اشاعتیں

QURAN S2-A35 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 35  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :48 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین ، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ، ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا ، تاکہ ان کے رُحجانات کی آزمائش ہو جائے ۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چن لیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے قریب نہ پھٹکنا ، اور اس کا انجام بھی بتا دیا گیا کہ ایسا کرو گے تو ہماری نگاہ میں ظالم قرار پاؤ گے ۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا ۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا ۔ اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ یہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں کس حد تک حکم کی پیروی پر قائم رہتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک چیز کا منتخب کر لینا کافی تھا ۔ اسی لیے اللہ نے درخت کے نام اور اس کی خاصیت کا کوئی ذکر نہیں فرمایا ۔ اس امتحان کے لیے جنت ہی کا مقام سب سے زیادہ موزوں تھا ۔ دراصل اسے امتحان گاہ بنانے کا مقصود یہ حقیقت انسان کے ذہن نشین کرنا تھا کہ تمہارے لیے ...

QURAN S2-A34 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 34  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :45 اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقہ کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں ، ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مُسخَّر ہو جانے کا حکم دیا گیا ۔ چونکہ اس علاقے میں اللہ کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جا رہا تھا ، اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط ، جس کام میں بھی انسان اپنے ان اختیارات کو ، جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں ، استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کر لینے کا موقع دے دیں ، تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرہ عمل سے وہ کام متعلق ہو ، وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے ۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے ، نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے ، دونوں صُورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اِذن دے رہے ہیں ، تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہو گی ۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ ایک فرماں روا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صُوبے یا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے ، تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں ، ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں ، ا...