QURAN S2-A22 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 22
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :23 یعنی جب تم خود بھی اس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں ، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے ، دوسرا کون اس کا حق دار ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ برتا جائے ۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صِرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا وہ ” شرک “ ہے ، جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے ۔
ISLAM360
.jpg)
تبصرے