اشاعتیں

پنجاب کالونی قصور گلی نمبر 3 کھارا روڈ قصور لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

AI Health Tibb Unani 150 روپے

تصویر
 

AI Health Tibb Unani اروی Colocasia esculenta کے طبی فوائد استعمال اور پرھیز

تصویر
  اروی Colocasia esculenta کے طبی فوائد استعمال اور پرھیز ### اروی (Taro / Colocasia esculenta) - طبی فوائد، استعمال اور پرہیز اروی ایک مشہور اور عام سبزی ہے جو برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا کے کئی خطوں میں شوق سے کھائی جاتی ہے۔ اس کے پتے اور جڑیں (گندل یا اروی) دونوں ہی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور طبِ روایتی میں اس کے کئی طبی فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ ### طبی فوائد  * **نظامِ ہضم کی بہتری:** اروی میں فائبر (Fiber) کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو معدے کے نظام کو درست رکھتی ہے، قبض کا خاتمہ کرتی ہے اور آنتوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔  * **قوتِ مدافعت میں اضافہ:** اس میں موجود وٹامن سی، وٹامن اے اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں اور خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں۔  * **دل کی صحت کے لیے مفید:** اروی میں پوٹاشیم اور میگنیشیم پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے اور شریانوں کے تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔  * **شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے معاون:** اس کا گلائسیمک انڈیکس (Glycemic Index) کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ خون میں شوگر کی...

AI Health Tibb Unani آملہ Phyllanthus emblica کے مربہ بنانے کا طبی طریقہ فوائد استعمال اور پرھیز

تصویر
  آملہ Phyllanthus emblica کے مربہ بنانے کا طبی طریقہ  فوائد استعمال اور پرھیز آملہ (**Phyllanthus emblica**) قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ طب یونانی اور آیرویدک میں اسے **"اکسیرِ صحت"** اور **"مقویِ عام"** (پورے جسم کو طاقت دینے والا) مانا جاتا ہے۔ آملہ وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کا مربہ نہ صرف ذائقے دار ہوتا ہے بلکہ دل، دماغ، معدے اور نظر کو بے پناہ طاقت فراہم کرتا ہے۔ ## ۱. آملہ کا مربہ بنانے کا طبی و تحافی طریقہ طبی اور گھریلو انداز میں مربہ بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے تاکہ اس کی غذائیت اور طبی فوائد برقرار رہیں:  1. آملہ کی تیاری اور تلخی دور کرنا    پہلا مرحلہ    1 کلو تازہ اور بڑے سائز کے آملے لیں۔    آملوں کو اچھی طرح دھو کر ایک رات کے لیے چُونے کے پانی (یا صاف پانی میں تھوڑی سی پھٹکری ملا کر) میں بھگو دیں۔ اس سے ان کی کسایلاہٹ (تلخی) ختم ہو جاتی ہے۔    اگلے دن نکال کر صاف پانی سے 2 سے 3 بار اچھی طرح دھو لیں۔  2. گودنا (Pricking)    دوسرا مرحلہ    لکڑی کی سیخ یا کانٹے (Fork...

