اشاعتیں

اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسارون خشک طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسارون (Asarabacca / Indian Valerian) ایک معروف جڑی بوٹی کی جڑ ہے جو قدیم ادویاتی نظاموں میں بڑی اہم حامل ہے۔ مزاج: گرم و خشک (تیسرے درجے میں)۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسارون کو ایک قوی مقوی اور محلل دوا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دماغی و اعصابی امراض: فالج، لقوہ، صرع (مرگی)، نسیان (بُھولنے کی بیماری) اور اعصابی کمزوری میں فائدہ مند ہے۔ جگر اور تلی: جگر کے سدے (انسداد) کھولتی ہے، یرقان میں مفاد پہنچاتی ہے اور جگر و تلی کی سوجن کو دور کرتی ہے۔ مجاریِ بول و حیض: مدرِ بول (پیشاب آور) اور مدرِ حیض ہے؛ گردے اور مثانے کی پتھریوں کو توڑ کر نکالنے اور احتباسِ حیض (قاعدگی کی رکاوٹ) کو دور کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ مفاصل اور درد: عرق النساء (سیاٹیکا)، جوڑوں کے درد اور نقرس میں مفید ہے۔ 2. طبِ نبوی ﷺ اور اسلامک طب طبِ نبوی ﷺ کے روایتی صحائف اور اسلامی طب کی کتابوں میں اس کے استعمالات طبِ یونانی کے بنیادی اصولوں کے تحت بیان کیے گئے ہیں: احتباسِ حیض اور پیشاب کی بندش: پیشاب اور حیض کو جاری کرنے کے لی...

پاکستان اور ہندوستان میں جڑی بوٹیوں کی لسٹ حروف تہجی میں فہرست سے حصہ 1: الف (150–250 نام)

پاکستان اور ہندوستان میں جڑی بوٹیوں کی لسٹ حروف تہجی میں فہرست سے حصہ 1: الف (150–250 نام)  پاکستان اور ہندوستان کے روایتی طریقہ علاج (طبِ یونانی اور آیوروید) میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں، پودوں اور ان کے مختلف حصوں کی حروفِ تہجی کے لحاظ سے ترتیب دی گئی فہرست درج ذیل ہے۔ یہ حصہ 1 ہے، جس میں صرف حرف "الف" (ا / آ) سے شروع ہونے والے 150 سے زائد مستند نام شامل کیے گئے ہیں تاکہ آپ کی ضرورت کے مطابق ایک جامع گائیڈ فراہم کی جا سکے۔ حصہ 1: حرفِ الف (ا — آ) سے جڑی بوٹیوں کی فہرست نمبر شمار جڑی بوٹی / پودے کا نام انگریزی / نباتیاتی نام (مثال) طبی استعمال کا حصہ 1 آک (مدار) Calotropis procera پتے، جڑ، دودھ 2 آکاش بیل (امر بیل) Cuscuta reflexa پوری بوٹی 3 آلو بخارا Prunus domestica پھل 4 آلوچہ Prunus insititia پھل 5 آملہ Phyllanthus emblica پھل (خشک و تازہ) 6 آملہ مقشر Cleaned Emblic Myrobalan گٹھلی کے بغیر پھل 7 آم (انبہ) Mangifera indica چھال، گٹھلی، پتے 8 آمبہ ہلدی Curcuma amada جڑ (گرہ) 9 ابہل (جونیپر بیری) Juniperus communis پھل / بیج 10 ابریشم (پیلو کا کویا) Bom...

