آم کی گٹھلی کا مغز طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
آم کی گٹھلی کا مغز
طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز
آم کی گٹھلی کا مغز (Mango Seed Kernel / Aam ki Guthli ka Maghaz) ایک انتہائی قیمتی اور کارآمد جڑی بوٹی ہے، جسے روایتی طبی نظاموں میں صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
1. طب یونانی میں استعمال
طب یونانی کے مطابق آم کی گٹھلی کا مغز مزاج کے اعتبار سے سرد اور خشک (عموماً درجہ دوم یا سوم) ہوتا ہے۔ یہ طاقتور قابض (Astringent)، ممسک اور جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہے۔
- اسہال (Diarrhea) اور پیچش (Dysentery): اس کا سفوف شدید موچن، اسہال اور خون کی پیچش کو بند کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔
- سیلان الرحم (Leucorrhea) اور حیض کی زیادتی: خواتین میں سفید پانی کے اخراج اور ماہواری کے دوران ضرورت سے زیادہ خون آنے کو اعتدال پر لانے کے لیے اس کا سفوف کھلایا جاتا ہے۔
- منہ کے چھالے اور مسوڑھے: اس کے جوشاندے سے غرارے کرنے یا مغز کو باریک پیس کر مسوڑھوں پر لگانے سے منہ کے چھالے، مسوڑھوں سے خون آنا اور منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔
- پیٹ کے کیڑے: بچوں اور بڑوں میں پیٹ کے کیڑوں کے اخراج کے لیے اس کا استعمال کروایا جاتا ہے۔
2. طب نبوی ﷺ اور اسلامی روایات
طب نبوی ﷺ میں براہ راست آم کی گٹھلی کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ آم برصغیر پاک و ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کا پھل ہے اور جزیرہ نما عرب میں اس دور میں عام نہیں تھا۔ تاہم، طب نبوی ﷺ کے عمومی اصولوں (جیسے قدرتی جڑی بوٹیوں، پھلوں کے اجزاء اور غذا سے شفا حاصل کرنے) کے تحت اس کے طبی فوائد کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلامی طب میں ہر وہ چیز جو انسانی صحت کے لیے نافع ہو اور نقصان دہ نہ ہو، اسے بطور دوا استعمال کرنے کی اجازت اور ترغیب دی گئی ہے بشرطیکہ وہ مستند حکماء یا ماہرین کی نگرانی میں ہو۔
3. طب ہندی (آیورووید) میں استعمال
آیورووید میں آم کی گٹھلی کو "आम्र बीज" (Amra Beeja) کہا جاتا ہے اور اسے کفت اور پِت دوش کو اعتدال میں لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
- ذیابیطس (Diabetes): آیورووید کے مطابق آم کی گٹھلی کا مغز خون میں شکر (Blood Sugar) کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کا سفوف انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے۔
- کولیسٹرول اور دل کی صحت: یہ خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے اور دل کی شریانوں کی صحت کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔
- جلد کے امراض: اس کے سفوف کو عرقِ گلاب یا ناریل کے تیل میں ملا کر جلد کے ددہرے (Eczema)، خارش اور الرجی والی جگہ پر لگایا جاتا ہے۔
- معدے کی تیزابیت: نظامِ ہاضمہ کو طاقت دینے اور گیس یا تضابیت کو رفع کرنے کے لیے آیوروویدک سفوف میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
اہم پرہیز اور احتیاطی تدابیر
اگرچہ یہ ایک قدرتی دوا ہے، لیکن اس کے استعمال میں درج ذیل احتیاطیں لازمی ہیں:
- اعتدال ضروری ہے: آم کی گٹھلی میں ٹینن (Tannins) اور بٹر گلاسمک اجزاء وافر مقدار میں ہوتے ہیں، اس لیے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے متلی، قے یا معدے میں جلدی تحریک پیدا ہو سکتی ہے۔
- حمل اور دودھ پلانے والی مائیں: حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی ماؤں کو بغیر کسی مستند طبی مشورے کے اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- قبض کے مریض: چونکہ اس کی تاثیر سخت قابض ہے، اس لیے پرانی قبض کے مریضوں کو اسے احتیاط سے یا حکیم کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے ورنہ قبض کی شکایت بڑھ سکتی ہے۔
- شریفانہ تیاری: گٹھلی کے مغز کو استعمال کرنے سے پہلے اس کے اوپر کا سخت خول اتار کر اندرونی سفید مغز کو اچھی طرح صاف کریں اور مناسب مقدار (عام طور پر 1 سے 3 گرام سفوف) ہی استعمال کریں۔
نوٹ: کسی بھی بڑی بیماری (جیسے ذیابیطس یا امراضِ قلب) کے علاج کے لیے اسے مستقل دوا کے طور پر شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج یا کسی مستند طبیب (حکیم / آیوروویدک ڈاکٹر) سے مشورہ ضرور کریں۔
#ghaffar1466
#AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466


تبصرے