اشاعتیں

ٹنڈ گنجہ پن

تصویر
ٹنڈ گنجہ پن  13.10.2026 start... #ghaffar1466  #AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466  a RahmatULLAH 

آم کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
آم کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز آم کے پتے (Mango Leaves) طبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ طبی کتب کے مطابق، آم کے پتوں میں وٹامنز (A, C, B)، اینٹی آکسیڈنٹس اور فینولک مرکبات پائے جاتے ہیں۔ طب یونانی، طب نبوی ﷺ اور طب ہندی میں ان کے استعمال، فوائد اور پرہیز کی تفصیل درج ذیل ہے: 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں آم کے پتوں اور ان کی راکھ کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: ذیابیطس (شوگر): آم کے پتوں کا جوشاندہ یا پتوں کا سفوف بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ یہ انسولین کی پیداوار کو متحرک کرتے ہیں۔ پتھری کا اخراج: پتوں کو سکھا کر بنایا گیا سفوف گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑنے اور خارج کرنے کے لیے مستعمل ہے۔ سانس کی بیماریاں: دمہ، کھانسی اور گلے کی سوزش میں پتوں کو پانی میں ابال کر غرارے کیے جاتے ہیں یا کاڑھا پیا جاتا ہے۔ جلنے کے نشانات یا زخم: تازے پتوں کی راکھ کو جلی ہوئی جلد یا زخموں پر لگانے سے فوری آرام ملتا ہے اور جلن کم ہوتی ہے۔ 2. طب نبوی ﷺ اور اسلامی روایات مستند طبی ذکر: طب نبوی ﷺ ...

ابہل پہاڑی طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
ابہل پہاڑی طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز ابہل (جسے انگریزی میں Juniper Berry اور دیسی طب میں حب العرعر، ہو بیر یا بعض مقامات پر پہاڑی جھاڑی/پودے کے نام سے جانا جاتا ہے) ایک انتہائی اہم اور مفید دوا ہے۔ طبِ یونانی، طبِ ہندی (آیوروید) اور روایتی نظام ہائے صحت میں اس کے استعمالات، فوائد اور پرہیز کی تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں: 1. طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی کے نامور اطباء (جیسے بوعلی سینا وغیرہ) نے ابہل کے مزاج کو گرم اور خشک قرار دیا ہے۔ جالی اور محلل خصوصیات: طب یونانی کی اصطلاح میں ابہل کو دواؤں کے زمرے میں "جالی" (جلد کی سطح کو صاف کرنے والی) اور "محلل" (سوجن اور غلیظ مادوں کو تحلیل کرنے والی) مانا گیا ہے۔ نظامِ بول اور گردے: یہ طاقتور مدرِ بول (Diuretic) ہے، جو گردوں کے افعال کو درست کرتی ہے، پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے اور مثانے کی صفائی کرتی ہے۔ امراضِ نسواں: ابہل کو شہد میں ملا کر استعمال کرنا بندشِ حیض (Amenorrhea) میں بہت مفید مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ خونِ حیض اور نفاس کو جاری کرتی ہے۔ جلدی امراض اور ز...

ابریشم مقشر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
 ابریشم مقشر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز ابریشم مقشر کا تعارف اور اہمیت ابریشم مقشر (خالص ریشم کا کوکون جس کا بیرونی خول یا کیڑا نکلا ہوا ہو) طب یونانی، طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور طب ہندی (آیوروید) میں ایک انتہائی اہم اور مقوی دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دل، دماغ اور اعصاب کو طاقت دینے کے لیے مشہور ہے۔ طب یونانی میں استعمال اور پرہیز طب یونانی میں ابریشم کو مفرح (خوشی اور طراوت دینے والا)، مقوی قلب (دل کو طاقت دینے والا) اور مقوی دماغ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اہم فوائد: دل اور دماغ کی تقویت: خفقان (دل کی گھبراہٹ)، کمزوری قلب اور مالیخولیا (دماغی الجھن) کے علاج میں مستعمل ہے۔ مفرح ادویات کا جزو: اسے مشہور یونانی مرکبات جیسے "مفرح اعظم" اور "خمیرہ ابریشم شفا بخش" میں بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ قوائے بدن کی بحالی: نقاہت اور طویل بیماری کے بعد جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ پرہیز: گرم مزاج والے افراد اسے حکیم کے مشورے کے بغیر زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس کی تاثیر معتدل مائل بہ گرم ہوتی ہے۔ ترش اور بہت زیادہ م...

