Surat No. 2 Ayat NO. 17 سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :16 مطلب یہ ہے کہ جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے ، صحیح کو غلط سے ، راہِ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کر دیا ، تو جو لوگ دیدہء بینا رکھتے تھے ، ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہو گئیں ، مگر یہ منافق ، جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا ۔” اللہ نے نور بصارت سلب کر لیا “ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے ۔ اللہ نور بصارت اسی کا سلب کرتا ہے جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا ، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ جب انہوں نے نور حق سے منہ پھیر کر ظلمتِ باطل ہی میں بھٹکنا چاہا تو اللہ نے انہیں اسی کی توفیق عطا فرما دی ۔ ISLAM360