
2. طب نبوی ﷺ اور اطبائے اسلام کی نظر میں
طب نبوی ﷺ اور قدیم اسلامی طب کے مآخذ (مثلاً ابن القیمؒ اور ابن سیناؒ کی تحاریر) میں اجمود (جسے عربی میں کرِفس کہا جاتا ہے) کا ذکر مختلف فوائد کے ساتھ ملتا ہے:
- فوائد و علاج:
- انسدادِ سدد: اطبائے اسلام کے نزدیک کرفس (اجمود) کے پتے اور جڑیں جگر اور گردے کے سدے کھولنے کے لیے بہترین ہیں۔
- پتھری کا اخراج: گردے اور مثانے کی سوزش اور باریک پتھری کو خارج کرنے میں مددگار ہے۔
- سانس کی بحالی: بلغم کو چھانٹتا ہے اور ضیق النفس (دما) و کھانسی میں افاقہ دیتا ہے۔
3. طب ہندی (آیوروید) میں استعمال
آیوروید میں اجمود کو اجامودا (Ajamoda) کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کفا (Kapha) اور واٹا (Vata) دوش کو متوازن کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
- اہم فوائد:
- دیپن و پاچن: اشبہا (بھوک) بڑھاتا ہے اور زہریلے مادوں (آما) کو جسم سے خارج کرتا ہے۔
- جوڑوں کا درد (آرتھرائٹس): پتوں اور بیجوں کا لیپ سوزش اور جوڑوں کے درد میں مفید ماننا جاتا ہے۔
- پیٹ کے کیڑے: اس کا رس پیٹ کے کیڑوں کا خاتمہ کرنے میں معاون ہے۔
پرہیز اور احتیاطی تدابیر (مضر اثرات)
- حاملہ خواتین: حاملہ خواتین اجمود کا زیادہ مقدار میں استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ رحم میں سکڑاؤ پیدا کر کے اسقاطِ حمل کا باعث بن سکتا ہے۔
- گردوں کے شدید امراض: اگر گردوں کی شدید سوزش یا نیفرائٹس (Nephritis) ہو تو اس کے تیز پیشاب آور اثر کی وجہ سے محتاط رہیں۔
- گرم مزاج افراد: گرم مزاج والے لوگ اس کا استعمال گرم مصالحہ جات کے ساتھ زیادہ نہ کریں؛ اگر استعمال کرنا ہو تو سکنجبین یا سرکہ کے ساتھ بطورِ مصلح لیں۔



تبصرے