اشاعتیں

QURAN S2-A27 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 27  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :31 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرمان یا ہدایات جاری کرتا ہے ، ان کو عربی محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے ، کیونکہ ان کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے ۔ یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے ، جس کی رُو سے تمام نوعِ انسانی صرف اسی کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے ۔” مضبُوط باندھ لینے کے بعد “ سے اشارہ اس طرف ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوعِ انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا ۔  سُورہ اعراف ، آیت 172  میں اس عہد و اقرار پر نسبتًہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :32 یعنی جن روابط کے قیام اور استحکام پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے ، اور جنہیں درست رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ، ان پر یہ لوگ تیشہ چلاتے ہیں ۔ اس مختصر سے جملہ میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدّن و اخلاق کی پوری دنیا پر ، جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلّقات تک پھیلی ہوئی ہے ، صرف یہی ای...

QURAN S2-A26 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 26  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :28 یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی ، مکھّی ، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں ، ان پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلام الہٰی ہے ، جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :29 یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے ، حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے ، ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے اُلٹے نتائج نکال کر حق سے اَور زیادہ دُور چلے جاتے ہیں ۔ برعکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں ، ان کو اُنہی باتوں میں حکمت کے جوہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :30 فاسق : نافرمان ، اطاعت کی حد سے نِکل جانے والا ۔ ISLAM360