QURAN S2-A20 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 20
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :19 پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے ۔ اور یہ دوسری مثال ان کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعفِ ایمان میں مبتلا تھے ، کچھ حق کے قائل بھی تھے ، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں ۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا ۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مراد مشکلات و مصائب کا وہ ہجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریکِ اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آ رہا تھا ۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تو یہ چل پڑتے ہیں ، اور جب مشکلات کے دَلْ بادَل چھانے لگتے ہیں ، یا ایسے احکام دیے جاتے ہیں جن سے ان کی خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصّباتِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے ، تو ٹھِٹک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :20 یعنی جس طرح پہلی قسم کے منافقین کا نور بصارت اس نے بالکل سَلب کر لیا ، اسی طرح اللہ ان کو بھی حق کے لیے اندھا بہرا بنا سکتا تھا ۔ مگر اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ جو کسی حد تک دیکھنا اور سننا چاہتا ہو ، اسے اتنا بھی نہ دیکھنے سننے دے ۔ جس قدر حق دیکھنے اور حق سننے کے لیے یہ تیار تھے ، اسی قدر سماعت و بصارت اللہ نے ان کے پاس رہنے دی ۔
...
ISLAM360
.jpg)
تبصرے