ADMISSIONS BEMS

تصویر
 

شوگر جوس ۔ کریلہ دیسی خام بعمہ چھلکہ 50 گرام ادرک خام بعمہ چھلکہ 20 گرام ۔ پودینہ دیسی 1 گھٹلی ۔ لیموں دیسی 1 عدد ۔ کالا نمک 3 گرام طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  شوگر جوس  ۔ کریلہ دیسی خام بعمہ چھلکہ 50 گرام  ادرک خام بعمہ چھلکہ 20 گرام  ۔ پودینہ دیسی  1 گھٹلی  ۔ لیموں دیسی  1 عدد  ۔ کالا نمک 3 گرام  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز یہ شوگر (ذیابیطس) کے لیے ایک بہترین قدرتی اور روایتی نسخہ ہے۔ کریلہ، ادرک، پودینہ اور لیموں کا یہ مرکب نہ صرف خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ نظامِ ہضم اور جگر کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ طریقہ استعمال اور وقت طریقہ تیاری: کریلہ اور ادرک کو چھلکے سمیت دھو کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پودینہ اور تھوڑا سا پانی ملا کر بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اور چھان لیں۔ اس میں لیموں کا رس اور کالا نمک شامل کریں۔ وقت: روزانہ صبح نہار منہ (خالی پیٹ) ایک گلاس تازہ پیئیں۔ مدت: 21 سے 30 دن مسلسل استعمال کریں اور باقاعدگی سے بلڈ شوگر چیک کرتے رہیں۔ مختلف طبی طریقوں کے مطابق افادیت طبی نظام مزاج / اصول افادیت و خصائص طبِ یونانی گرم خشک (بوجہ ادرک و پودینہ) اور سرد خشک (بوجہ کریلہ) لبلبہ (Pancreas) کو فعال کرتا ہے، انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے ا...

ریحی بادی والے پھلوں سبزیوں اور گوشت طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
ریحی  بادی  والے  پھلوں  سبزیوں  اور گوشت  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز   طب یونانی، طب نبوی ﷺ، اور طب ہندی (آیوروید) میں ریحی یا بادی (جس سے پیٹ میں گیس، ترشی، اپھارہ، اور جوڑوں میں درد پیدا ہوتا ہے) اثرات رکھنے والی غذاؤں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ ان تمام طبّی نظاموں میں بادی مزاج والی غذاؤں کا متوازن استعمال اور ضرورت کے وقت ان سے پرہیز صحت کی بحالی کے لیے بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ بادی / ریحی غذاؤں کی تفصیل (پھل، سبزیاں، گوشت) غذائی زمرہ بادی / ریحی اشیاء (جن سے پرہیز یا احتیاط ضروری ہے) بادی اثر کو ختم کرنے والے تدابیر / متبادل پھل کیلا، جامن، آم (کچا یا زیادہ مقدار میں)، آلوچہ، خربوزہ (غیر متوازن کھانا) ادرک، شہد یا ہلکا نمک/کالی مرچ لگا کر استعمال کریں۔ سبزیاں گوبھی، بند گوبھی، آلو، اروی، بھنڈی، مٹر، چنا، لوبیا، دال ماش پکاتے وقت ادرک، لہسن، زیرہ، اجوائن، اور دارچینی کا استعمال کریں۔ گوشت بڑا گوشت (گائے/بھینس)، مچھلی (خصوصاً کھڑے پانی کی)، بطخ کا گوشت دارچینی، لونگ، اور دیسی گھی کے ساتھ خوب پکا کر استعمال کریں۔ ت...

اسپغول مسلم بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسپغول مسلم بیج طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسپغول مسلم سے مراد اسپغول کا پورا اور سالم بیج (Whole Psyllium Seed) ہے، یعنی بغیر چھلکا اتارے یا پیسے ہوئے بیج۔ مختلف ادویاتی نظاموں میں اس کے استعمال کی تفصیل درج ذیل ہے: طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اسپغول کا مزاج سرد و تر (درجہ دوم) مانا جاتا ہے۔ آنتوں کی اصلاح اور قبض/اسہال: یہ اپنی لعاب دار (mucilaginous) خصوصیت کے باعث آنتوں کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ قبض کی صورت میں اسے پانی کے ساتھ لیا جاتا ہے اور پیچش یا دست کی حالت میں دہی/چھاش کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ معدے کی تیزابیت اور جلن: پیٹ اور معدے کی حرارت کو سکون دیتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔ جریان و احتلام: منی کو گاڑھا کرنے اور مردانہ مسائل کی اصلاح کے لیے یونانی حکماء اسے دودھ اور مصری کے ساتھ استعمال کرواتے ہیں۔ خارجی استعمال (ضماد/لیپ): بیجوں کو پانی میں بھگو کر بننے والے لعاب کو پیشانی پر لگانے سے گرمی کے دردِ سر اور جسمانی ورم یا سوزش پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں مقام احادیثِ مبارکہ میں اسپغول کا صریح (مستقی...

