اشاعتیں

RWM05072024 شاہراہِ قراقرم

 شاہراہ قراقرم -محض ایک سڑک نہیں ! اس عظیم الشان سڑک کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ ...

RWM03072024 خون کی بوتل

 خون کی بوتل پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال کے عام ہونے سے پہلے خون بھی شیشے کی بوتل میں مہیا کیا جاتا تھا۔ اب اگرچہ خون پلاسٹک کی تھیلی میں آتا ہے مگر بوتل کا لفظ اب بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ خون کی ایک تھیلی لگ بھگ آدھا لٹر یعنی 500cc کی ہوتی ہے جس میں 63cc ایک ایسا مائع ہوتا ہے جو خون کو تھیلی میں جمنے سے روکے رکھتا ہے۔ اس مائع کو CPD-Adenine-1 کہتے ہیں۔  مریض کو خون لگنے کے بعد مریض کا جگر CPD-Adenine-1 کو خون سے الگ کر لیتا ہے اور یہ خون دوبارہ جمنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے  CPD-Adenine-1  والا فرج میں محفوظ کیا ہوا یہ خون 35 دنوں کے اندر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خون کی تھیلی کے خون میں 50 سے 60 گرام ہیموگلوبن ہوتا ہے لیکن اس میں اقراص خون نہیں ہوتے کیونکہ خون ٹھنڈا کرنے سے اقراص خون (platelet) مر جاتے ہیں  اسی طرح خون کی تھیلی کے خون میں خون جمانے والے غیر پائیدار اجزا (labile factors) یعنی فیکٹر V اور VIII بھی نہیں ہوتے۔  خون کی تھیلی کو 2+ سے 6+ ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے۔ باورچی خانے کے فرج میں لمبے عرصے تک خون نہیں رکھا جا سکتا ک...