اشاعتیں

QURAN S2-A59 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI۔۔؟ --- سورۃ البقرہ آیت 59 کی تفسیر، ترجمہ اور سبق سورۃ البقرہ آیت 59 عربی متن: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ اردو ترجمہ پھر جو لوگ ظالم تھے انہوں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ --- آیت کا پس منظر یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے ایک واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ جب وہ شہر میں داخل ہوں تو عاجزی کے ساتھ داخل ہوں اور "حِطَّةٌ" (یعنی اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما) کہیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا اور مذاق کے انداز میں دوسرے الفاظ کہنے لگے۔ اس نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے عذاب نازل فرمایا۔ --- تفسیر (مختصر وضاحت) مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ لیکن انہوں نے حکم کو بدل کر نافرما...

QURAN S2-A58 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 58  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے ، وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے ۔ لہذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا ۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو ، جو یَریْحُو کے بالمقابل دریائے ارْدن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں ، جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کر دیے ۔ ( گنتی - باب 25 ، آیت 8-1 ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :75 یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھسنا ، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا ، جیسے حضرت محمد ﷺ فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے ۔ اور حِطَّۃٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہوئے جانا ، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی...

QURAN S2-A57 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 57  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :72 یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی ، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا ۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر ، سر چھپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے ۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا ، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :73 مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں ، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں ۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی ، جو اوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی ۔ اور سَلْویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے ۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پوری کی پوری قوم محض انہی غذاؤں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اٹھانی پڑی ، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں ، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ ( مَنّ اور سَلْو...

QURAN S2-A56 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 56  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :71 یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تھے ، تو آپ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور فرقان عطا کی ، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا ۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی ۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ : ” انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا سا تھا ، جو آسمان کی مانند شفاف تھا ۔ اور اس نے بنی اسرائیل کے شرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا ۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا ۔“ ( خرُوج ، باب 24 ، آیت 11-10 ) لطْف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے ، تو اس نے فرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکت...

QURAN S2-A55 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  📖 قرآن مجید — سورۃ البقرة (آیت 55) وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ ✨ “اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم اللہٰ کو آشکار طور پر نہ دیکھ لیں، تو تمہیں کڑک (صاعقہ) نے آ لیا جبکہ تم خود اسے دیکھ رہے تھے۔”  📌 مختصر مفہوم یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک واقعے کی یاد دہانی کرتی ہے، جب اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ایمان لانے کے لیے اللہٰ پر ایمان لاؤ، لیکن وہ ایمان نہ لائے اور شرط رکھی کہ جب تک اللہٰ کو کھل کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کی اس حالت میں صاعقہ (بجلی/کڑک) کے ذریعے انہیں پکڑا، جبکہ وہ خود اسے دیکھ رہے تھے۔  یہ آیت انسان کو ایمان کے حقیقی معنی یعنی غیب پر ایمان لانے اور اللہٰ کی قدرت و روحانیت کو تسلیم کرنے کا درس دیتی ہے — نہ کہ صرف ظاہری شکل و صورت دیکھنے تک ایمان محدود رکھنا۔ ۔۔۔؟

QURAN S2-A54 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 54  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :70 یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی ۔ AI --- 📖 قرآن - سورۃ البقرہ – آیت 54 عربی متن: وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُمْ بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُو۟ا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ‎ (ترجمہ نیچے)  ترجمہ (سہح یا معتبر اردو/انگلش): “اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بے شک تم نے خود پر ظلم کیا ہے باڑا (گوسالہ) پوجنے کے ذریعے، پس اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو، یہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے، پھر تمہاری توبہ قبول ہو گئی؛ بیشک وہ (اللہ) بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”  --- 📘 آیت کا سیاق و معنیٰ (context and meaning) 🔹 اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی کراتا ہے؛ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا ک...