اسپند طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اسپند  طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اسپند (جسے عام زبان میں حرمل یا ہرمَل بھی کہا جاتا ہے) کو قديم اور روایتی ادویاتی نظاموں میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔ طب یونانی میں استعمال: محرکِ اعصاب: عرق النساء (لنگڑی کا درد)، فالج اور لرزہ جیسے اعصابی امراض میں فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ درد کش و سوزش سوز: جوڑوں کے درد اور ریاحی سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کا جوشانہ یا تیل مستعمل ہے۔ نظامِ ہضم: پیٹ کے کیڑے خارج کرنے اور پیٹ سے بادی گیس دور کرنے میں مددگار ہے۔ ایام کی باقاعدگی: حیض کی تنگی اور رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ طب نبوی ﷺ میں ذکر و مفہوم: بعض روایات اور روایتی طب کی کتابوں (जैसे ابونعیم اور ابن قیم کی تصانیف) میں حرمل کا ذکر ملتا ہے، جہاں اسے دافعِ امراض اور اعصابی تقویت کے لیے مفید بتایا گیا ہے۔ اسے بالعموم گھروں میں برکت، جراثیم کشی اور تعفن دور کرنے کے لیے دھونی (دھواں) دینے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ طب ہندی (آیوروید) میں استعمال: جراثیم کش (Antiseptic): زچگی کے بعد یا ہوا کو پاک کرنے کے لیے اس کی دھونی دی جاتی ہ...

اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
اندرجو تلخ پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو تلخ (Indarjao Talkh / Bitter Holarrhena) اندرجو تلخ کو طبِ قدیم میں ایک اہم مصفیٰ خون، قابض اور جراثیم کش جڑی بوٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ذائقے میں نہایت کڑوی ہونے کی وجہ سے اسے "تلخ" کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال ذیابیطس (شوگر): خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرنے اور لبلبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اندرجو تلخ کے پاؤڈر کو تخمِ جامن اور کریلے کے بیجوں کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا جاتا ہے۔ پیٹ کے کیڑے: اس کا تلخ اثر معدے اور انتڑیوں کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالنے میں معاون ہوتا ہے۔ اسہال اور پیچش (Diarrhea & Dysentery): انتڑیوں کے زخم اور پرانے پیچش کو روکنے کے لیے اس کا سفوف (پاؤڈر) پانی یا چھاچھ (لسی) کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ جلد کی بیماریاں: مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے فورنسی، خارش اور داد جیسے امراض میں مفید ہے۔ طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال کُٹج (Kutaja): آیوروید میں اسے "کُٹج" کہا جاتا ہے، جو انتڑیوں اور ہضم کے نظام کی سوجن دور کرنے کی بہترین دوا سمجھی جا...

اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اندرجو شیریں پاؤڈر طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز اندرجو شیریں ( Wrightia tinctoria ) ایک معروف طبی بوٹی کا بیج ہے جسے "اندرجو میٹھا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی قابض، مصفیٰ خون اور ضدِ ذیابیطس (anti-diabetic) خصوصیات کے باعث طب یونانی اور طب ہندی (آیور وید) میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ مختلف طبی نظاموں میں استعمال طب یونانی: ذیابیطس (شوگر): اندرجو شیریں کو بادام اور بھنے ہوئے چنوں کے ساتھ ہم وزن پیس کر پاؤڈر بنایا جاتا ہے۔ یہ خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے اور بار بار پیشاب آنے کی شکایت کو دور کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔ نظامِ ہضم اور پیچش: یہ معدہ اور آنتوں کو طاقت دیتا ہے، اسہال (ڈائریا) اور پیچش (Dysentery) کو روکنے کے لیے اس کا سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔ مصفیٰ خون: جگر کی اصلاح اور خون کی صفائی کے لیے یہ فوائد فراہم کرتا ہے جس سے جلدی امراض اور خارش میں افاقہ ہوتا ہے۔ طب ہندی (آیور وید): شوٹج (Kutaja) کے متبادل/معاون کے طور پر: آیور وید میں اسے پیٹ کے کیڑے ختم کرنے اور آنتوں کی سوزش (IBS) کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ...

انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجبار کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺاور طب ہندی میں استعمال اور پرھیز انجبار (Bistort / Polygonum bistorta) کی جڑ اپنے قابض (stypic) اور خون کو روکنے والے خواص کی وجہ سے مختلف طبی نظاموں میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ 1. طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں انجبار کی جڑ کو سرد خشک (مزاج: درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ خون کا بہاؤ روکنا: یہ جڑ خون کو جمانے اور روکنے (محبسِ دم) کے لیے سب سے مشہور ہے۔ بواسیر (پیچش/خونی بواسیر)، حیض کی زیادتی (کثرتِ حیض)، ناک سے خون بہنا (نکسیر) اور معدے یا آنتوں سے خون آنے کی صورت میں اس کا جوشاندہ یا سفوف دیا جاتا ہے۔ اسہال اور پیچش: قابض خصوصیات کی بنا پر پرانے اسہال (دست) اور مروڑ/پیچش کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زخم اور سوجن: منہ کے چھالوں اور مسوڑھوں کی سوجن کے لیے اس کے پانی سے غرارے اور کلیاں کرائی جاتی ہیں۔ معروف مرکب: طبِ یونانی میں شربتِ انجبار اور جوارشِ انجبار خون کے اخراج کو روکنے اور دل و معدہ کو تقویت دینے کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ 2. طبِ ہندی (آیوروید) میں استعمال آیوروید میں انجبار (جسے اکثر Amlav...

انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز   انجدان (Ferula foetida / Asafoetida Plant) انجدان ایک مشہور دواScript اور جڑی بوٹی کا پودا ہے، جس کی جڑوں اور تنے کے رس سے "ہینگ" (Asafoetida) حاصل کی جاتی ہے۔ یونانی اور اسلامی طب میں اسے ایک قوی اور موثر دوا کا درجہ حاصل ہے۔ طبِ یونانی میں انجدان کا استعمال طبِ یونانی کے مطابق انجدان کی جڑ اور اس کا گوند (ہینگ) دونوں دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مزاج میں گرم و خشک (تیسرے درجے میں) ہوتی ہے۔  * نظامِ ہضم کی اصلاح: یہ معدے کی برودت (ٹھنڈک)، بادی اور ریاح (گیس) کو تحلیل کرتی ہے۔ پیٹ کے درد، افارے اور قبض میں بے حد مفید ہے۔  * اعصابی و جوڑوں کی بیماریاں: فالج، لقوہ، راشہ اور جوڑوں کے درد میں اس کا لیپ یا جوشاندہ مفصلات کی سوجن اور درد کو دور کرتا ہے۔  * سانس کی بیماریاں: بلغم کو خارج کرنے، دمہ، پرانی کھانسی اور کالی کھانسی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔  * قوتِ باہ اور مادہ منویہ: یہ مقوی باہ ہے اور جسم میں بادی اثرات کو ختم کر کے حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔  * کرمِ شکم: پیٹ کے کیڑوں کو ...

انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انجدان کا پودا طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز انجدان (Ferula foetida / Asafoetida Plant) انجدان ایک مشہور دواScript اور جڑی بوٹی کا پودا ہے، جس کی جڑوں اور تنے کے رس سے "ہینگ" (Asafoetida) حاصل کی جاتی ہے۔ یونانی اور اسلامی طب میں اسے ایک قوی اور موثر دوا کا درجہ حاصل ہے۔ طبِ یونانی میں انجدان کا استعمال طبِ یونانی کے مطابق انجدان کی جڑ اور اس کا گوند (ہینگ) دونوں دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مزاج میں گرم و خشک (تیسرے درجے میں) ہوتی ہے۔ نظامِ ہضم کی اصلاح: یہ معدے کی برودت (ٹھنڈک)، بادی اور ریاح (گیس) کو تحلیل کرتی ہے۔ پیٹ کے درد، افارے اور قبض میں بے حد مفید ہے۔ اعصابی و جوڑوں کی بیماریاں: فالج، لقوہ، راشہ اور جوڑوں کے درد میں اس کا لیپ یا جوشاندہ مفصلات کی سوجن اور درد کو دور کرتا ہے۔ سانس کی بیماریاں: بلغم کو خارج کرنے، دمہ، پرانی کھانسی اور کالی کھانسی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ قوتِ باہ اور مادہ منویہ: یہ مقوی باہ ہے اور جسم میں بادی اثرات کو ختم کر کے حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔ کرمِ شکم: پیٹ کے کیڑوں کو ہلاک کر کے باہر نکالتی ہے۔ طبِ...