AI Health Tibb Unani **ادرک تازہ (Zingiber officinale)**، جسے عربی میں *زنجبیل رطب* اور انگریزی میں *Ginger* کہتے ہیں، طبِ یونانی اور روایتی طریقہ علاج میں ایک نہایت اہم اور کثیر الفوائد دوا اور غذا ہے۔ اس کا مزاج درجہ دوم میں **گرم و خشک** مانا جاتا ہے۔ راج ویلفیئر مطب کے معیار کے مطابق، ذیل میں ادرک تازہ کے طبی فوائد، طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر (پرہیز) کی تفصیل پیش خدمت ہے: ## 1. طبی فوائد (Therapeutic Benefits) * **مقویِ معدہ اور کاسرِ ریاح (Digestive & Carminative):** ادرک تازہ معدے کو طاقت دیتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے اور پیٹ کی گیس (نفخ شکم) کو فوری دور کرتا ہے۔ * **مسکنِ درد و سوزش (Anti-inflammatory):** یہ جسمانی دردوں، بالخصوص جوڑوں کے درد (وجع المفاصل) اور سوجن کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے۔ * **مخرجِ بلغم (Expectorant):** نزلہ، زکام، کھانسی اور دمہ میں ادرک کا استعمال پھیپھڑوں اور سینے سے بلغم کو خارج کرتا ہے۔ * **مقویِ باہ و اعصاب (Nervine & Aphrodisiac):** یہ اعصاب کو تقویت دیتا ہے اور دورانِ خون کو بہتر بنا کر مردانہ کمزوری میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ * **متلی اور قے کا علاج (Anti-emetic):** سفر کے دوران ہونے والی متلی (Motion Sickness) یا عام متلی اور الٹی کو روکنے کے لیے ادرک کا رس جادوئی اثر رکھتا ہے۔ * **خون کو پتلا کرنا:** یہ خون کی نالیوں میں رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔ ## 2. طریقہ استعمال (Clinical Uses) مختلف امراض میں ادرک تازہ کو مندرجہ ذیل طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے: ### الف۔ جوشاندہ / قہوہ (برائے نزلہ، زکام اور جوڑوں کا درد) * **اجزاء:** ادرک تازہ (باریک کٹی ہوئی) آدھا انچ کا ٹکڑا، پانی ایک کپ۔ * **ترکیب:** پانی میں ادرک کو اچھی طرح ابالیں، یہاں تک کہ پانی آدھا رہ جائے۔ حسبِ ضرورت شہد ملا کر نیم گرم پئیں۔ ### ب۔ ادرک اور شہد کا چاٹن (برائے کھانسی و گلا خراب) * **ترکیب:** ادرک تازہ کا رس ایک چائے کا چمچ اور خالص شہد ایک چمچ ملا کر دن میں دو سے تین بار چاٹیں۔ یہ گلے کی خراش اور بلغمی کھانسی کا بہترین علاج ہے۔ ### ج۔ ہضم کے لیے (سفوف یا نمک کے ساتھ) * کھانا کھانے سے پہلے ادرک کے چھوٹے ٹکڑے پر ہلکا سا نمک اور لیموں کا رس لگا کر چبانے سے معدہ متحرک ہوتا ہے اور بدہضمی دور ہوتی ہے۔ ## 3. پرہیز اور احتیاطی تدابیر (Precautions & Contraindications) اگرچہ ادرک انتہائی مفید ہے، لیکن مخصوص حالات میں اس کے استعمال سے پرہیز یا احتیاط لازمی ہے: * **گرم مزاج والے افراد:** چونکہ ادرک کا مزاج گرم خشک ہے، اس لیے صفراوی (گرم) مزاج والے افراد ادرک کا زیادہ استعمال نہ کریں، ورنہ سینے میں جلن یا خارش کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ * **بواسیر (Hemorrhoids):** خونی بواسیر کے مریض ادرک کے کثرتِ استعمال سے مکمل پرہیز کریں، کیونکہ یہ خون کی حدت کو بڑھا کر خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے۔ * **حمل (Pregnancy):** حاملہ خواتین ادرک کا استعمال انتہائی اعتدال کے ساتھ کریں۔ زیادہ مقدار میں اس کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ * **خون پتلا کرنے والی ادویات:** ایسے مریض جو خون پتلا کرنے والی ادویات (مثلاً Aspirin وغیرہ) استعمال کر رہے ہوں، وہ ادرک کا کثیر مقدار میں استعمال اپنے معالج کے مشورے کے بغیر نہ کریں، کیونکہ ادرک خود بھی قدرتی طور پر خون کو پتلا کرتی ہے۔ * **تیزابیت اور السر:** معدے کے زخم (السر) یا شدید تیزابیت کی صورت میں ادرک کے استعمال سے پرہیز کریں۔ > **نوٹ برائے مطب:** دوا کے طور پر ادرک کی روزانہ خوراک **1 سے 3 گرام** (تازہ ادرک) یا عرق کی صورت میں **5 سے 10 ملی لیٹر** تک مناسب مانی جاتی ہے۔ >

تصویر
**ادرک تازہ (Zingiber officinale)**، جسے عربی میں *زنجبیل رطب* اور انگریزی میں *Ginger* کہتے ہیں، طبِ یونانی اور روایتی طریقہ علاج میں ایک نہایت اہم اور کثیر الفوائد دوا اور غذا ہے۔ اس کا مزاج درجہ دوم میں **گرم و خشک** مانا جاتا ہے۔ راج ویلفیئر مطب کے معیار کے مطابق، ذیل میں ادرک تازہ کے طبی فوائد، طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر (پرہیز) کی تفصیل پیش خدمت ہے: ## 1. طبی فوائد (Therapeutic Benefits)  * **مقویِ معدہ اور کاسرِ ریاح (Digestive & Carminative):** ادرک تازہ معدے کو طاقت دیتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے اور پیٹ کی گیس (نفخ شکم) کو فوری دور کرتا ہے۔  * **مسکنِ درد و سوزش (Anti-inflammatory):** یہ جسمانی دردوں، بالخصوص جوڑوں کے درد (وجع المفاصل) اور سوجن کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے۔  * **مخرجِ بلغم (Expectorant):** نزلہ، زکام، کھانسی اور دمہ میں ادرک کا استعمال پھیپھڑوں اور سینے سے بلغم کو خارج کرتا ہے۔  * **مقویِ باہ و اعصاب (Nervine & Aphrodisiac):** یہ اعصاب کو تقویت دیتا ہے اور دورانِ خون کو بہتر بنا کر مردانہ کمزوری میں فائدہ پہنچاتا ہے۔  * **متلی...

