اہم تنبیہ: ذیل میں دی گئی معلومات صرف علمی اور تاریخی مقاصد کے لیے ہیں۔ انار کی جڑ کی چھال ایک انتہائی قوی دوا ہے، جس کا غلط استعمال سنگین زہر خورانی (poisoning) کا باعث بن سکتا ہے۔ اسے کبھی بھی ماہر حکیم یا مستند طبیب کے مشورے اور نگرانی کے بغیر استعمال نہ کریں۔

انار (Punica granatum) کا پورا پودا (پھل، پھول، پتے، چھال اور جڑ) قدیم زمانے سے مختلف طبی نظاموں میں استعمال ہو رہا ہے۔ "انار کی جڑ کی چھال" (Pomegranate Root Bark) اپنی مخصوص کیمیائی ساخت، خاص طور پر "پیلیٹیرین" (pelletierine) نامی مادے کی وجہ سے بہت طاقتور مانی جاتی ہے۔

ذیل میں طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں اس کے استعمال اور پرہیز کی تفصیل دی گئی ہے:

1. طب یونانی (Unani Medicine)

طب یونانی میں انار کی جڑ کی چھال کو ایک مخصوص اور قوی دوا کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ حکما اس کے مزاج کو سرد اور خشک (Cold and Dry) درجہ سوم میں شمار کرتے ہیں۔

مشہور استعمال:

  • کرمِ شکم (Intestinal Worms) کا خاتمہ: یہ اس کا سب سے اہم اور قدیم استعمال ہے۔ یہ خاص طور پر پیٹ کے کیڑوں، بالخصوص کدو دانے (Tapeworms) کو ہلاک کرنے اور خارج کرنے کے لیے بے حد مؤثر مانی جاتی ہے۔ اس کے لیے چھال کا جوشاندہ مخصوص طریقے سے دیا جاتا ہے۔
  • قابض (Astringent): شدید خشک مزاج ہونے کی وجہ سے یہ زبردست قابض ہے۔ اسے پرانی پیچش (chronic dysentery) اور دستوں (diarrhea) کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب دوسری دوائیں کارگر نہ ہوں۔
  • خون بہنے کو روکنا (Haemostatic): یہ جسم کے کسی بھی حصے سے ہونے والی غیر معمولی خونریزی، جیسے نکسیر، بواسیر کا خون، یا خواتین میں کثرتِ حیض (excessive menstruation) کو روکنے کے لیے (خارجی یا داخلی طور پر بہت کم مقدار میں) استعمال کی جاتی ہے۔
  • مقویِ دندان و لثہ (Teeth and Gums Tonic): اس کے جوشاندے سے کلیاں (gargles) کرنا ہلتے ہوئے دانتوں کو مضبوط کرنے اور مسوڑھوں سے خون آنے کو روکنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

2. طب نبوی ﷺ (Prophetic Medicine)

طب نبوی ﷺ میں انار کے پودے، خاص طور پر اس کے پھل اور اس کے اندرونی چھلکے (Pomegranate Rind/Peel) کی بہت فضیلت اور طبی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ تاہم، انار کی جڑ کی چھال کے مخصوص استعمال کا ذکر براہِ راست احادیث مبارکہ میں نہیں ملتا۔ انار کے حوالے سے عام ہدایات درج ذیل ہیں:

انار کے بارے میں احادیث اور ارشادات:

  • معدے کی اصلاح: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "انار کھاؤ اور اس کے اندرونی چھلکے (گودے) سمیت کھاؤ، کیونکہ یہ معدے کو دباغت (پاک اور مضبوط) دیتا ہے" (احمد)۔
  • جنت کا پھل: قرآن مجید میں انار کو جنت کے پھلوں میں شمار کیا گیا ہے۔
  • شیطان سے حفاظت: بعض روایات میں ہے کہ انار کھانے سے چالیس دن تک شیطان کے وسوسوں سے حفاظت رہتی ہے (یہ روایات ضعیف مانی جاتی ہیں، لیکن انار کی روحانی اور جسمانی پاکیزگی پر دلالت کرتی ہیں)۔