انیسون دیسی طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  انیسون دیسی طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز انیسون (جسے بادیان رومی یا ولایتی سونف بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف دیسی جڑی بوٹی ہے۔ اس کا سائنسی نام Pimpinella anisum ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال اور فوائد طبِ یونانی میں انیسون کا مزاج گرم و خشک (درجہ دوم) تسلیم کیا جاتا ہے۔ کاسرِ ریاح (گیس کا خاتمہ): یہ پیٹ سے دیسی گیس اور اپھارہ دور کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ مقویِ معدہ و جگر: معدے اور جگر کی ضعیفی کو دور کر کے ہاضمہ درست کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔ منفثِ بلغم (بلغم کا اخراج): کھانسی، دمہ اور سینے کے بلغم کو خارج کرنے کے لیے جوشاندے کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ مدرِ بول و حیض: پیشاب اور حیض کی بندش کو کھولتا ہے اور گردے و مثانے کی سوجن میں نافع ہے۔ مفتحِ سدد: جسم کی نالیوں کے سدے (روکاوٹیں) کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں مقام اگرچہ انیسون کا صریح نام حدیث کی عام کتب میں کم ملتا ہے، لیکن اطبائے اسلام اور طبِ نبوی ﷺ کے شارحین (جیسے ابن القیم) نے بادیان/انیسون کو ان جڑی بوٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو معدے کی اصلاح اور ریاحی امراض کے علاج ...

اونٹ کٹارا کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

  اونٹ کٹارا کے پتے طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز اونٹ کٹارا (Echinops echinatus / Blepharis edulis) جسے طبِ یونانی میں ایک اہم اور معروف جڑی بوٹی مانا جاتا ہے، کے پتے اور جڑیں اپنے خاص دواؤں والے خواص کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اونٹ کٹارا کے پتوں کا مزاج عام طور پر گرم و خشک تسلیم کیا جاتا ہے۔ گردہ و مثانہ کی پتھری: پتوں کا جوشاندہ یا عرق گردے اور مثانے کی پتھری کو توڑ کر باہر نکالنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ مدرِ بول (Diuretic): یہ پیشاب آور ہے، جس سے پیشاب کی جلن، رکاوٹ اور مجاریِ بول کی سوجن کم ہوتی ہے۔ ورم اور سوزش کا خاتمہ: پتوں کو پیس کر گرم کرکے جسم کے متورم (سوجے ہوئے) حصوں یا جوڑوں کے درد پر لیپ کرنے سے سوزش اور درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ بلغم اور کھانسی: اس کے پتے بلغم کو خارج کرنے اور پرانی کھانسی و دمہ کے علاج میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جلدی امراض: پتوں کا رس یا پیسٹ خارش، پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کو صاف کرنے کے لیے بیرونی طور پر لگایا جاتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں ذکر اور استعمال ا...

ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  ایرسا کی جڑ طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز ایرسا (سوسن کی جڑ / Iris Root) طبِ یونانی اور طبِ نبوی ﷺ میں ایرسا (جسے سوسن یا زنبق کی جڑ بھی کہا جاتا ہے) ایک معروف اور اہم دوا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی مزاجاً کیفیت عام طور پر گرم اور خشک (دوسرے درجے میں) تسلیم کی جاتی ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں ایرسا کی جڑ کو متعدد امراض کے علاج اور صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے: نظامِ تنفس کی اصلاح: یہ بلغم کو خارج کرنے (مخرج بلغم) اور سداد (سدے) کھولنے کی بہترین دوا ہے۔ کھانسی، دمہ، اور سینے کی جکڑن میں اس کا قشاندا یا جوشاندہ مفید ہوتا ہے۔ ورم اور درد میں افاقہ: تحلیلِ ورم (سوجن ختم کرنے) کی خصوصیت کی وجہ سے جوڑوں کے درد، عرق النساء (لنگڑی کا درد) اور احشاء (اندرونی اعضاء) کے ورم میں اسے ضماداً (لیپ) یا مشروب کے طور پر دیا جاتا ہے۔ مقوی و منقی دماغ: سر درد، فالج اور لقوہ جیسی اعصابی بیماریوں میں دماغی سدے کھولنے کے لیے اس کا استعمال کرایا جاتا ہے۔ زخم اور جلد کی صفائی: اس کا پاؤڈر زخموں کو بھرنے، جلد کے داغ دھبے دور کرنے اور چرند پرند یا حشرات کے کاٹنے کے...