QURAN S2-A53 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 53  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :69 فُرقَان: وہ چیز جس کے ذریعہ سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہو ۔ اردو میں اس کے مفہوم سے قریب تر لفظ ” کَسوَٹی “ ہے ۔ یہاں فرقان سے مراد دین کا وہ علم اور فہم ہے ، جس سے آدمی حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے ۔ ISLAM360  Ai۔۔؟ 📖 آیت (عربی + ترجمہ) وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور الفرقان (وہ جس سے حق و باطل میں فرق ہوتا ہے) دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ۔  📘 معنی و مفہوم 📌 الفرقان: قرآنِ مجید اور اس کے الفاظ میں فرقان کے معنی ہیں وہ چیز جو حق و باطل میں تمیز کرے — یعنی وہ علمی ہدایت جو انسان کو سچائی اور غلطی میں فرق سکھائے۔  📌 ہدایت کا مقصد: اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب (تورات) اور فرقان لوگوں کو دی تاکہ ان کے اعمال میں ہدایت آئے، یعنی وہ سچے راستے پر چلیں اور فلاح پائیں۔  📌 تفسیر میں حوالہ: تفسیریں بیان کرتی ہیں کہ اللہ نے بنی‌اسرائیل کو تورات عطا کی تاکہ وہ آگہی حاصل کر کے راہِ ہدایت پر آئیں۔  ۔۔؟

QURAN S2-A52 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI... 📖 سورہ البقرہ – آیت 52 (2:52) عربی: ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُو۟نَ ۚ  اردو ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔  English Translation (Meaning): “Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful.”  📌 وضاحت (مختصر مفہوم): یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے، جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں گوسالے کی پوجا شروع کر دی تھی، پھر جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ نے اپنے فضل و رحم سے انہیں بخش دیا، تاکہ وہ اس احسان پر شکر گزار بنیں۔  ۔۔؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿 📖 تفسیر سورۃ البقرہ – آیت 52 آیت: ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ --- 🔎 پس منظر (شانِ نزول) یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ضمن میں نازل ہوئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں...

QURAN S2-A51 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 51  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :67 مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے ، جو اب آزاد ہو چکی تھی ، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں ۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل ، کتابِ خروج ، باب 24 تا 31  ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :68 گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا ۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج ، باب 32  میں تفصیل کے ساتھ درج ہے ) ۔ ISLAM360  AI ..؟ 📖 سورۃ البقرہ — آیت 51 کا ترجمہ وَإِذْ وَعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ 📘 اور جب ہم نے موسیٰ...

QURAN S2-A50 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ – آیت 50 کی تفسیر آیت: وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ترجمہ: “اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا، پھر تمہیں نجات دی اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کر دیا۔” --- 🔎 شانِ نزول اور پس منظر یہ آیت بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یاد دلاتی ہے۔ جب وہ مصر میں فرعون کے ظلم و ستم کا شکار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے آیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں راستہ بن گیا اور بنی اسرائیل سلامتی سے گزر گئے، لیکن جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو پانی واپس آ گیا اور وہ سب غرق ہو گئے۔ --- ✨ اہم نکاتِ تفسیر 1️⃣ “فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ” اللہ تعالیٰ نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مفسرین کے مطابق پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ 2️⃣ “فَأَنْجَيْنَاكُمْ” یہ اللہ کی خاص نصرت اور مدد تھی۔ کمز...

QURAN S2-A49 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI... 📖 قرآن 2:49 – اصل آیت (عربی اور انگریزی ترجمہ) عربی: وَإِذْ نَجَّيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ انگریزی ترجمہ (The Clear Quran): “Remember how We delivered you from the people of Pharaoh, who afflicted you with dreadful torment, slaughtering your sons and keeping your women. That was a severe test from your Lord.”  --- 📌 آیت کا مفہوم (اس کی تشریح) یہ آیت بچوں، فارس میں بنی اسرائیل کی نجات کا ذکر کرتی ہے: 🔹 اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل پر بہت ظلم ڈھایا۔ 🔹 وہ ان کے نئے پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ 🔹 اللہ تعالیٰ نے انہیں اس ظلم و ستم سے نجات دی۔ 🔹 اسی پورے واقعہ میں ایک بڑی آزمائش (بلاء) تھی — ایک طرف سخت دکھ و تکلیف، اور دوسری طرف اللہ کی بڑی نعمت اور رحمت۔  --- 🧠 تشریح کی مختصر وضاحت شیخ التفاسیر نے فرمایا ہے کہ: 📍 “بلاء” کا مفہوم نہ صرف سخت ...

