اشاعتیں

QURAN S2-A3 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 3  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :4 یہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوسری شرط ہے ۔ ” غیب “ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہِ راست عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں ، مثلاً خدا کی ذات و صفات ، ملائکہ ، وحی ، جنّت ، دوزخ وغیرہ ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے ، ایمان بالغیب ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لیے دیکھنے اور چکھنے اور سُونگھنے کی شرط لگائے ، اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ جا سکتی ہو تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پا سکتا ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :5 یہ تیسری شرط ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لیے آمادہ ہو جائے ۔ اور عملی اطاعت کی اوّلین علامت اور دائمی علامت ...

QURAN S2-A2 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 2  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :2 اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ’’ بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ “ مگر ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دنیا میں جتنی کتابیں امورِ مابعد الطبیعت اور حقائقِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں , وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں ، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے ، خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں ۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے ، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے ، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں ، یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :3 یعنی یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی ، مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں ۔ ان میں سے اوّلین صِفت یہ ہے کہ آدمی ” پرہیزگار “ ہو ۔ بَھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو ۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو ۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو ۔ رہے وہ ...