اشاعتیں

QURAN S2-A26 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 26  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :28 یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی ، مکھّی ، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں ، ان پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلام الہٰی ہے ، جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :29 یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے ، حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے ، ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے اُلٹے نتائج نکال کر حق سے اَور زیادہ دُور چلے جاتے ہیں ۔ برعکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں ، ان کو اُنہی باتوں میں حکمت کے جوہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :30 فاسق : نافرمان ، اطاعت کی حد سے نِکل جانے والا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A25 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 25  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :26 یعنی نِرالے اور اجنبی پَھل نہ ہوں گے ، جن سے وہ نامانوس ہوں ۔ شکل میں اُنہی پَھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے ۔ البتہ لذّت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے ۔ دیکھنے میں مثلاً آم اور انار اور سنترے ہی ہوں گے ۔ اہل جنّت ہر پھل کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا ۔ مگر مزے میں دنیا کے آموں اور اناروں اور سنتروں کو ان سے کوئی نسبت نہ ہو گی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :27 عربی متن میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے معنی ہیں ” جوڑے “ ۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ شوہر کے لیے بیوی ” زوج “ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ” زوج “ ۔ مگر وہاں یہ ازواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے ۔ اگر دنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے ، تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دوسری نیک بیوی دے دی جائے گی ۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد ، تو وہاں وہ اس برے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شری...