RWM01122022 دماغ ہائپوتھیلامس
ہائپوتھیلامس Hypothalamus
یہ دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو دماغ کے قائدہ میں پیچوٹری گلینڈ کے نزدیک واقع ہے۔ اگرچہ یہ نہایت مختصر سی جسامات رکھتا ہے مگر طبیعت مدبرہ بدن کے بہت سے افعال میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے مثلا۔۔۔۔
نیوروہارمونز کا اخراج
درجہ حرارت کو باقائدہ رکھنا۔
روزمرہ وظائف بدنی کو برقرار رکھنا۔
بھوک کنٹرول کرنا۔
جنسی رویئے کو منظم کرنا۔
جذباتی رویئے میں باقائدگی رکھنا وغیرہ۔
اناٹومی اور فنکشنز۔۔۔۔
ہائپوتھیلامس کے درج زیل تین حصے ہیں۔ ہر حصہ مختلف نیوکلیائی پہ مشتمل ہے۔ یہ نیوکلیائی اعصابی گچھے ہیں جو وائٹل فنکشنز ادا کرتے ہیں۔ مثلا ہارمونز کا اخراج کرنا وغیرہ۔
اگلا حصہ Anterior Region
یہ حصہ سپرا۔اوپٹک ریجن بھی کہلاتا ہے۔ ہائپوتھیلامس کا یہ ریجن پسینے کے اخراج کے زریعے درجہ حرارت کو کنٹرول رکھتا ہے۔ نیز یہ سرکاڈیئن ردھم کو باقائدہ رکھتا ہے جوکہ روزانہ وقوع پزیر ہونے والے جسمانی اور جذباتی تغیرات ہیں۔ مثلا دن کے وقت جاگنا اور رات کے وقت سونا ایک سرکاڈیئن ردھم ہے جس کا تعلق روشنی کی موجودگی یا اندھیرے سے ہے۔
سپرا اوپٹک اور سپرا وینٹریکولر اس کے میجر نیوکلیائی ہیں ان کے علاوہ اس حصہ میں اور بھی بہت سے نیوکلیائی ہیں جو بالخصوص افراز ہارمون کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کافی ہارمونز نزدیکی واقع پیچوٹری گلینڈ پہ اثرانداز ہوکر وہاں سے دیگر ہارمونز کے افراز کا باعث بنتے ہیں۔ ہائپوتھیلامس کے اس حصہ کے خاص ہارمونز درج زیل ہیں۔
1۔ کورٹیکوٹروپن ریلیزنگ ہارمون (CRH) یہ ہارمون ذہنی و جسمانی تناو کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون پیچوٹری گلینڈ کو اشارہ کرکے Adrenocorticotropic Hormone (ACTH) کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ پھر ACTH کارٹی سول جیسے اہم سٹریس ہارمون کی پیدائش میں کردار بھی ادا کرتا ہے۔
2۔ تھائروٹروپک ریلیزنگ ہارمون THYROTROPIN RELEASING HORMONE (TRH) یہ ہارمون پیچوٹری گلینڈ کو تحریک دے کر تھائرائیڈ سٹیمولیٹنگ ہارمون TSH پیدا کرواتا ہے۔ جو بہت سے اعضائے بدنی مثلا دل۔ نظام ہضم اور عضلات کے افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
3۔ گوناڈوٹروپن ریلیزنگ ہارمون۔ یہ ہارمون بھی پیچوٹری گلینڈ پر اثرانداز ہوکر FSH اور LH جیسے اہم ہارمونز کی پیدائش کرواتا ہے۔
4۔ اوکسی ٹوسن Oxyticin
یہ ہارمون ممتا کے جزبات اور رویوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیز تولیدی نظام کے افعال مثلا بچے کی ولادت اور دودھ کی پیدائش جیسے افعال پہ اثرانداز ہوتا ہے۔
5۔ واسوپریزن Vasopressin
اسے اینٹی ڈائیوریٹک ہارمون (ADH) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون جسم میں پانی کا لیول برقرار رکھتا ہے۔ جب ADH کا افراز ہوتا ہے تو یہ گردوں کو پانی جذب کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔
6۔ سوماٹوسٹیٹن ہارمون۔ Somatostatin hormone
یہ ہارمون پیچوٹری گلینڈ کو کام کرنے سے روکتا ہے۔
ہائپوتھیلامس کا درمیانی حصہ Middle Region
یہ حصہ ٹیوبرل ریجن بھی کہلاتا ہے۔ وینٹرومیڈیئل اور آرکوئیٹ اس کے بڑے نیوکلیائی ہیں۔ وینٹرومیڈئیل نیوکلیئس بھوک پہ کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ جبکہ آرکوئیٹ نیوکلیئس گروتھ ہارمون سے تعلق رکھتا ہے۔
گروتھ ہاومون-ریلیزنگ ہارمون (GHRH) پیچوٹری گلینڈ کو گروتھ ہارمون ریلیز کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ گروتھ ہارمون بدن کی نشونما کا زمہ دار ہے۔
ہائپوتھیلامس کا پچھلا حصہ POSTERIOR REGION
اس حصہ کو ممیلری ریجن بھی کہتے ہیں۔ پوسٹیریئر ہائپوتھیلامک نیوکلیئس اور ممیلری نیوکلیائی اس حصہ کے بڑے نیوکلیائی ہیں۔ ان میں سے پوسٹیریئر ہائپوتھیلامک نیوکلیئس پسینے کی بندش اور لرزہ طاری کرکے بدن میں حرارت کو بڑھاتا ہے۔ جبکہ ممیلری نیوکلیائی کے افعال ابھی مکمل واضح نہیں ہوسکے۔ خیال ہے کہ اس نیوکلیائی کا تعلق یاداشت کے فعل سے ہے۔
ہائپوتھیلامس کی مختلف صورتیں۔۔۔
Hypothalamus Conditions
جب ہائپوتھیلامس مناسب افعال ادا نہ کرسکتا ہوتو اس صورت حال کو ہائپوتھیلامس ڈسفنکشن کہا جاتا ہے۔ یہ صورت پیدا ہونے کے درج زیل اسباب ہوسکتے ہیں۔
1۔ سر کی چوٹ
2۔ موروثی امراض مثلا گروتھ ہارمون کی کمی۔
3۔ تولیدی عمل کے دوران بچے کے سر اور ہائپوتھیلامس میں نقص آجانا۔
4۔ ہایپوتھیلامس کے اندر یا آس پاس ٹیومر بن جانا۔
5۔ Eating disease
6۔ آٹوامیون کنڈیشن۔
7۔ دماغی جراحت۔
نیز ہائپوتھیلامس کی فعلی خرابی درج زیل حالات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
1۔ ذیابیطس انسیپیڈس DI
اس مرض میں درجہ زیل علامات پائی جاسکتی ہیں۔
پیشاب کی زیادتی
بدن میں پانی کی کمی
شدید پیاس
خشک جلد
بخار
نشونما میں کمی
سستی تھکاوٹ
ذہنی پس ماندگی
اور دماغی دورے وغیرہ۔
اس مرض کا سبب ہائپوتھیلامس سے واسوپریزن ہارمون کا ناکافی افراز ہے۔ جس کے سبب گردے پانی کو دوبارہ جذب نہیں کرپاتے۔
2۔ Prader-willi syndrome
یہ ایک وراثتی مرض ہے اس میں ہائپوتھیلامس کا بھوک پہ کنٹرول نہیں رہتا۔ پیٹ بھرنے کے باوجود مریض کی بھوک کا احساس باقی ہوتا ہے اس مرض میں غذائی استحالہ سست ہوجاتا ہے۔ اور عضلات کمزور ہوکر سکڑنے لگتے ہیں۔ طب میں اس مرض کو جوع الکلب کا نام دیا گیا ہے۔
3۔ Hypopituitarism
اس مرض میں پیچوٹری گلینڈ مناسب مقدار میں ہارمون پیدا نہیں کرتا اکثر اس کا سبب پیچوٹری گلینڈ کی ساخت میں خرابی پیدا ہونا ہے۔ یہی صورت حال ہایپوتھیلامک کنڈیشن کے سبب بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
ہائپو تھیلامک کنڈیشن کی علامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائپوتھیلامس کے مختلف حصوں میں خرابی کی بنا پر اس مرض میں مختلف علامات پیش آسکتی ہیں۔ لیکن ہر علامت کا سبب کوئی نہ کوئی ہارمون ہی ہوتا ہے۔
علامات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ بلڈ پریشر کا غیر عمومی طور پہ بڑھ یا گر جانا۔
2۔ جسمانی درجہ حرارت میں کمی بیشی۔
3۔ جسمانی وزن کا بڑھنا یا کم ہونا۔
4۔ بھوک کے احساس میں تغیرات
5۔ تولیدی خرابیاں۔
6۔ نیند کی کمی۔
7۔ قد کا چھوٹا رہ جانا۔
8۔ ڈی ہائیڈریشن۔
9۔ سلسل بول۔
10۔ بلوغت میں دیر ہونا وغیرہ۔
ہائپوتھیلامس کنڈیشن کے اسباب اور ان کا تدارک۔۔۔۔۔
1۔ زیادہ چکنائی کا استعمال ہائپوتھیلامس میں انفلیمیشن کا سبب بنتا ہے۔ یہ سٹڈی حال ہی میں چوہوں پہ تجربات سے حاصل کی گئی ہے۔
2۔ چوہوں پہ تجربات سے ایک اور سٹڈی بھی کی گئی ہے۔ جس میں زیادہ گلوکوز والی خوراک بھی ہائپوتھیلامس کی سوزش پیدا کرتی ہے۔
3۔ 2014 میں چوہوں پہ کیئے گئے تجربات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ نیند کی کمی ہائپوتھیلامس ڈس فنکشن کا سبب بنتی ہے نیز نیند کی خرابی سے دیگر متعدد نیورلوجیکل امراض کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
تبصرے