QURAN S2-A30 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 30
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :36 اُوپر کے رکوع میں بندگیِ ربّ کی دعوت اس بنیاد پر دی گئی تھی کہ وہ تمہارا خالق ہے ، پروردگار ہے ، اسی کے قبضہ قدرت میں تمہاری زندگی و موت ہے ، اور جس کائنات میں تم رہتے ہو ، اس کا مالک و مدبّر وہی ہے ، لہذا اس کی بندگی کے سوا تمہارے لیے اور کوئی دوسرا طریقہ صحیح نہیں ہو سکتا ۔ اب اس رکوع میں وہی دعوت اس بنیاد پر دی جا رہی ہے کہ اس دنیا میں تم کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا ہے ، خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تمہارا فرض صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اس کی بندگی کرو ، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق کام کرو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اپنے ازلی دشمن شیطان کے اشاروں پر چلے ، تو بدترین بغاوت کے مجرم ہو گے اور بدترین انجام دیکھو گے ۔ اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی حیثیت ٹھیک ٹھیک بیان کر دی گئی ہے اور نوعِ انسانی کی تاریخ کا وہ باب پیش کیا گیا ہے جس کے معلوم ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ انسان کو میسر نہیں ہے ۔ اس باب سے جو اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں ، وہ ان نتائج سے بہت زیادہ قیمتی ہیں جو زمین کی تہوں سے متفرق ہڈیاں نکال کر اور انہیں قیاس و تخمین سے ربط دے کر آدمی اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :37 مَلَک کے اصل معنی عربی میں ” پیامبر “ کے ہیں ۔ اسی کا لفظی ترجمہ فرستادہ یا فرشتہ ہے ۔ یہ محض مجرّد قوتیں نہیں ہیں ، جو تشخُّص نہ رکھتی ہوں ، بلکہ یہ شخصیت رکھنے والی ہستیاں ہیں ، جن سے اللہ اپنی اس عظیم الشان سلطنت کی تدبیر و انتظام میں کام لیتا ہے ۔ یُوں سمجھنا چاہیے کہ یہ سلطنتِ الہٰی کے اہل کار ہیں جو اللہ کے احکام کو نافذ کرتے ہیں ۔ جاہل لوگ انہیں غلطی سے خدائی میں حصّہ دار سمجھ بیٹھے اور بعض نے انہیں خدا کا رشتہ دار سمجھا اور ان کو دیوتا بنا کر ان کی پرستش شروع کر دی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :38 خلیفہ : وہ جو کسی کی مِلک میں اس کے تفویض کردہ اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے ۔ خلیفہ مالک نہیں ہوتا ، بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے ۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں ہوتے ، بلکہ مالک کے عطا کردہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے منشا کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا ، بلکہ اس کا کام مالک کے منشا کو پُورا کرنا ہوتا ہے ۔ اگر وہ خود اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے اور تفویض کردہ اختیارات کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے لگے ، یا اصل مالک کے سوا کسی اَور کو مالک تسلیم کر کے اس کے منشا کی پیروی اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے لگے ، تو یہ سب غداری اور بغاوت کے افعال ہونگے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :39 یہ فرشتوں کا اعتراض نہ تھا بلکہ استفہام تھا ۔ فرشتوں کی کیا مجال کہ خدا کی کسی تجویز پر اعتراض کریں ۔ وہ ” خلیفہ “ کے لفظ سے یہ تو سمجھ گئے تھے کہ اس زیرِ تجویز مخلوق کو زمین میں کچھ اختیارات سپرد کیے جانے والے ہیں ، مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ سلطنتِ کائنات کے اس نظام میں کسی با اختیار مخلوق کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے ، اور اگر کسی کی طرف کچھ ذرا سے بھی اختیارات منتقل کر دیے جائیں ، تو سلطنت کے جس حصّے میں بھی ایسا کیا جائے گا ، وہاں کا انتظام خرابی سے کیسے بچ جائے گا ۔ اسی بات کو وہ سمجھنا چاہتے تھے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :40 اس فقرے سے فرشتوں کا مدّعا یہ نہ تھا کہ خلافت ہمیں دی جائے ، ہم اس کے مستحق ہیں ، بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ حضور کے فرامین کی تعمیل ہو رہی ہے ، آپ کے احکام بجا لانے میں ہم پوری طرح سرگرم ہیں ، مرضیِ مبارک کے مطابق سارا جہان پاک صاف رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ آپ کی حمد و ثنا اور آپ کی تسبیح و تقدیس بھی ہم خدامِ ادب کر رہے ہیں ، اب کمی کس چیز کی ہے کہ اس کے لیے ایک خلیفہ کی ضرورت ہو ؟ ہم اس کی مصلحت نہیں سمجھ سکے ۔ ( تسبیح کا لفظ ذو معنیَین ہے ۔ اس کے معنی پاکی بیان کرنے کے بھی ہیں اور سرگرمی کے ساتھ کام اور انہماک کے ساتھ سعی کرنے کے بھی ۔ اسی طرح تقدیس کے بھی دو معنی ہیں ، ایک تقدس کا اظہار و بیان ، دُوسرے پاک کرنا ) ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :41 یہ فرشتوں کے دُوسرے شبہہ کا جواب ہے ۔ یعنی فرمایا کہ خلیفہ مقرر کرنے کی ضرورت و مصلحت میں جانتا ہوں تم اسے نہیں سمجھ سکتے ۔ اپنی جن خدمات کا تم ذکر کر رہے ہو ، وہ کافی نہیں ہیں ، بلکہ ان سے بڑھ کر کچھ مطلوب ہے ۔ اسی لیے زمین میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے جس کی طرف کچھ اختیارات منتقل کیے جائیں ۔
...
ISLAM360
.jpg)
تبصرے