اترج کے بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اترج کے بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اترج (Citron) جسے بڑی لیموں یا ترنج بھی کہا جاتا ہے، طبِ یونانی، طبِ نبوی ﷺ اور طبِ ہندی (آیوروید) میں ایک نہایت معتبر اور کثیر الفوائد دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے بیج (تخمِ اترج) خاص طور پر تریاقی، مقوی اور دافعِ سموم (زہر کو دور کرنے والی) خصوصیات کی بنا پر الگ مقام رکھتے ہیں۔ ۱. مزاج اور افعال (مزاجی کیفیت) مزاج: گرم و خشک (درجہ دوم)۔ افعال: تریاق (زہروں کا توڑ)، دافعِ کرمِ شکم (پیٹ کے کیڑے مارنے والا)، مقویِ معدہ، اور محللِ ریاح (گیس تحلیل کرنے والا)۔ ۲. طبِ نبوی ﷺ میں اترج کی اہمیت نبی کریم ﷺ نے اترج کے پھل کی تعریف فرمائی اور مومن کی مثال اترج سے دی جس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور ذائقہ بھی۔ طبِ نبوی کے اطباء (مثلاً علامہ ابن القیمؒ) نے اس کے بیجوں کی طبی افادیت کے بارے میں بیان کیا ہے: تریاقی اثر: اس کے بیجوں کا چھلکا اتار کر مغز استعمال کرنا بچھو اور زہریلے کیڑوں کے ڈنگ کے لیے تریاق کا کام دیتا ہے۔ معدہ اور ہضم: بیجوں کا سفوف معدے کے فاسد رطوبات کو خشک کرتا ہے اور قے کو روکتا ہے۔ ۳. طبِ ...

اتنگن پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
اتنگن پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز تخم اتنگن (Blepharis edulis) کو قدیم طبی نظاموں میں مقویِ باہ، مغلظِ منی اور ممسک مفرد دوا کے طور پر خاص اہمیت حاصل ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں اتنگن کا مزاج گرم 2° اور تر 1° تسلیم کیا جاتا ہے۔ خواص: مغلظِ منی (مادہ منویہ کو گاڑھا کرنے والا)، مقویِ باہ (طاقت دینے والا)، اور مولدِ منی (منی پیدا کرنے والا)۔ استعمالات: جریان، احتلام اور سرعتِ انزال کے خاتمے کے لیے سفوف/پاؤڈر کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ گردہ و مثانہ کو طاقت دیتا ہے اور کمر درد میں مفید ہے۔ ترکیبِ استعمال: معمول کی خوراک 3 سے 5 گرام (ہمراہ دودھ/مصری) ہوتی ہے۔ 2. طب ہندی (آیور وید) میں استعمال آیور وید میں اسے اٹنگن (Utangan Seed) کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ "واٹ" اور "پت" دونوں کے توازن کے لیے مستعمل ہے۔ خواص: "واشیکرن" (افزائشِ طاقت و شباب) اور "ورشیہ" (مردانہ توانائی میں اضافہ)۔ استعمالات: جسمانی ضعف دور کرنے اور اعصابی قوت بحال کرنے کے لیے مستعمل ہے۔ شکر یا گوکھرو کے ساتھ ملا کر ...

اجوائن خراسانی پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اجوائن خراسانی پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اجوائن خراسانی (سائنسی نام: Hyoscyamus niger / انگریزی: Henbane) ایک انتہائی قوی، دافعِ درد اور مخدّر (سن کرنے والی) بوٹی ہے۔ اس کا مزاج سرد خشک (تیسرے درجے میں) ہوتا ہے۔ طب میں اس کے پتے اور بیج دونوں استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن اس کی قوی التاثیر اور زہریلی نوعیت کی وجہ سے اس کا استعمال انتہائی احتیاط کا طالب ہے۔ 1. طب یونانی میں استعمال طب یونانی میں اجوائن خراسانی کے پتوں کو بنیادی طور پر مسکن (درد رفع کرنے)، مخدر (بے حس کرنے) اور دافعِ تشنج (پٹھوں کے کھچاؤ کو دور کرنے) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: شدید درد اور جوڑوں کا ورم: پتوں کا ضماد (لیپ) یا تیل جوڑوں کے درد، نقرس، اور عرق النساء (لنگڑی کا درد) میں تسکین کے لیے مقامی طور پر لگایا جاتا ہے۔ بے خوابی اور جنون/دیوانگی: اس کے مسکن اعصاب اثر کی وجہ سے قدیم یونانی اطباء شدید بے خوابی اور ذہنی اضطراب میں اس کا بیرونی ضماد یا مقید مقدار میں استعمال کراتے تھے۔ دانت کا درد: پتوں یا بیجوں کا دھواں (بخور) دانت کے کیڑے اور شدید درد کو دور کرنے کے لیے دیا ...

راج ویلفیئر مطب (دوا خانہ) 🌙 حکیم عبدالغفار قصوری مشورہ فی سبیل اللّٰہ مفت ( فری ) یومیہ ایک دن کی دوائی کا خرچہ 300 روپے +923064342541 قصور شہر پنجاب پاکستان رعشہ۔ فالج۔ اٹھراء۔جنسی امراض اور ھیپاٹائٹس کا خصوصی علاج کیاجاتاھے ۔

تصویر
 راج ویلفیئر مطب (دوا خانہ) 🌙 حکیم عبدالغفار قصوری  مشورہ فی سبیل اللّٰہ مفت ( فری ) یومیہ ایک دن کی دوائی کا خرچہ 300 روپے  +923064342541  قصور شہر پنجاب پاکستان   رعشہ۔ فالج۔ اٹھراء۔جنسی امراض اور ھیپاٹائٹس کا خصوصی علاج کیاجاتاھے ۔ خرچہ 300 روپے  #ghaffar1466  #AI HEALTH TIBB E UNANI 🌙1466 

القرآن حصول اولاد

حصول اولاد القرآن  رب لا تذرنی فرداً وآنت خیرالوارثین {الانبیاء 89} 

اجمود کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اجمود کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اجمود (انگریزی: Celery / Apium graveolens) ایک معروف اور مؤثر طبی جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے، بیج اور جڑیں مختلف ادویاتی نظاموں میں کارآمد سمجھی جاتی ہیں۔ 1. طب یونانی میں اجمود کے پتے یونانی طب میں اجمود کو حار و یابس (گرم و خشک) مزاج کی حامل جڑی بوٹی شمار کیا جاتا ہے۔ خواص و فوائد: مفتح سدد: جگر، تلی اور گردوں کی سدد (رکاوٹوں) کو کھولتا ہے۔ مدرِ بول و حیض: پیشاب آور ہے اور خواتین کے احتباسِ حیض (حیض کا رک جانا) میں مفید ہے۔ محللِ ریاح: پیٹ کے افارے، گیس اور ریاحی دردوں کو ختم کرتا ہے۔ مقویِ معدہ و جگر: ہضم کو درست کرتا ہے اور جگر کی ضعف کو دور کرتا ہے۔ طریقہ استعمال: پتوں کا جوشاندہ (کاڑھا) بنا کر پیا جاتا ہے یا تازہ پتوں کا رس 10 تا 15 ملی لیٹر حسبِ ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔ 2. طب نبوی ﷺ اور اطبائے اسلام کی نظر میں طب نبوی ﷺ اور قدیم اسلامی طب کے مآخذ (مثلاً ابن القیمؒ اور ابن سیناؒ کی تحاریر) میں اجمود (جسے عربی میں کرِفس کہا جاتا ہے) کا ذکر مختلف فوائد کے ساتھ ملتا ہے: فوائد و علاج: انسدادِ...