السیLinum usitatissimum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  السیLinum usitatissimum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز السی ( Linum usitatissimum ) جسے انگریزی میں Flaxseed یا Linseed کہا جاتا ہے، قدیم ترین طبی جڑی بوٹیوں اور اناج میں سے ایک ہے۔ مزاج اور طبی حیثیت مزاج: گرم درجہ دوم، تر درجہ اول (کچھ اطباء کے نزدیک گرم و خشک)۔ افعال: محلل (سوجن دور کرنے والی)، منضج (پکانے والی)، جالی (جلد صاف کرنے والی)، اور ملین (قبض کشا)۔ طب یونانی میں استعمال سینہ اور سانس کے امراض: السی کا جوشاندہ یا لعاب کھانسی، دمے، بلغم کی زیادتی اور حلق کی سوزش میں انتہائی مفید ہے۔ یہ بلغم کو نرم کر کے باہر نکالتی ہے۔ نظامِ ہضم اور قبض: السی کے بیجوں کو ہلکا بھون کر پیس کر استعمال کرنے سے پرانی قبض، معدے کی سوزش اور آنتوں کی خشکی دور ہوتی ہے۔ ورم اور سوجن (ضِماد/لیپ): السی کے سفوف کو گرم پانی یا دودھ میں ملا کر لیپ (Poultice) بنانے سے اندرونی و بیرونی ورم، پھوڑے اور سوجن تحلیل ہو جاتی ہے۔ جوڑوں کا درد: السی کے تیل (Flaxseed Oil) کی مالش سے جوڑوں کا درد، عرق النساء (Sciatica) اور عضلاتی جکڑن میں افاقہ ہوتا ہے۔ جلد اور بالوں کی دیکھ بھال: ا...

اکلیل الملک (ناخنک)Melilotus officinalis طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
اکلیل الملک (ناخنک)Melilotus officinalis طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز اکلیل الملک (جسے ناخنک یا زرد یونجہ بھی کہا جاتا ہے، سائنسی نام: Melilotus officinalis) ایک اہم طبی جڑی بوٹی ہے۔ اس کی پھلی ناخن کی طرح مڑی ہوئی ہوتی ہے، اسی لیے اسے مقامی زبان میں "ناخنک" کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی میں استعمال طبِ یونانی میں اکلیل الملک کا مزاج گرم درجہ دوم اور خشک درجہ دوم تسلیم کیا جاتا ہے: اورام کی تحلیل (سوجن کم کرنا): یہ اندرونی اور بیرونی سوجنوں (خصوصاً جگر، تلی، رحم اور جوڑوں کی سوجن) کو تحلیل کرنے کے لیے ضماد (لیپ) کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ درد کا خاتمہ: اعصابی درد، عرق النساء (لنگڑی کا درد) اور جوڑوں کے درد میں اس کا ضماد یا جوشاندہ تسکین دیتا ہے۔ واریس (وریدوں کی سوجن): خون کی نالیوں کی سوجن اور نالیوں کے جملہ امراض (Varicose veins) میں یہ خون کی گردش بہتر بناتی ہے۔ ادرارِ بول و حیض: یہ پیشاب اور حیض کو جاری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تسکینِ اعصاب: اسے نیند کی کمی (انسومنیا) اور اعصابی تناؤ کو دور کرنے کے لیے بھی تدابیر کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ میں مقام...