QURAN S2-A34 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 34  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :45 اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقہ کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں ، ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مُسخَّر ہو جانے کا حکم دیا گیا ۔ چونکہ اس علاقے میں اللہ کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جا رہا تھا ، اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط ، جس کام میں بھی انسان اپنے ان اختیارات کو ، جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں ، استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کر لینے کا موقع دے دیں ، تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرہ عمل سے وہ کام متعلق ہو ، وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے ۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے ، نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے ، دونوں صُورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اِذن دے رہے ہیں ، تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہو گی ۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ ایک فرماں روا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صُوبے یا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے ، تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں ، ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں ، ا...

QURAN S2-A33 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 33  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :44 یہ مظاہرہ فرشتوں کے پہلے شبہہ کا جواب تھا ۔ گویا اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا کہ میں آدم کو صرف اختیارات ہی نہیں دے رہا ہوں ، بلکہ علم بھی دے رہا ہوں ۔ اس کے تقرر سے فساد کا جو اندیشہ تمہیں ہوا وہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے ۔ دوسرا پہلو صلاح کا بھی ہے اور وہ فساد کے پہلو سے زیادہ وزنی اور زیادہ بیش قیمت ہے ۔ حکیم کا یہ کام نہیں ہے کہ چھوٹی خرابی کی وجہ سے بڑی بہتری کو نظر انداز کر دے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A32 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 32  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :43 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرشتے اور فرشتوں کی ہر صنف کا علم صرف اسی شعبے تک محدُود ہے جس سے اس کا تعلق ہے ۔ مثلاً ہوا کے انتظام سے جو فرشتے متعلق ہیں ، وہ ہوا کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں ، مگر پانی کے متعلق کچھ نہیں جانتے ۔ یہی حال دوسرے شعبوں کے فرشتوں کا ہے ۔ انسان کو ان کے برعکس جامع عِلم دیا گیا ہے ۔ ایک ایک شعبے کے متعلق چاہے وہ اس شعبے کے فرشتوں سے کم جانتا ہو ، مگر مجموعی حیثیت سے جو جامعیّت انسان کے علم کو بخشی گئی ہے ، وہ فرشتوں کو میسّر نہیں ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A29 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 29  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :34 سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے ، اس کا تعیّن مشکل ہے ۔ انسان ہر زمانے میں آسمان ، یا با لفاظِ دیگر ماورائے زمین کے متعلق اپنے مشاہدات یا قیاسات کے مطابق مختلف تصوّرات قائم کرتا رہا ہے ، جو برابر بدلتے رہے ہیں ۔ لہذا ان میں سے کسی تصوّر کو بنیاد قرار دے کر قرآن کے ان الفاظ کا مفہُوم متعین کرنا صحیح نہ ہو گا ۔ بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماوراء جس قدر کائنات ہے ، اسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے ، یا یہ کہ زمین اس کائنات کے جس حلقہ میں واقع ہے ، وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :35 اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر مُتنبّہ فرمایا گیا ہے ۔ ایک یہ کہ تم اس خدا کے مقابلے میں کفر و بغاوت کا رویّہ اختیار کرنے کی جُراٴت کیسے کرتے ہو جو تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے ، جس سے تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی ۔ دوسرے یہ کہ جو خدا تمام حقائق کا عِلم رکھتا ہے ، جو درحقیقت علم کا سرچشمہ ہے ، اس سے منہ موڑ کر بجز اس کے کہ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکو اور کیا نتیجہ...

QURAN S2-A28 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360   

QURAN S2-A27 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 27  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :31 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرمان یا ہدایات جاری کرتا ہے ، ان کو عربی محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے ، کیونکہ ان کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے ۔ یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے ، جس کی رُو سے تمام نوعِ انسانی صرف اسی کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے ۔” مضبُوط باندھ لینے کے بعد “ سے اشارہ اس طرف ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوعِ انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا ۔  سُورہ اعراف ، آیت 172  میں اس عہد و اقرار پر نسبتًہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :32 یعنی جن روابط کے قیام اور استحکام پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے ، اور جنہیں درست رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ، ان پر یہ لوگ تیشہ چلاتے ہیں ۔ اس مختصر سے جملہ میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدّن و اخلاق کی پوری دنیا پر ، جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلّقات تک پھیلی ہوئی ہے ، صرف یہی ای...

