اشاعتیں

QURAN S2-A22 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 22  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :23 یعنی جب تم خود بھی اس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں ، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے ، دوسرا کون اس کا حق دار ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ برتا جائے ۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صِرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا وہ ” شرک “ ہے ، جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A21 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 21  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :21 اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے ، مگر اس دعوت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے ۔ لہذا پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کر دیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اٹھا سکتے ۔ اس کے بعد اب تمام نوعِ انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :22 یعنی دنیا میں غلط بینی و غلط کاری سے اور آخرت میں خدا کے عذاب سے بچنے کی توقع ۔ ۔۔۔ ISLAM360