خلاصہ: طب نبوی ﷺ میں زور مکمل انار (پھل اور اندرونی چھلکا) کھانے پر ہے تاکہ معدہ مضبوط ہو اور خون صاف ہو۔ جڑ کی چھال کا استعمال چونکہ "علاج بالدوا" کے سخت زمرے میں آتا ہے، اس لیے اسے طب یونانی کے اصولوں کے تحت حکما کی نگرانی میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

3. طب ہندی / آیوروید (Ayurveda)

آیوروید میں انار کو "دالم" (Dalim) کہا جاتا ہے اور اسے "تردوسہر" (Tridoshahara) یعنی تینوں دوشوں (Vata, Pitta, Kapha) کو متوازن کرنے والا مانا جاتا ہے، تاہم جڑ کی چھال خاص طور پر کفا اور پتا کو کم کرتی ہے۔ اس کا مزاج کونڈا (سرد) اور ذائقہ کشایا (تیکھا/قابض) ہوتا ہے۔

مشہور استعمال:

  • کریمی روگا (Worm Infestation): آیوروید میں بھی یہ پیٹ کے کیڑوں (آنتوں کے طفیلیے) کو مارنے کی سب سے بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔
  • پرواہیکا اور اتیسار (Dysentery and Diarrhea): پرانی پیچش اور اسہال میں اس کا سفوف یا جوشاندہ دیا جاتا ہے۔
  • رکتا پتا (Bleeding Disorders): ناک سے خون بہنا یا رحم سے خون کے زیادہ اخراج کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • مکھا روگا (Mouth Diseases): مسوڑھوں کی سوزش اور منہ کے السر کے لیے اس کے جوشاندے سے غرغرے کیے جاتے ہیں۔

4. پرہیز اور ضروری احتیاطیں (Contraindications and Safety)

انار کی جڑ کی چھال کا استعمال بہت احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ اس میں موجود الکلائڈز (جیسے Pelletierine) زیادہ مقدار میں زہریلے ہو سکتے ہیں۔

سخت پرہیز اور خطرات:

  1. حاملہ خواتین: جڑ کی چھال کا استعمال کبھی نہ کریں، کیونکہ یہ اسقاط حمل (abortion) کا باعث بن سکتی ہے۔
  2. بچے اور بزرگ: چھوٹے بچوں اور بہت کمزور بزرگوں کو یہ دوا ہرگز نہ دی جائے، کیونکہ وہ اس کی شدت برداشت نہیں کر سکتے۔
  3. زیادہ مقدار (Overdose): تجویز کردہ مقدار سے زیادہ استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ زہر خورانی کی علامات میں چکر آنا، الٹی، متلی، نظر کی دھندلاہٹ، پٹھوں کی کمزوری، تشنج (convulsions) اور شدید حالتوں میں سانس رکنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
  4. قبض (Constipation): چونکہ یہ شدید قابض ہے، اس لیے جن لوگوں کو پہلے سے شدید قبض رہتی ہو، وہ اسے استعمال نہ کریں، جب تک کہ کسی مسہل (laxative) کے ساتھ نہ دی جائے۔
  5. خود علاج سے گریز: اسے کبھی بھی چائے کی طرح ابال کر یا خود سے سفوف بنا کر نہ پھانکیں۔ اس کی خوراک اور تیاری کا طریقہ صرف ایک ماہر طبیب ہی طے کر سکتا ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کے لیے استعمال کے بعد اکثر مسہل (جلاب) دوا دی جاتی ہے تاکہ ہلاک شدہ کیڑے اور چھال کا زہریلا اثر جسم سے نکل جائے۔

خلاصہ: انار کی جڑ کی چھال ایک طاقتور 'پیراسائٹ کش' (antiparasitic) دوا ہے، لیکن یہ غذائی جزو نہیں ہے۔ اسے صرف اس وقت استعمال کریں جب کوئی مستند حکیم یا ڈاکٹر اس کی سفارش کرے اور خوراک کا تعین کرے۔




#ghaffar1466 

#AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک