اشاعتیں

QURAN S2-A36 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 36  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :50 یعنی انسان کا دشمن شیطان ، اور شیطان کا دشمن انسان شیطان کا دشمن انسان ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ اسے اللہ کی فرماں برداری کے راستے سے ہٹانے اور تباہی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ رہا انسان کا دشمن شیطان ہونا ، تو فی الواقع انسانیت تو اس سے دشمنی ہی کی مقتضی ہے ، مگر خواہشاتِ نفس کے لیے جو ترغیبات وہ پیش کرتا ہے ، ان سے دھوکا کھا کر آدمی اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے ۔ اس طرح کی دوستی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقتًہ دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی ، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک دشمن دوسرے دشمن سے شکست کھا گیا اور اس کے جال میں پھنس گیا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A35 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 35  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :48 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین ، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ، ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا ، تاکہ ان کے رُحجانات کی آزمائش ہو جائے ۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چن لیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے قریب نہ پھٹکنا ، اور اس کا انجام بھی بتا دیا گیا کہ ایسا کرو گے تو ہماری نگاہ میں ظالم قرار پاؤ گے ۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا ۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا ۔ اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ یہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں کس حد تک حکم کی پیروی پر قائم رہتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک چیز کا منتخب کر لینا کافی تھا ۔ اسی لیے اللہ نے درخت کے نام اور اس کی خاصیت کا کوئی ذکر نہیں فرمایا ۔ اس امتحان کے لیے جنت ہی کا مقام سب سے زیادہ موزوں تھا ۔ دراصل اسے امتحان گاہ بنانے کا مقصود یہ حقیقت انسان کے ذہن نشین کرنا تھا کہ تمہارے لیے ...