QURAN S2-A37 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 37 سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :51 یعنی آدم کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا اور انہوں نے نافرمانی سے پھر فرماں برداری کی طرف رجوع کرنا چاہا ، اور ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اپنے رب سے اپنی خطا معاف کرائیں ، تو انہیں وہ الفاظ نہ ملتے تھے جن کے ساتھ وہ خطا بخشی کے لیے دعا کر سکتے ۔ اللہ نے ان کے حال پر رہم فرما کر وہ الفاظ بتا دیے ۔ توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں ۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا ، طریقِ بندگی کی طرف پلٹ آیا ۔ اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجّہ ہو گیا ، پھر سے نظرِ عنایت اس کی طرف مائل ہو گئی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :52 قرآن اس نظریّے کی تردید کرتا ہے کہ گناہ کے نتائج لازمی ہیں ، اور وہ بہرحال انسان کو بھگتنے ہی ہوں گے ۔ یہ انسان کے اپنے خود ساختہ گمراہ کن نظریّات میں سے ایک بڑا گمراہ کن نظریہ ہے ، کیونکہ جو شخص ایک مرتبہ گناہ گارانہ زندگی میں مبتلا ہو گیا ، اس کو یہ نظریّہ ہمیشہ کے لیے مایوس کر دیتا ہے ، اور اگر اپنی غلطی پر متنبّہ ہونے...