QURAN S2-A26 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 26  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :28 یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی ، مکھّی ، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں ، ان پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلام الہٰی ہے ، جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :29 یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے ، حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے ، ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے اُلٹے نتائج نکال کر حق سے اَور زیادہ دُور چلے جاتے ہیں ۔ برعکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں ، ان کو اُنہی باتوں میں حکمت کے جوہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :30 فاسق : نافرمان ، اطاعت کی حد سے نِکل جانے والا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A23 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 23  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :24 اس سے پہلے مکّے میں کئی بار یہ چیلنج دیا جا چکا تھا کہ اگر تم اس قرآن کو انسان کی تصنیف سمجھتے ہو ، تو اس کے مانند کوئی کلام تصنیف کر کے دکھاؤ ۔ اب مدینے پہنچ کر پھر اس کا اِعادہ کیا جا رہا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو :  سُورہٴ یونس ، آیت 38 و سُورہٴ ہُود ، آیت 13 ۔ بنی اسرائیل ، آیت 88 ۔ الطور ، آیت 33 ۔ 34  )  ISLAM360 

QURAN S2-A17 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 17  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :16 مطلب یہ ہے کہ جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے ، صحیح کو غلط سے ، راہِ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کر دیا ، تو جو لوگ دیدہء بینا رکھتے تھے ، ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہو گئیں ، مگر یہ منافق ، جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا ۔” اللہ نے نور بصارت سلب کر لیا “ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے ۔ اللہ نور بصارت اسی کا سلب کرتا ہے جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا ، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ جب انہوں نے نور حق سے منہ پھیر کر ظلمتِ باطل ہی میں بھٹکنا چاہا تو اللہ نے انہیں اسی کی توفیق عطا فرما دی ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A13 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 13  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :13 یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :14 وہ اپنے نزدیک ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتے تھے جو سچائی کے ساتھ اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقّتوں اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ۔ ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق اور راستی کی خاطر تمام ملک کی دشمنی مول لے لی جائے ۔ ان کے خیال میں عقل مندی یہ تھی کہ آدمی حق اور باطل کی بحث میں نہ پڑے ، بلکہ ہر معاملے میں صرف اپنے مفاد کو دیکھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A11 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A7 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 7  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :10 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ  نے مہر لگا دی تھی ، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کر دیا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ پسند کر لیا ، تو اللہ نے ان کے دِلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ۔ اس مہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہو گا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو ۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کر دیتا ہے ، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے ، اور آپ کے طریقے کی خوبیوں کے لیے اس کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ، اور صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فی الواقع اس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A4 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 4  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :7 یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں ۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے ، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں ، رہیں اسی سر چشمے سے نکلی ہوئی دوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیں ۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن اپنا چشمہء فیض صرف ان لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں ، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے ، اور پ...

البقرہ QURAN 2-1

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 1  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :1 یہ حُرُوفِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں ۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دَور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حُرُوفِ مُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا ۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اسْلوب سے کام لیتے تھے ۔ چنانچہ اب بھی کلام جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ، ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں ۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مُقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو ، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بے معنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سورتوں کی ابتدا میں بولتے ہو ۔ اور یہی وجہ ہے کہ صحابہء کرام سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کے معنی پوچھے ہوں ۔ بعد میں یہ اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسّرین کے لیے ان کے معانی متعیّن کرنا مشکل ہو گیا ۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حروف کا مفہوم سمجھنے پر قرآن سے ہد...

Health Tibb Unani بادام

تصویر
 مغز بادام (Almond kernels) کو غذائیت کا پاور ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہ صدیوں سے نہ صرف بطور غذا بلکہ مختلف ادویات اور ٹوٹکوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان میں صحت بخش چکنائی، فائبر، پروٹین، میگنیشیم اور وٹامن ای بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ذیل میں مغز بادام کے استعمال کے اہم فائدے اور ممکنہ نقصانات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے: مغز بادام کے فائدے (Benefits) بادام کا باقاعدگی اور اعتدال میں استعمال صحت پر بے شمار مثبت اثرات مرتب کرتا ہے: 1. دماغی صحت اور یادداشت (Brain Health & Memory): بادام کو روایتی طور پر "دماغی غذا" سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس دماغی خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں، جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے اور بڑھتی عمر میں دماغی کمزوری (جیسے الزائمر) کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ 2. دل کی صحت (Heart Health): بادام دل کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ اس میں موجود مونو سیچوریٹڈ فیٹس (Monounsaturated fats) خون میں سے برے کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں موجود میگنیشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول ر...

QURAN 1-1

تصویر
 Surat No. 1 Ayat NO. 1  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :2 جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کر چکے ہیں ، سورہ فاتحہ اصل میں تو ایک دعا ہے ، لیکن دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جا رہی ہے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں ۔ یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو ۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کر دیا ۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو ، پہلے اس کی خوبی کا ، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو ۔ تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں ، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں : ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو ، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعتراف نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے ۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضہ بھی ہے اور احسان شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رطب اللّسان ہوں ۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تعریف اللہ کے لیے ہے ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’ تعریف اللہ ہی ‘‘ کے لیے ہے ۔ یہ بات کہہ کر ایک بڑی...