QURAN S2-A48 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 48  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :63 بنی اسرائیل کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ آخرت کے متعلق ان کے عقیدے میں خرابی آ گئی تھی ۔ وہ اس قسم کے خیالاتِ خام میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ہم جلیل القدر انبیا کی اولاد ہیں ، بڑے بڑے اَولیا ، صلحا اور زہاد سے نسبت رکھتے ہیں ، ہماری بخشش تو انہیں بزرگوں کے صدقے میں ہو جائے گی ، ان کا دامن گرفتہ ہو کر بھلا کوئی سزا کیسے پا سکتا ہے ۔ اِنہیں جھوٹے بھروسوں نے ان کو دین سے غافل اور گناہوں کے چکّر میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اس لیے نعمت یاد دلانے کے ساتھ فوراً ہی ان کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ۔ ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ — آیت 48 کا اردو ترجمہ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ترجمہ: اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے بدلے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے گی، نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی، نہ کوئی فدیہ لیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں کہیں سے مدد ملے گی۔  📌 آیت کا مفہوم (تفسیر کا خلاصہ) تقویٰ او...

QURAN S2-A47 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 47  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :62 یہ اس دَور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق تھا اور جسے اقوامِ عالم کا امام و رہنما بنا دیا گیا تھا ، تاکہ وہ بندگیِ ربّ کے راستے پر سب قوموں کو بلائے اور چلائے ۔ ISLAM360  ... AI...۔ 📖 آیت (سورۃ البقرة 2:47) — عربی زبان يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ  --- 🔹 ترجمہ (اردو/انگریزی) اردو ترجمہ: اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمام عالم لوگوں پر فضیلت دی۔  English Translation: “O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.”  --- 📌 مختصر مفہوم و پس منظر 🔹 اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم کے لیے بہت سی نعمتیں بچائیں جن میں انبیاء، علم، کتابیں اور رہنمائی شامل ہیں — اور اللہ نے ا...

QURAN S2-A46 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 46  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :61 یعنی جو شخص خدا کا فرماں بردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو ، اس کے لیے تو نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے ، جسے وہ کبھی گوارا ہی نہیں کر سکتا ۔ مگر جو برضا و رغبت خدا کے آگے سرِ اطاعت خم کر چکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا بھی ہے ، اس کے لیے نماز ادا کرنا نہیں ، بلکہ نماز کا چھوڑنا مشکل ہے ۔ ISLAM360  AI... 🌿 آپ کے لنک کے مطابق یہاں Surah Al-Baqarah کی آیت 46 کی تفصیلی وضاحت پیش کی جا رہی ہے۔ --- 📖 آیت (2:46) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 📌 ترجمہ: “جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔” --- 🔎 سیاق و سباق (Context) یہ آیت اس سے پہلے والی آیت (2:45) سے مربوط ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: > “صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، اور بے شک یہ (نماز) بہت بھاری ہے مگر خشوع کرنے والوں پر نہیں۔” پھر آیت 46 میں بتایا کہ وہ خشوع والے لوگ کون ہیں؟ یعنی وہ لوگ جو آ...

QURAN S2-A45 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 45  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :60 یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے ، ان دو چیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہو جائے گی ۔ صَبْر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی ، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ اِنضباط ہے ، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے ۔ ارشاد الہٰی کا مدّعا یہ ہے کہ اس اخلاقی صفت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو ۔ ISLAM360  ... AI 🌿 📖 سورۃ البقرہ – آیت 45 کی اردو تفسیر سورۃ البقرہ آیت: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ترجمہ: “اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، اور بے شک یہ (کام) بہت بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو خشوع رکھنے والے ہیں۔” 🔎 آیت کا پس منظر یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے نازل ہوئیں، لیکن اس میں...

QURAN S2-A44 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI ۔۔۔ آیت: اَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ --- تفسیر (تشریح): یہ آیت خاص طور پر بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کر کے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تنبیہ فرما رہے ہیں جو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ 1️⃣ نیکی کی دعوت اور خود عمل نہ کرنا دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دینا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن اگر انسان خود اس پر عمل نہ کرے تو یہ سخت مذمت کا باعث بنتا ہے۔ یہ رویہ منافقت کے قریب ہے۔ 2️⃣ علم کی ذمہ داری آیت میں "تم کتاب پڑھتے ہو" کہہ کر بتایا گیا کہ علم رکھنے والوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ عالم، خطیب اور داعی اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو ان کا جرم عام آدمی سے زیادہ ہے۔ 3️⃣ عقل سے کام لینا "اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ" میں جھنجھوڑنے والا انداز ہے — یعنی کیا تم سوچتے نہیں کہ قول و فعل کا تضاد کتنا بڑا ...

QURAN S2-A43 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 43  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :59 نماز اور زکوۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں ۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی ۔ مگر یہودی ان سے غافل ہو چکے تھے ۔ نماز باجماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہو چکا تھا ۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہو چکی تھی ، اور زکوۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سود کھانے لگے تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A42 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 42  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :58 اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اہل عرب بالعموم ناخواندہ لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کے اندر ویسے بھی تعلیم کا چرچا زیادہ تھا ، اور انفرادی طور پر ان میں ایسے ایسے جلیل القدر عالم پائے جاتے تھے جن کی شہرت عرب کے باہر تک پہنچی ہوئی تھی ۔ اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا ۔ پھر ان کے علما اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رعب کو اور بھی زیادہ گہرا اور وسیع کر دیا تھا ۔ خصوصیت کے ساتھ اہل مدینہ ان سے بے حد مرعوب تھے ، کیونکہ ان کے آس پاس بڑے بڑے یہودی قبائل آباد تھے ، رات دن کا ان سے میل جول تھا ، اور اس میل جول میں وہ ان سے اسی طرح شدت کے ساتھ متاثر تھے جس طرح ایک اَن پڑھ آبادی زیادہ تعلیم یافتہ ، زیادہ متمدّن اور زیادہ نمایاں مذہبی تشخّص رکھنے والے ہمسایوں سے متاثر ہوا کرتی ہے ۔ ان حالات میں جب نبی ﷺ نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی ، تو قدرتی بات تھ...

QURAN S2-A41 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 41  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :57 تھوڑی قیمت سے مراد وہ دنیوی فائدے ہیں جن کی خاطر یہ لوگ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو رد کر رہے تھے ۔ حق فروشی کے معاوضے میں خواہ انسان دنیا بھر کی دولت لے لے ، بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے ، کیونکہ حق یقیناً اس سے گراں تر چیز ہے ۔ ISLAM360  AI قرآن کی اس آیت (البقرہ: 41) کی تفسیر میں کئی اہم نکات بیان کیے گئے ہیں: قرآن پر ایمان لانے کا حکم: اس آیت میں بنی اسرائیل کو خاص طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لائیں جو ان کی اپنی کتابوں، جیسے تورات، کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو: انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کا انکار کرنے والوں میں پہل نہ کریں، کیونکہ وہ پہلے سے ہی آخری نبی ﷺ کے منتظر تھے۔ ان کا انکار دوسروں کے لیے مثال بن سکتا تھا، جس کا گناہ بھی ان پر ہوتا۔ دنیاوی فائدے کے لیے آیات نہ بیچو: اس میں علماء کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ معمولی دنیاوی فائدے، جیسے عہدے یا مال، کے لیے اللہ کی آیات کو نہ چھپائی...

QURAN S2-A40 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 40  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :56 اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یا بندہء خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے ، جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے ۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیشِ نظر رکھنا چاہیے : اوّلاً ، اس کا منشا یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی اُمت میں جو تھوڑے بہت لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جن میں خیر و صلاح کا عنصر موجود ہے ، انہیں اس صداقت پر ایمان لانے اور اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے جس کے ساتھ محمد ﷺ اٹھائے گئے تھے ۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اور یہ نبی وہی ...