اکلیل الجبل (روزمیری)Rosmarinus officinalis طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اکلیل الجبل (روزمیری)Rosmarinus officinalis طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز اکلیل الجبل (روزمیری / Rosmarinus officinalis ) ایک معروف خوشبودار اور طبی جڑی بوٹی ہے، جسے عربی اور طبِ یونانی میں "اکلیل الجبل" یعنی "پہاڑ کا تاج" کہا جاتا ہے۔ ۱. طبِ یونانی میں مقام اور استعمال طبِ یونانی کی کلاسیکی کتب (مثلاً ابنِ سینا کی 'القانون فی الطب') میں اکلیل الجبل کا مفصل ذکر ملتا ہے۔ مزاج: گرم ۲° اور خشک ۲° (بعض اطباء کے نزدیک گرم ۳° و خشک ۳°)۔ افعال و خواص: مقویِ دماغ و اعصاب: دماغی کمزوری، بھولنے کی بیماری (نسیان) اور سستی کو دور کرتا ہے۔ مفتّح سدد (Reticulate unclogger): جگر، تلی اور دماغ کی نالیوں کی سدے کھولتا ہے۔ محللِ ریاح و کاسرِ ریاح: پیٹ کی گیس، بادی اور ریاحی دردوں کو ختم کرتا ہے۔ مدِرّ بول و حیض: پیشاب اور حیض کی بندش کو کھولتا ہے۔ مقویِ شعر (بالوں کے لیے): اس کا جوشاندہ یا روغن (روغنِ اکلیل الجبل) بالوں کا گرنا روکتا ہے اور سر کی سکری ختم کرتا ہے۔ ۲. طبِ نبوی ﷺ میں حیثیت مفہوم و وضاحت: احادیثِ مبارکہ کی مستند اور معروف کتب...

اکرقرہا دیسی Indian Pyrethrum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
  اکرقرہا دیسی Indian Pyrethrum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز اکرقرہا دیسی (Indian Pyrethrum - Anacyclus pyrethrum) طبِ یونانی اور روایتی طبّی نظام میں ایک انتہائی طاقتور، گرم اور خشک دوا کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس کا نباتاتی نام Anacyclus pyrethrum ہے اور طب یونانی میں اسے اعصاب اور عضلات کو تحریک دینے والی دواؤں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ طبِ یونانی میں استعمالات اعصابی کمزوریاں اور فالج: اعصاب کو طاقت دینے اور فالج، لقوہ اور رگوں کے کھچاؤ میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریاں: دیسی اکقرہا کا سفوف یا اس کا جوشاندہ دانتوں کے درد، مسوڑھوں کی سوجن اور منہ کے امراض کے لیے مفید ہے۔ گلے کی بیماریاں اور آواز کا بیٹھنا: بلغمی امراض، گلے کی خرابی اور آواز بیٹھ جانے کی صورت میں اسے شہد کے ساتھ ملا کر چاٹتے ہیں۔ مقوی باہ نسخہ جات: مردانہ کمزوری اور قوتِ باہ کو بڑھانے کے لیے یونانی طبیہ کے مغلظ اور مقوی نسخوں میں اس کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ فشارِ خون اور بلغم کا اخراج: یہ جسم سے رطوبتوں اور سرد بلغمی مادوں کو خارج کرتا ہے۔ طبِ نبوی ﷺ اور ...

اکرقرہا ولایتی Anacyclus pyrethrum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز

تصویر
 اکرقرہا ولایتی Anacyclus pyrethrum طب یونانی اور طب نبوی ﷺ میں استعمال اور پرھیز عاقرقرحا (Anacyclus pyrethrum) ایک معروف طبی جڑی بوٹی ہے، جسے انگریزی میں Pellitory root کہا جاتا ہے۔ طبِ یونانی اور روایتی ادویات میں اس کی جڑ (Root) کو بنیادی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ شدید گرم و خشک مزاج رکھتی ہے اور اعصابی و مقویِ باہ ادویات کا اہم جزو ہے۔ مزاج اور بنیادی خصائص مزاج: گرم درجہ سوم، خشک درجہ سوم۔ ذائقہ: چرپرا اور زبان پر لگاتے ہی تھوک کا اخراج بڑھاتا ہے اور زبان میں سنسناہٹ پیدا کرتا ہے۔ مستعمل حصہ: اس پودے کی جڑ۔ طبِ یونانی میں استعمالات طبِ یونانی کی کلاسیکی کتب (مثلاً القانون فی الطب) میں عاقرقرحا کے متعدد فوائد اور استعمالات بیان کیے گئے ہیں: اعصابی امراض اور فالج: یہ محرکِ اعصاب (Nerve stimulant) ہے۔ فالج، لقوہ، راعشہ (ہاتھ پیر کانپنا) اور عرق النساء (Sciatica) کے مریضوں کے لیے معجونات اور طلا (مساج آئل) میں استعمال ہوتا ہے۔ قوتِ باہ اور ممسک: مقویِ باہ اور ممسک ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اعصاب کو تقویت دے کر امساک پیدا کرتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں ...