QURAN S2-A2 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 2
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :2 اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ’’ بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ “ مگر ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دنیا میں جتنی کتابیں امورِ مابعد الطبیعت اور حقائقِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں , وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں ، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے ، خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں ۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے ، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے ، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں ، یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :3 یعنی یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی ، مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں ۔ ان میں سے اوّلین صِفت یہ ہے کہ آدمی ” پرہیزگار “ ہو ۔ بَھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو ۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو ۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو ۔ رہے وہ لوگ ، جو دنیا میں جانوروں کی طرح جیتے ہوں , جنہیں کبھی یہ فکر لاحق نہ ہوتی ہو کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ صحیح بھی ہے یا نہیں ، بس جدھر دنیا چل رہی ہو ، یا جدھر خواہشِ نفس دھکیل دے ، یا جدھر قدم اٹھ جائیں ، اسی طرف چل پڑتے ہوں ، تو ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں کوئی رہنمائِی نہیں ہے ۔
ISLAM360
.jpg)
تبصرے