اشاعتیں

البقرہ QURAN 2-1

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 1  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :1 یہ حُرُوفِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں ۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دَور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حُرُوفِ مُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا ۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اسْلوب سے کام لیتے تھے ۔ چنانچہ اب بھی کلام جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ، ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں ۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مُقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو ، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بے معنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سورتوں کی ابتدا میں بولتے ہو ۔ اور یہی وجہ ہے کہ صحابہء کرام سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کے معنی پوچھے ہوں ۔ بعد میں یہ اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسّرین کے لیے ان کے معانی متعیّن کرنا مشکل ہو گیا ۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حروف کا مفہوم سمجھنے پر قرآن سے ہد...

QURAN1-7 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
 Surat No. 1 Ayat NO. 7  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :10 یعنی ’’ انعام ‘‘ پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دُنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی فلاح و سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ ’’ انعام ‘‘ سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجہ میں ملا کرتے ہیں ، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں ۔ ISLAM360