RWM26102023 انجیر
غذا بھی، دوا بھی... انجیر کو جنّت کا پھل بھی کہا جاتا ہے، جو غذا اور دوا، دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔یہ بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کی پیداوار ہے۔ایک عام خیال ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کوچک سے منگول اور مغل اسے ہند و پاک لائے۔انجیر، دیگر پھلوں کی نسبت کچھ نازک پھل ہے کہ پکنے کے بعد درخت سے خودبخود ہی گرجاتا ہے اور دوسرے دِن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔اسی لیے اسے خشک کرکے محفوظ کیا جاتا ہے۔خشک کرنے کے دوران اسے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور نمک والے پانی میں کچھ دیر کے لیے ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم رہے۔ انجیر کا استعمال کم زور اور دبلے پتلے افراد کے لیے بیحد مفید ہیکہ یہ جسم کو فربہ اور سڈول کرتا ہے۔ اس میں پروٹین، معدنیات، کیلشیم، فاسفورس اور کئی مفید اجزاء پائے جاتے ہیں، البتہ وٹامن اے اور سی کی نسبت وٹامن بی اور ڈی کی مقدارکم ہوتی ہیں۔ انجیر، کھانے میں خوش ذائقہ اور قابلِ ہضم ہے۔اس کے بے شمار فوائد ہیں۔مثلاً: ٭نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ انجیر کھانے سے آدمی قولنج سے محفوظ رہتاہے۔ ...